

لاہور:(بیورو چیف/ سید ظہیر نقوی) محکمہ صحت کے طاقتور افسران نے صوبے بھر کی نرسز کو پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے کے لیے مختلف شرائط کا پابند کر کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔
محکمہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن کی شرائط میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے کے لیے صرف ان نرسز کو محکمہ این او سی جاری کیا جائے گا جو اس بات کی گارنٹی فراہم کریں گی کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد محکمے میں دو سال خدمات انجام دیں گی مگر محکمہ نے سب کچھ جانتے ہوئے حیران کن طور پہ خود ہی اپنی تشکیل کردہ پالیسی کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نرسنگ پنجاب طاہرہ پروین کو پی ایچ ڈی میں داخلے کے لیے این او سی جاری کر دیا ۔

ذرائع کے مطابق موجودہ ڈاکٹر جنرل نرسنگ طاہرہ پروین تقریبا سوا دو سال بعد اپریل 2029 میں ریٹائر ہو جائیں گے جبکہ پی ایچ ڈی کی مدت تین سال ہے یعنی طاہرہ پروین کی پی ایچ ڈی ریٹائرمنٹ کے وقت بھی مکمل نہیں ہوگی اور جب وہ ملازمت سے ہی ریٹائر ہو جائیں گی تو کس طرح ممکن ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال محکمے میں اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔
محکمہ سپیشلائز ہیلتھ کے اس اقدام پر صوبے بھر کی نرسز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ حقدار کو تو این او سی جاری نہیں ہوتا تو دوسری جانب من پسند افسران کے لیے قانون کو موم کی ناک بنا کر مرضی کے مطابق ڈھال لیا جاتا ہے۔
پنجاب بھر کی داخلے سے محروم رہ جانے والی نرسز نے وزیراعلی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ محکمے میں ہونے والی بدترین اقربا پروری کا نوٹس لیں اور این او سی جاری کرنے والے افسران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔



