
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت کی ہوس، وسائل پر قبضے کی خواہش اور مادی مفادات انسانیت پر غالب آ جاتے ہیں تو زمین کے پُرامن خطے بھی خون، خوف اور بارود کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ اگر اس حقیقت کو ایک علامتی اور تمثیلی انداز میں "ریاستِ خیالستان” کی کہانی کے ذریعے سمجھا جائے تو یہ محض ایک خیالی داستان نہیں بلکہ ہمارے عہد کے کئی تلخ پہلوؤں کی عکاسی بھی بن جاتی ہے۔
ایک وقت تھا جب "ریاستِ خیالستان” محبت، امن اور سکون کی علامت تھی۔ یہاں پہاڑ مسکراتے تھے، دریا نغمے گاتے تھے، جنگلات زندگی بانٹتے تھے، سمندر اپنی گہرائیوں میں بے شمار مخلوقات کو پناہ دیتے تھے، اور انسان خود کو فطرت کا محافظ سمجھتا تھا، مالک نہیں۔ یہاں جنگ، نفرت اور انتقام جیسے الفاظ اجنبی تھے۔ ہر طرف احترام، اخوت، رواداری اور باہمی محبت کا راج تھا۔اس ریاست کے منصف اور دوراندیش بادشاہ "نیک بخت” کے ہاں دو جڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام "امن” رکھا گیا اور دوسرے کا "طاقت”۔
وقت گزرا تو دونوں جوان ہو گئے۔ "امن” نے اپنے والد کی روایت کو آگے بڑھایا۔ وہ محبت، انصاف، فطرت کے تحفظ اور انسانوں کے درمیان بھائی چارے کا داعی بن گیا۔ لیکن "طاقت” کے دل میں اقتدار، غرور اور تسلط کی ایسی آگ بھڑک اٹھی جو دوسروں کی خوشحالی دیکھ کر مزید تیز ہوتی گئی۔ اسے ہری بھری زمینیں، آباد بستیاں، مسکراتے چہرے اور پُرسکون معاشرے ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔ وہ ہر اس چیز پر قبضہ کرنا چاہتا تھا جو اسے طاقتور بنا سکے۔
جب اس کے رویّے سے ریاست میں بے چینی پھیلنے لگی تو بادشاہ نے اسے نصیحت کی، مگر اس نے جواب دیا کہ وہ محبت کے نہیں بلکہ طاقت کے اصولوں پر اپنی دنیا تعمیر کرے گا۔ چنانچہ اسے الگ خطہ دے دیا گیا۔ابتدا میں اس نے شاندار محلات، قلعے اور مضبوط قلعہ بندیاں تعمیر کیں، لیکن جلد ہی اسے احساس ہوا کہ صرف عمارتیں ریاست نہیں بناتیں۔ چنانچہ اس نے دولت، خوف، پروپیگنڈا اور مفادات کے ذریعے دوسری بستیوں میں دراڑیں ڈالنا شروع کر دیں۔ لوگوں کو مذہب، نسل، زبان، فرقے اور مفادات کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا۔ نفرت کے بیج بوئے گئے، اعتماد ٹوٹ گیا، اور وہ بستیاں جہاں کبھی اختلاف بھی احترام کے ساتھ ہوتا تھا، وہاں خونریزی نے جنم لیا۔
جس سرزمین پر کبھی پھول کھلتے تھے، وہاں دھواں اٹھنے لگا۔ بلند عمارتیں ملبے میں بدل گئیں، بستیاں اجڑ گئیں، معصوم بچے، عورتیں اور بزرگ جنگوں کی قیمت ادا کرنے لگے، اور فطرت بھی اس آگ سے محفوظ نہ رہ سکی۔یہ کہانی کسی ایک ملک، قوم یا خطے کی نہیں بلکہ اس سوچ کی علامت ہے جو انسان اور فطرت دونوں کو صرف مفادات کی نظر سے دیکھتی ہے۔ آج دنیا کے مختلف حصوں میں جاری جنگیں، وسائل پر کشمکش، اسلحے کی دوڑ، ماحولیاتی تباہی اور معاشی مفادات کے لیے ہونے والے تنازعات ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ جب طاقت انسانیت پر غالب آ جائے تو نقصان صرف ایک فریق کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہوتا ہے۔
اسلحہ سازی کی بڑھتی ہوئی دوڑ نے خوف کو تجارت میں بدل دیا ہے۔ قدرتی وسائل پر قبضے کی کشمکش نے کئی خطوں کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے، جبکہ جنگوں کی آگ نے نہ صرف انسانوں بلکہ جنگلات، دریاؤں، سمندروں اور بے شمار بے زبان مخلوقات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ طاقتیں دنیا کی نعمتوں کو محفوظ رکھنے کے بجائے انہیں تباہی کے راستے پر دھکیل رہی ہوں۔
لیکن طاقت کی اس اندھی دوڑ میں ایک حقیقت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ اگر زمین ہی ویران ہو جائے، اگر دریا زہر آلود ہو جائیں، اگر سمندر آلودگی سے بھر جائیں، اگر جنگلات راکھ بن جائیں اور انسان ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں، تو آخر اس فتح کا فائدہ کس کو ہوگا؟
آج دنیا کے سامنے یہی بنیادی سوال کھڑا ہے۔
جب شہر اجڑ جائیں گے تو تجارت کس سے ہوگی؟
جب انسان ہی باقی نہ رہیں گے تو طاقت کا مظاہرہ کس پر ہوگا؟
جب فطرت کی نعمتیں ختم ہو جائیں گی تو دولت کس کام آئے گی؟
اور جب ہر طرف خاموشی، ویرانی اور ملبہ رہ جائے گا تو فتح کا جشن کون منائے گا؟
آخرکار "طاقت” اپنے عظیم محل میں تنہا رہ جاتا ہے۔ اس کے اردگرد نہ خوشیاں ہیں، نہ لوگ، نہ بازار، نہ بچے، نہ پرندوں کی آوازیں۔ صرف خاموشی، پچھتاوا اور ویرانی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ محبت سے خالی طاقت، دراصل اپنی ہی قبر تعمیر کرتی ہے۔
ریاستِ خیالستان ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ دنیا کو تباہ کرنا آسان ہے، مگر اسے آباد رکھنے کے لیے محبت، انصاف، رواداری، امن اور فطرت کے احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسان نے اپنی خواہشات کو عقل اور اخلاق کے تابع نہ کیا تو جنگ کی آگ صرف شہروں کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مستقبل کو بھی جلا دے گی۔ اور اس دن فاتح کوئی نہیں ہوگا، صرف شکست خوردہ انسانیت باقی رہ جائے گی۔



