انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبجرم-وسزاکاروبارکالم

ملک نہیں چل رہا

بے لگام /ستارچوہدری

 

حکومت چل رہی ، ملک نہیں چل رہا۔۔ اقتدار مضبوط ہوگیا، عوام کمزور ہوگئے۔۔ قرض بڑھ رہا ، خوشحالی نہیں۔۔ ٹیکس بڑھ رہے ، سہولتیں نہیں۔۔ اعداد و شمار بہتر ، مگر لوگوں کی زندگیاں نہیں۔۔ تقریریں بلند ، معیارِ زندگی پست ۔۔ سڑکیں چوڑی ہو گئیں، دل تنگ ہوگئے ۔۔ اشرافیہ آسودہ ، عام آدمی آزمائش میں ۔۔

ملک وسائل سے مالا مال ، عوام بنیادی ضروریات سے محروم ۔۔ قانون موجود ، انصاف غائب ۔۔ ادارے قائم ، اعتماد ختم ۔۔ عمارتیں بن رہیں، قوم بکھر رہی ۔۔ منصوبے بہت ، منزل کہیں نہیں ۔۔ بیانات بڑھ رہے ، مسائل کم نہیں ہو رہے۔۔ حکومت کا چلتے رہنا کامیابی نہیں، کامیابی یہ ہے کہ ملک چلے، معیشت چلے، ادارے چلیں، امید چلے، اور سب سے بڑھ کر عام آدمی کی زندگی چلے۔ اگر عوام رک جائیں تو پھر حکومت کے چلنے کا بھی کوئی معنی نہیں رہتا۔۔

اگر بازار ویران ہوں، صنعت سست ہو، نوجوان مایوس ہوں، کسان پریشان ہو، مزدور بے بس ہو اور متوسط طبقہ مسلسل سکڑتا جا رہا ہو، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔۔ سوویت یونین کے پاس ایٹمی ہتھیار تھے، دنیا کی طاقتور افواج میں شمار ہونے والی فوج تھی، جدید ترین اسلحہ تھا، مگر وہ پھر بھی ٹوٹ گیا۔ وجہ یہ تھی کہ جب معیشت لڑکھڑا جائے، غربت گھروں میں بسیرا کر لے اور عوام کا اعتماد ختم ہو جائے، تو توپیں اور میزائل بھی ریاست کو زیادہ دیر سہارا نہیں دے سکتے۔۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے ، ریاستیں صرف سرحدوں سے قائم نہیں رہتیں، بلکہ مضبوط معیشت، انصاف اور عوامی اعتماد پر کھڑی ہوتی ہیں۔

جب حکمران اپنی تمام تر توانائی ا پنے خاندانوں کو مضبو ط کرنے میں صرف کریں، نئی صنعتیں، نئے کاروبار، نئی منڈیاں اور نئے روزگار پیدا نہ کر سکیں، تو صرف ملکی خزانے ہی نہیں ،قوم کےحوصلےبھی خالی ہوجاتے ہیں۔۔دسترخوانی قبیلہ، سرکاری قصیدہ خواں، تعریفی بریگیڈ، مراعات کے مسافر، کاغذی کامیابیوں کے تاجر، کابینہ کے قصیدہ گو دعویٰ کررہے ہیں معیشت سنبھل رہی ہے، اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری آ رہی ہے،پوری دنیا ہماری تعریفیں کررہی ہے ،دشمن ممالک سے ہماری ترقی ہضم نہیں ہورہی ، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ بہتر ہو رہا ہے تو عام آدمی کی زندگی کیوں بہتر نہیں ہو رہی۔۔۔؟

جب ایک باپ بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل اور دو وقت کی روٹی کے درمیان فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائے تو اس کے لیے معاشی ترقی کے دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ جب نوجوان برسوں ڈگریاں اٹھائے روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتے رہیں تو ان کے لیے ترقی کے گراف کوئی تسلی نہیں بنتے۔ جب کاروبار سکڑنے لگیں اور چھوٹی صنعتیں مشکلات کا شکار ہوں تو معیشت کی بہتری کے اعلانات اور لوگوں کے روزمرہ تجربات ایک دوسرے سے مختلف نظر آ تے ہیں۔۔

ایک ریاست کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہ کتنا ٹیکس جمع کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو اس کے بدلے کیا سہولت، کیا تحفظ اور کیا مواقع فراہم کرتی ہے۔ اگر لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ آسانیاں کم ہو رہی ہیں، تو مایوسی جنم لیتی ہے، اور مایوسی کسی بھی معاشرے کے لیے خطرے کی علامت ہوتی ہے۔۔

حکومت چل رہی ، ملک نہیں چل رہا۔اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج عوام کی گفتگو میں امید کم اور بے بسی زیادہ سنائی دیتی ہے۔ چائے کے ہوٹل سے لے کر بس اڈوں تک، کھیتوں سے لے کر فیکٹریوں تک، دکانوں سے لے کر دفاتر تک، ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے۔۔۔ آخر یہ سلسلہ کب رکے گا۔۔۔؟ ایک سوال ہے،کیا عوام قربانی کیلئے پیدا ہوئی ہے؟ پٹرول مہنگا ہو تو بوجھ عوام پر۔بجلی مہنگی ہو تو بوجھ عوام پر۔ گیس مہنگی ہو تو بوجھ عوام پر۔ ٹول ٹیکس بڑھے تو بوجھ عوام پر۔

جرمانے بڑھیں تو بوجھ عوام پر۔دنیا میں کہیں جنگ ہو،بوجھ عوام پر، آخر اس ملک میں کوئی ایسا شعبہ بھی ہے جہاں عوام کو ریلیف ملتا ہو۔۔؟ جب ایک نوجوان اپنے ملک میں خواب دیکھنے سے پہلے ویزا سینٹر کی قطار کا سوچنے لگے، جب ایک مزدور صبح مزدوری ملنے سے زیادہ شام کے راشن کی فکر کرے، جب ایک سفید پوش خاندان بیماری سے زیادہ اسپتال کے بل سے خوفزدہ ہو، تو یہ صرف معاشی بحران نہیں ہوتا، یہ اعتماد کا بحران بھی ہوتا ہے۔۔ قومیں قرض لے کر نہیں چل سکتیں، نہ ٹیکس بڑھا کر ترقی کرتی ہیں۔

قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب حکومت عوام کو بوجھ نہیں، اپنی طاقت سمجھے۔ جب حکمران یہ سمجھ لیں کہ خزانے کی اصل دولت سونا یا ڈالر نہیں، بلکہ مطمئن شہری ہوتے ہیں ،کیونکہ جس دن عوام کے چہروں سے امید ختم ہو جائے، اس دن حکومت تو چلتی رہتی ہے۔۔۔ مگر ملک رکنا شروع ہو جاتا ہے۔۔ حکومت کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عوام خزانے پر بوجھ نہیں ہوتے، بلکہ خزانہ عوام کی محنت سے بنتا ہے۔

ایک مزدور کے پسینے کا قطرہ، ایک کسان کی فصل، ایک دکاندار کی تجارت، ایک صنعتکار کی سرمایہ کاری اور ایک نوجوان کی محنت ہی ریاست کی اصل دولت ہے۔ اگر یہی لوگ پریشان، مایوس اور غیر محفوظ محسوس کریں تو پھر اقتصادی منصوبے کاغذوں پر تو کامیاب دکھائی دے سکتے ہیں، مگر زمین پر ان کی گونج سنائی نہیں دیتی۔۔حکومت کا چلتے رہنا کافی نہیں ہوتا، ملک تب چلتا ہے جب بازار آباد ہوں، نوجوان پُرامید ہوں، مزدور مطمئن ہو، کسان خوشحال ہو، اور ایک عام شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی محنت اسے بہتر زندگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔۔ورنہ تاریخ صرف یہی لکھتی ہے کہ۔۔۔!!
’’حکومت چل رہی تھی، ملک نہیں چل رہا تھا ‘‘۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button