بھارتی نوجوانوں کی مزاحمت کامیاب رہی ہے وفاقی وزیر تعلیم دھرمندر پرھان نے استعفیٰ دے دیا ہے جنوبی ایشیا کی ڈھائی ارب عوام پچھلے 4 سال سے مزاحمت کی تا ریخ مرتب کر رہے ہیں سب سے پہلے نیپال پھر سری لنکا اس کے بعد بنگلہ دیش اور اب بھارت کے نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں ٭
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں٭
یہ انسانی فطرت ہے وہ تبدیلی کا خواش مند رہتا ہے جمود موت ہوتا ہے ارتقا میں ہی حیات ہے بھارتی نوجوانوں نے ایک خالص تعلیمی معاملے پر تحریک شروع کی تھی ان کا ہرگز مدعا نہیں تھا کہ وہ مودی حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں نہ ہی انکے کوئی سیاسی عزائم تھے ابھی تک نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن آف انڈیا میں اندراج نہیں کرا سکی ، بھارتی چیف جسٹس کے ریمارکس جس کی بعد میں انہوں نے تروید کی اس کے نتیجے میں وجود میں آئی پارٹی اپنی کامیابی اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے بعد اپنا سیاسی سفر شروع کرے گی کہ نہیں ابھی اس سوال کا جواب طلب ہے ۔

ماضی میں جب کانگریس کی حکومت تھی تب کرپشن کے خلاف سماجی رہنما انا ہزارے نے ایک تحریک شروع کی تھی جس کے دبائو میں آکر کانگریس حکومت نے لوک پال بل منظور کیا تھا ، بعد میں انا ہزارے سیاسی منظر نامے پر نظر نہیں آئے ،شروع میں مودی حکومت نے کاکروچ پارٹی کے احتجاج کو سیریس نہیں لیا مظاہرین پر لاٹھی چارج ہوا تشدد ہوا مگر جب راہول گاندھی کی انٹری ہوئی اور مختلف شہروں میں بھی نوجوان نکلنے شروع ہوئے تو مودی حکومت کی سوچ بدلی ۔
اس دوران مودی حکومت کو وہ بل بھی لوک سبھا میں لانے کا ارادہ موخر کرنا پڑا جس میں بھارتی قومی ترانہ بندے ماترم نہ گانے پر 3 سال قید کی سزا کی شق شامل تھی اس کی بھی ایک کہانی ہے ۔
1987 میں بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا اگر کوئی بھارتی شہری قومی ترانے کے دوران کھڑا ہو جاتا ہے گاتا اگر نہیں بھی تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ ترانے کا احترام نہیں کرتا چونکہ وہ کھڑا ہو گیا ہے تو یہ احترام کی علامت ہے ۔
بہرحال مودی حکومت نے جو کاکروچ پارٹی کے احتجاج کے سامنے ہار تسلیم کی ہے یہ بھارتی عوام کی فتح ہے، مودی نے ایک گھاگ اور دانا سیاست دان بلکہ states man ہونے کا ثبوت دیا اس نے عوامی مزاج بھانپ لیا تھا لوگ جس طرح جوک درجوک عوام اس احتجاج میں شامل ہو رہے تھے خطرہ تھا کہ ملک گیر بہت بڑا احتجاج نہ بن جائے لہذا مودی نے ایک وزیر کی قربانی دے کر اپنی حکومت بچالی ہے۔



