انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

معصوم بچوں کی موت کا ذمہ دار کون؟

فیاض احمدرانا،معروف ماہرتعلیم

لاہور کے مضافاتی علاقے کاہنہ میں ایک بوسیدہ عمارت کے ملبے سے جب چودہ معصوم بچوں کی لاشیں نکالی گئیں، تو درحقیقت وہ صرف ننھے وجود نہیں تھے بلکہ اس معاشرے کے اجتماعی ضمیر کا جنازہ تھا جو ہم سب نے مل کر اٹھایا ہے۔ چودہ گھرانوں کے چراغ ایک ہی لمحے میں گل ہو گئے، چودہ ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں اور درجنوں خواب ملبے کی دھول میں دفن ہو گئے۔ لیکن کیا یہ صرف ایک ناگہانی حادثہ تھا؟ کیا یہ محض ایک قدرتی آفت تھی جس پر آنسو بہا کر، چند لاکھ روپے کا معاوضہ بانٹ کر اور ایک روایتی انکوائری کمیٹی بنا کر اگلا صفحہ پلٹ دیا جائے؟ نہیں۔ یہ حادثہ نہیں، یہ انتظامی اداروں اور حکومتِ وقت کی مجرمانہ غفلت کا وہ منہ بولتا ثبوت ہے جس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں، جہاں پسنے والا طبقہ ہر حال میں صرف غریب ہی ہوتا ہے۔

اس پورے سانحے کے پیچھے جہاں حکومتی اداروں کی نااہلی ہے، وہاں معاشرے کے نچلے طبقے کی وہ سسکتی ہوئی غربت بھی ہے جو انسان کو موت کے سائے میں بھی کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس اکیڈمی کو چلانے والی خاتون ٹیچر کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اس ملک کے کروڑوں سفید پوش انسانوں کی طرح غربت کی چکی میں پس رہی تھی۔ اس کا شوہر سارا دن سڑکوں پر ریڑھی لگا کر سخت محنت کرتا، لیکن اس مہنگائی کے دور میں وہ اتنے کم پیسے لا پاتا تھا کہ گھر کا چولہا جلنا بھی محال ہو جاتا۔ شوہر کی قلیل آمدنی اور بچوں کے پیٹ پالنے کی فکر نے اس غریب استانی کو مجبور کیا کہ وہ چند سو روپے کی فیس کے عوض محلے کے بچوں کو اپنے تئیں علم کی روشنی بانٹے۔ وہ تو اپنے گھر کا بھرم رکھنے اور شوہر کا ہاتھ بٹانے کے لیے اکیڈمی چلا رہی تھی، اسے کیا معلوم تھا کہ جس چھت تلے وہ رزقِ حلال اور علم کا نور پھیلا رہی ہے، ریاستی اداروں کی غفلت اس چھت کو اس کے اپنے اور معصوم بچوں کے لیے قبرستان بنا دے گی۔ یہ کچی اور مخدوش چھت دراصل اس غریب استانی کی مجبور زندگی اور حکومت کی بے حسی کا وہ توازن تھی جو بالآخر گر گئی۔

ذرا تصور کیجیے، شام کے چار بجے جب معصوم بچے اپنے ہاتھوں میں کتابیں تھامے علم کی پیاس بجھانے اس اکیڈمی میں داخل ہوئے ہوں گے، تو ان کے ذہنوں میں ایک روشن مستقبل کی امیدیں ہوں گی۔ لیکن وہ ادارے کہاں سو رہے تھے جن کا کام ان مخدوش عمارات کی نگرانی کرنا اور غیر قانونی تعمیرات کو روکنا ہے؟ لاہور کی ضلعی انتظامیہ، نشتر زون کے بلڈنگ انسپکٹرز اور ایل ڈی اے کے وہ افسران جو ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر فائلوں پر دستخط کرتے ہیں، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز اور انفورسمنٹ کا عملہ صرف اس وقت جاگتا ہے جب کسی غریب کی جھونپڑی گرانی ہو یا رشوت بٹورنی ہو۔ اگر ان اداروں نے وقت پر قانون نافذ کیا ہوتا، اگر مخدوش عمارتوں کا باقاعدہ سروے کیا گیا ہوتا، تو آج چودہ مائیں اپنے جگر گوشوں کے لیے بین نہ کر رہی ہوتیں۔

ہمارے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں موت سستی ہے اور زندگی مہنگی۔ جب بھی کوئی ایسا سانحہ ہوتا ہے، حکمران طبقہ جاگتا ہے، تعزیتی بیانات کا ایک سیلاب آتا ہے”موت کی قیمت“ مقرر کی جاتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ریاست نے بیس بیس لاکھ روپے بانٹ کر اپنا فرض پورا کر دیا ہو۔ کیا کوئی رقم اس باپ کے دل کا زخم بھر سکتی ہے جس نے ایک ہی دن میں اپنے تین بچوں کے جنازوں کو کندھا دیا؟ اور کیا ریاست کا کام صرف معاوضے بانٹنا ہے؟ اس غریب ٹیچر کے خاندان کا کیا قصور ہے جو اب اکیلے اس صدمے اور قانونی شکنجے کو بھگت رہا ہے، جبکہ اصل مجرم یعنی وہ سرکاری افسران جنہوں نے اس مخدوش عمارت کو چند ٹکوں کی خاطر نظر انداز کیا، وہ اب بھی قانون کی گرفت سے دور ہیں۔ یہ معاوضے دراصل ہماری حکومتی اور انتظامی بے حسی پر ڈالا جانے والا وہ پردہ ہیں جس کے پیچھے اصل مجرم افسران کی گردنیں چھپائی جاتی ہیں۔

یہاں تاریخ کا وہ سنہرا دور یاد آتا ہے جب حکمرانی کا مطلب عیاشی نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہوتا تھا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی قول آج بھی ہمارے حکمرانوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے، آپ نے فرمایا تھا”اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ) سے اس کا حساب لیا جائے گا“۔ یہ ہوتی ہے حکمرانی، یہ ہوتا ہے رعایا کے جان و مال کا احساس۔ جہاں جانور کی موت پر بھی خلیفہ وقت لرز جاتا تھا، وہاں آج انسانوں کے معصوم بچے تڑپ تڑپ کر ملبے تلے دم توڑ دیتے ہیں اور غریب خاندان کچلے جاتے ہیں، مگر ہمارے حکمرانوں اور انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہاں چودہ بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں اور کسی ایک سرکاری افسر کو غیرت نہیں آتی کہ وہ استعفیٰ دے کر اپنی غفلت کا اعتراف کرے۔

ملبے سے جو مناظر سامنے آئے، وہ کسی بھی صاحبِ دل انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ خون آلود کاپیاں،ٹوٹے ہوئے قلم، اور مٹی میں لت پت معصوم بچوں کے جوتے۔ یہ چیزیں حکومت وقت سے سوال کر رہی ہیں کہ ہمارا قصور کیا تھا؟ حکومت وقت کو اب صرف زبانی ہمدردی کے بجائے اس غریب ٹیچر کی دادرسی بھی کرنی چاہیے جو خود اس نظام کی ماری ہوئی ہے اور ان بدعنوان بلڈنگ انسپکٹرز کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے جن کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ جب تک متعلقہ محکموں کے ان اعلیٰ حکام کو سزا نہیں ملتی، تب تک انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر آج بھی حکومت نے اس بدعنوان نظام اور انتظامی غفلت کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا، تو یاد رکھیے، اگلا ملبہ کسی اور گلی میں ہوگا اور خدانخواستہ اس کے نیچے دبنے والے بچے ہمارے اپنے ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button