دہشت گردی، ہائبرڈ وار اور پاکستان کا فیصلہ کن بیانیہ
دنیا میں کچھ قوتیں ایسی ہیں جو انسانوں کے خون، خوف اور جنگ سے اپنی سیاست کی بھوک مٹاتی ہیں۔ اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد وہی آدم خور پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ صرف ایک دہشت گرد کارروائی نہیں تھا، بلکہ پاکستان کے خلاف جاری ایک طویل اور منظم ہائبرڈ وار کی کڑی تھا۔
قرآنِ مجید واضح اعلان کرتا ہے:
“جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”
جو شخص قرآن، رسول اکرم ﷺ اور اسلامی تعلیمات کو مانتا ہے، وہ کبھی بے گناہوں کا خون نہیں بہا سکتا۔ اس لیے یہ بات فیصلہ کن ہے کہ دہشت گرد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں—وہ نہ مسلمان ہے، نہ انسانیت کا نمائندہ، وہ صرف ایک سیاسی ہتھیار اور آدم خور نظام کا کارندہ ہے۔
آدم خور انسانوں کے گوشت سے نہیں بلکہ انسانوں کے خوف اور لاشوں سے اپنی سیاست چلاتے ہیں۔ انہیں جب طاقت کی بھوک لگتی ہے تو وہ عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں، فرقہ واریت کو بھڑکاتے ہیں اور قوموں کو اندر سے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام آباد کا دھماکہ اسی آدم خور فلسفے کی ایک واضح مثال ہے—یہ اسلام کے خلاف جنگ ہے، انسانیت کے خلاف جنگ ہے اور پاکستان کے خلاف جنگ ہے۔
جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے خاص طور پر بلوچستان میں دشمن کی کمر توڑ دی ہے۔ ریاست نے واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ دہشت گرد نیٹ ورکس، علیحدگی پسند گروہوں اور ان کے بیرونی سرپرستوں کو شدید ضرب لگی ہے۔ دشمن جان چکا ہے کہ کھلی جنگ میں پاکستان کو شکست دینا ممکن نہیں، اس لیے اس نے روایتی میدان چھوڑ کر خفیہ اور پراکسی جنگ کو تیز کر دیا ہے۔
بھارت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ براہِ راست جنگ کے ساتھ ساتھ خفیہ جنگ، پراکسی نیٹ ورکس اور نفسیاتی جنگ کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ جب میدانِ جنگ میں ناکامی ہوتی ہے تو وہ اندر سے وار کرتا ہے—فرقہ واریت، دہشت گردی، میڈیا وار اور سیاسی عدم استحکام اس کی پرانی حکمت عملی ہے۔ آج پاکستان کے خلاف یہی ہائبرڈ وار پوری شدت سے جاری ہے۔
مقصد صاف ہے: پاکستان کو اندر سے توڑ دو، قوم کو فرقوں میں بانٹ دو، ریاست کو غیر مستحکم دکھاؤ، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو دباؤ میں رکھا جا سکے۔ لیکن دشمن ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔
آج پاکستان کی اصل طاقت اس کا ایٹمی پروگرام یا اس کی فوجی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ سیاسی اور عسکری اداروں کا یک زبان اور یک جان ہونا ہے۔ پاکستان کے سیاسی ادارے اور دفاعی ادارے اس وقت ایک صفحے پر ہیں، ایک قومی بیانیے پر ہیں اور ایک ہی ترجیح رکھتے ہیں: پاکستان کا دفاع اور استحکام۔
یہ اتحاد دشمنوں کے لیے ناقابلِ فہم ہے، کیونکہ وہ پاکستان کو ہمیشہ تقسیم شدہ دیکھنا چاہتے تھے۔
لیکن پاکستانی قوم اور ریاستی ادارے اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ جب تک سیاست اور فوج ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، پاکستان دشمنوں کے لیے خوف کی علامت نہیں بن سکتا۔ آج اللہ کے فضل سے وہ ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے جس نے دشمن کے منصوبوں کو کمزور، اس کے نیٹ ورکس کو بے اثر اور اس کے ہائبرڈ وار کے ہتھیاروں کو ناکام بنا دیا ہے۔
یہ صرف فوجی کامیابی نہیں، یہ ریاستی بقا کی جنگ میں فیصلہ کن موڑ ہے۔ سیاست، دفاع، ادارے اور قوم ایک مشترکہ بیانیے پر کھڑے ہیں:
پاکستان پہلے۔ ریاست پہلے۔ قوم پہلے۔
اسلام کا پیغام واضح ہے: امن، عدل اور اخوت۔ مگر جو لوگ خون سے سیاست کرتے ہیں، وہ نہ اسلام کے نمائندے ہیں نہ انسانیت کے۔ اسلام آباد کا دھماکہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آدم خور طاقتیں ابھی زندہ ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آج پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور باخبر ہے۔
اور جب ایک قوم متحد ہو جائے، اس کی فوج اور سیاسی قیادت ایک صف میں کھڑی ہو جائے، تو پھر کوئی ہائبرڈ وار، کوئی دہشت گردی اور کوئی دشمن اس قوم کو شکست نہیں دے سکتا۔



