بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

معرکۂ حق — دفاع کی فتح

عاصم رضا خیالوی

رات کی تاریکی میں دنیا کے بڑے دفاعی مراکز جاگ رہے تھے۔ سیٹلائٹ گردش کر رہے تھے، ریڈار متحرک تھے، میڈیا اسٹوڈیوز میں جنگی ترانے بج رہے تھے اور “آپریشن سندور” کو ایک ایسی فلمی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا جس کا اختتام پہلے ہی لکھا جا چکا ہو۔ اس شور میں جدید ٹیکنالوجی، عالمی انٹیلیجنس رپورٹس اور مہنگے دفاعی نظاموں کی چمک دکھائی جا رہی تھی، جیسے طاقت صرف ہتھیاروں کے نام ہو۔
مگر دوسری طرف پاکستان تھا… خاموش، پُراعتماد اور مکمل طور پر تیار۔
کچھ طاقتور حلقوں کو یقین تھا کہ سیاسی بے چینی، معاشی دباؤ اور قرضوں میں گھرا پاکستان شاید زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکے۔ ان کا خیال تھا کہ جدید اسرائیلی ڈرونز، جدید فضائی نگرانی، S-400 جیسے دفاعی نظام، رافیل طیارے اور عالمی ٹیکنالوجی کی برتری پاکستان کو نفسیاتی طور پر جھکا دے گی۔
لیکن معرکۂ حق نے دنیا کو ایک نئی حقیقت دکھائی۔
دنیا نے دیکھا کہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نمائش نہیں بلکہ اُنہیں استعمال کرنے کی مہارت، اعصاب کی مضبوطی اور قیادت کی حکمتِ عملی کا نام ہے۔
Pakistan Air Force نے صرف اپنی فضائی حدود کا دفاع نہیں کیا بلکہ جدید جنگی حکمتِ عملی کی ایسی مثال قائم کی جس نے عالمی دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا۔ دنیا نے پہلی بار محسوس کیا کہ محدود وسائل رکھنے والا ملک بھی اگر تربیت، تکنیکی مہارت اور قومی عزم رکھتا ہو تو وہ دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
یہ صرف ایک فضائی معرکہ نہیں تھا، بلکہ دو نظریات کا تصادم تھا۔
ایک طرف میڈیا کے شور، ٹیکنالوجی کے غرور اور نفسیاتی دباؤ پر یقین تھا، جبکہ دوسری طرف خاموش تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعِ وطن کا جذبہ کھڑا تھا۔
معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ جدید ڈرونز، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، میزائل شیلڈز اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی اُس وقت اپنی برتری کھو دیتی ہیں جب سامنے ایک ایسی فورس موجود ہو جو جنگ کو صرف طاقت نہیں بلکہ سائنس سمجھ کر لڑتی ہو۔
پاکستان نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ یہ قوم شاید اپنی روٹی، آسائشوں اور خواہشات پر سمجھوتہ کر لے، مگر اپنے دفاع، خودمختاری اور قومی وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے معاشی دباؤ کے باوجود قوم کو اپنی افواج کے ساتھ ایک مضبوط دیوار بنا کر کھڑا رکھا۔
اور پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس معرکے کو صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ اخلاقی برتری بھی بنا دیا۔
عالمی مبصرین کے مطابق پاکستان ایسی پوزیشن میں پہنچ چکا تھا جہاں وہ دشمن کے مزید علاقوں میں پیش قدمی کر سکتا تھا اور صورتحال ایک بڑی تباہی میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ مگر اُس وقت پاکستان نے دنیا کی سفارتی اپیلوں، خطے کے امن اور انسانی جانوں کو ترجیح دی۔
یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے اپنے جنگی جہاز واپس بلا لیے۔
وہ جہاز جو مزید کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے، مگر پاکستان نے طاقت کے باوجود تحمل کا راستہ اختیار کیا۔
یہ فیصلہ صرف ایک عسکری حکمتِ عملی نہیں تھا بلکہ ایک پیغام تھا…
کہ پاکستان جنگ چھیڑنے والا ملک نہیں بلکہ امن کو ترجیح دینے والی ایک ذمہ دار ریاست ہے۔
معرکۂ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی نظام پر گفتگو کا انداز بدل گیا۔ پہلے پاکستان کو صرف ایک ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، مگر اب اسے ایک مضبوط، منظم اور جدید دفاعی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا، جو نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا جانتی ہے بلکہ جدید جنگی تقاضوں، الیکٹرانک وارفیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز کی پیچیدگیوں کو بھی بخوبی سمجھتی ہے۔
یہ معرکہ صرف عسکری کامیابی نہیں تھا بلکہ ایک نفسیاتی، سفارتی اور نظریاتی کامیابی بھی تھا۔ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان جنگ کا خواہشمند ملک نہیں۔ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور خطے میں توازن کی بات کرتا ہے، مگر اگر اس پر جنگ مسلط کی جائے تو وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرنا بھی جانتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی سبز ہلالی پرچم صرف ایک قومی علامت نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
آج دنیا پاکستان کو صرف ایک ایٹمی طاقت نہیں بلکہ ایک مضبوط دفاعی ریاست کے طور پر دیکھتی ہے۔ ایک ایسی ریاست جو جدید ترین عالمی ٹیکنالوجی کا مقابلہ بھی کرنا جانتی ہے اور فتح کے لمحے میں امن کو ترجیح دینا بھی۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ معرکۂ حق صرف ایک جنگی داستان نہیں، بلکہ یہ اُس نظریے کی علامت بن چکا ہے جہاں طاقت کا مقصد تباہی نہیں بلکہ امن کا تحفظ ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button