ہماراالمیہ یہ ہے کہ اکثرلوگ شکرگزارہیں لیکن صرف الفاظ کی حد تک
جو انسان شکر گزاری اپناتاہے ا س کی نعمتیں کبھی کم نہیں ہوتیں
سلطنت غزنویہ کے پہلے آزاد حکمران محمود غزنوی کے دربار میں ایک دیہاتی نوجوان آ یاجس کا نام ایازتھا۔نوجوان تعلیم یافتہ نہیں تھااور ا س کے ساتھ ساتھ شاہی آداب سے بھی محروم تھا لیکن اس نے اس قدر خلوص اور محبت کے ساتھ محمود غزنوی کی خدمت کی کہ بہت جلد اس کی نظروں میں آگیا اوراس کے مقرب لوگوں میں شامل ہوگیا۔ وزرا نے جب محمودغزنوی کی ایک دیہاتی جوان کے ساتھ محبت دیکھی تو وہ اس سے حسد کرنے لگ گئے ۔تمام وزیر خود کو اعلیٰ تربیت یافتہ ، مہذب اور خاندانی سمجھتے تھے ۔وہ بادشاہ کے مشیر بھی تھے اور ان میں سے کئی لوگ اعلیٰ منصب پر بھی فائز تھے ، پھر ایسے میں ایک دیہاتی شخص کوکیسے برداشت کرسکتے تھے ،چنانچہ انھوںنے بادشاہ کی نظروں میں ایاز کی قدرو منزلت کم کرنے کی منصوبہ بندی کی اوربادشاہ کے پاس جاکر کہنے لگے کہ ’’بادشاہ سلامت!ہم کئی سال سے آپ کے وفادارہیں اور سلطنت کے اہم امور میں آ پ کے معاون رہ چکے ہیں لیکن آپ نے ایک غیر تعلیم یافتہ جوان کوہم پر ترجیح دی ہے اورہمیں نظراندازکردیا ہے۔‘‘محمود غزنوی نے کہا :’’ابھی آپ لوگ جائیں ، میں کسی اور موقع پر آپ کو جواب دوں گا۔‘‘ایک دن بادشاہ نے دربارمیں تمام وزیروںکے ساتھ ایاز کو بھی بلایااور سب کو ایک بدذائقہ اور کڑواپھل دے کرکھانے کے لیے کہا۔وزیروں نے خوش ہوکر پھل لیالیکن جیسے ہی پھل چکھاتوان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہونے لگے اور سب نے اپنا اپنا پھل ایک طرف رکھ کر کھانے سے انکار کردیا۔بادشاہ نے وزیروںکی طرف دیکھا اور اس کے بعدایاز کی طرف دیکھا تو وہ سکون سے پھل کھانے میں مصروف تھا۔بادشاہ نے ایاز کو مخاطب کرکے پوچھا:’’تمھیں یہ پھل کڑوا نہیں لگا؟‘‘۔ایاز بولا:’’بادشاہ سلامت!پھل واقعی کڑوا ہے لیکن میں کھارہا ہوں کیوں کہ آج تک آپ نے مجھے ہر طرح کی سہولت دی ہے ، مجھے بہت آرام میں رکھا ہے اور کافی کچھ میٹھا کھلایا ہے،آج اگر آپ نے مجھے کچھ کڑوا دے دیاتویہ اتنی بڑی با ت نہیں۔میں خوشی کے ساتھ اسے قبول کرتاہوں۔‘‘یہ سن کر بادشاہ نے فخریہ انداز میں وزرا کی طرف دیکھااورچہرے کے تاثرات سے بتادیاکہ میں ایاز کوتم پر ترجیح کیوں دیتاہوں۔

شکرگزاری انسانی کیفیات کی بہترین حالت ہے۔یہ اس بات کا اظہار ہے کہ دنیا میں اچھی چیزیں موجود ہیں جو ہماری زندگی کو خوش گوار بنارہی ہیں۔یہ اس چیز کا بھی اظہار ہے کہ ایک ذات پاک ایسی ہے جو ہماری طرف مختلف طرح کے تحائف بھیج رہی ہے اوران کی بدولت ہمیں خوشی ، سکون اور اطمینان مل رہا ہے۔ شکرگزاری ایسی صفت ہے جس کے ذریعے رب کی رضاحاصل کی جاسکتی ہے اور جب وہ راضی ہوجائے تواپنے شکرگزار بندے کی طرف مزید نعمتیں بھیجناشروع کردیتاہے کیوں کہ اس کا وعدہ ہے کہ
’’اگر تم شکر کروگے تو میں تمھیں اور دوں گا۔‘‘(سورۃ ابراہیم ، آیت نمبر:7)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
’’ جو انسان شکر گزاری اپناتاہے ا س کی نعمتیں کبھی کم نہیں ہوتیں۔‘‘
نک وائے چچ کہتاہے کہ
’’میں نے کسی شکرگزار کو پریشان نہیں دیکھا اور کسی پریشان کو شکرگزار نہیں دیکھا۔‘‘
رائے ٹی بینیٹ کہتاہے کہ
’’عظیم چیزیں ان لوگوں کی طرف بڑھتی ہیں جو یقین کرنا ، کوشش کرنا ، سیکھنا اور شکر گزارہونا نہیں چھوڑتے۔‘‘
محبت کی بہترین شکل ’’شکرگزاری‘‘ہے۔اس میں آپ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ میرے محبوب نے مجھ پر احسان کیا ہے اور میں اس احسان کو دل و جان سے تسلیم کرتاہوں۔جب آپ محبت کے بھرپور مظاہرے کے ساتھ کوئی عمل کرتے ہیں تو اسے شکرگزاری کہاجاتاہے جو کہ قانون کشش(Law of Attraction) کو فعال(Active) بناتی ہے اوراس کی بدولت انسان کی زندگی نعمتوں سے بھر جاتی ہے۔ہم یہ بات بتاچکے ہیں کہ ہر چیز ایک مخصوص فریکوئنسی پر کام کرتی ہے اورجب دوچیزوں کی فریکوئنسی ایک ہوجاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی جانب بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں۔آپ زندگی میں کوئی چیز شامل کرناچاہتے ہیں تو اس کے لیے اپنے اندرارتعاش (طلب)پیداکرنا ضروری ہے اور اس کی اعلیٰ ترین صورت شکر گزاری ہے۔جب ہم شکرگزار ی کامظاہرہ کرتے ہیں تو کائنات میں انتہائی مثبت اورطاقت ور لہریں بھیجتے ہیںجس کی بدولت مزید شان دارچیزوں کو اپنی زندگی میں لے آتے ہیں۔
ہماری زندگی کے ایک ایک سیکنڈ کو اللہ کی بے شمار نعمتوں نے گھیراہوا ہے ۔اللہ کی رحمت ہمارے ساتھ ہے جو ہر ہر قدم پر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہیں۔رات اپنے پر پھیلاتی ہے تو ہم پر نیند طاری ہونے لگتی ہے جو دنیا کی عظیم نعمت ہے۔یہ نیند جہاں ہماری تھکاوٹ دورکرتی ہے وہیں ہمیں ذہنی او ر جسمانی طورپرہشاش بشاش بھی کردیتی ہے اور جب اگلے دن ہم اٹھتے ہیں تو بہت کم لوگوں کو اس بات کا احساس ہوتاہے کہ رات ہم نے موت کی طرح بسر کی ہے اور اب اللہ نے نئی زندگی عطاکردی ہے۔اس کے علاوہ کھانے پینے ، بیوی بچوں او ر پرسکون گھر کی صورت میں بھی اللہ نے ہم پر ہماری حیثیت سے بڑھ کر کرم کیاہے لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ شکرگزاری کے جذبے سے سرشار ہیں اور دل سے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ہماراالمیہ یہ ہے کہ اکثرلوگ شکرگزارہیں لیکن صرف الفاظ کی حد تک۔حال آنکہ شکرگزاری میں الفاظ کاکردار صرف ایک فی صدہے، 99فی صد کردار احساس کا ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ شکرگزاری کامظاہرہ تو کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں نتائج نہیں ملتے،کیوں کہ ان کادل شکر گزاری سے خالی ہوتاہے۔ایسے لوگ جب حالات کا روناروتے ہیں اور کوئی شخص ان کی اصلاح کرتے ہوئے کہتاہے کہ آپ دل سے شکرگزار بنیں تو وہ اپنی یہ خامی تسلیم نہیں کرتے ۔ کیوں کہ ان کا نفس انھیں یہ یقین دلاتاہے کہ تمھارے اندرکوئی خامی نہیں ہے۔نفس انتہائی چال باز ہے۔ایک صوفی کا قول ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان فاصلے کی پیمائش اگرگزسے کی جائے توجتنے گز بنیں گے ،نفس کی چالاکیاں ان سے زیادہ ہیں۔
لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو رات کو سوتے ہیں لیکن صبح کی روشنی نہیں دیکھ پاتے ۔ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو کچرے سے اپنے لیے خوراک اٹھاتے ہیں، جن کے پاس سرچھپانے کے لیے کوئی چھت نہیں اور وہ سردی کی یخ بستہ راتیں فٹ پاتھ پر گزارتے ہیں۔کروڑوں لوگ ہاتھ پائوں سے معذور اور دیکھنے ،سننے سے محروم ہیں اور ان کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ کاش ہم ایک بار اپنی آنکھوں سے یہ کائنات دیکھنے کے قابل ہوجائیں۔
حال ہی میں بھارت کے سب سے امیرترین آدمی مکیش امبانی کے بیٹے اننت امبانی کی قبل ازشادی کی تقریب تھی جس میں دنیا بھر سے معروف شخصیات کو بلایا گیا تھا اوراربوں روپے لگاکرپورے شہر کوسجایاگیاتھا۔اس کے بیٹے نے ہزاروں مہمانوں کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ میری زندگی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں سے بھری ہے۔بیٹے کے ان الفاظ پر باپ کا چہرہ آنسوئوں سے ترتھا۔اننت امبانی ایسی بیماری کاشکا رہے جس میں جسم کا وزن بے تحاشا بڑھ جاتاہے۔اس کے ساتھ وہ دمے کے ماریض بھی ہے اور اس کا باپ ایشیا کا امیرترین آدمی ہوکر بھی اپنے بیٹے کو صحت مند زندگی نہیں دے سکتا۔
رب کے ساتھ ساتھ ہمیں انسانوں کابھی شکرگزار بنناچاہیے۔کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ
’’جولوگوں کا شکریہ ادانہ کرے وہ اللہ کا شکریہ ادانہیں کرے گا۔‘‘(سنن الترمذی، حدیث نمبر:1954)
مجھے جب اللہ نے اپنے شعبے میں کام یابی دی تو اس کے بعد میں نے اپنے تمام اساتذہ کوڈھونڈااور ایک ایک کا شکریہ ادا کیا۔میں نے ٹی وی پر بیٹھ کر ان کے نام لیے اوریہ تسلیم کیا کہ میری کام یابی ان شخصیات کی مرہون منت ہے۔ایک دفعہ میرے ایک استاد نے کہا کہ تم یہ بھی تو کرسکتے تھے کہ ہم سے رابطہ نہ کرتے اور نہ ہی کبھی ہمارا نام لیتے!! میں نے کہا:’’سر،اللہ کومعلوم ہے کہ آپ میرے استاد ہیں او ر آپ کی بدولت میں اس مقام تک پہنچاہوں۔‘‘
جب کسی انسان کے احسان کاعلم صرف آپ کو اور خدا کو ہوتو پھر اس انسان کے پاس جاکر اس کا شکریہ ضرور اداکیجیے۔
شکرگزاربن جائیے ،مان لیجیے کہ اس زندگی پر ہمارا کوئی حق نہیں تھا ،یہ اللہ نے ہم پر محض اپنا کرم کیا ہے۔ہمارے جسم میں مصروف عمل خلیے، رگیں اورحیرت انگیز نظام ، یہ سب اسی کی رحمت ہے جومسلسل ہم پر برس رہی ہے۔چنانچہ اب ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ ہم شکر گزار بن جائیں اورناشکری والا رویہ چھوڑدیں ۔



