یہ وطن جس کی مٹی میں شہیدوں کے لہو کی خوشبو رچی ہوئی ہے آج پھر ایک ایسی آزمائش کے دور سے گزر رہا ہے جہاں دشمن کسی ایک سرحد پر نہیں بلکہ اندرونی محاذوں پر بکھرا ہوا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ اس حقیقت کو سمجھا کہ دشمن صرف سرحد پار سے نہیں آتا بلکہ وہ ان خیالات اور نظریات میں بھی پنہاں ہوتا ہے جو دین کے نام پر خون کی تجارت کرتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جب وفاداری، عقیدہ اور قربانی کے مفہوم ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ سات اور آٹھ اکتوبر کی درمیانی رات ضلع اورکزئی میں ہونے والا آپریشن اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ ایک خفیہ اطلاع پر مبنی کارروائی میں پاک فوج کے شیر دل سپاہیوں نے ان خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو اسلام کے لبادے میں دراصل فتنہ الہند کے آلہ کار تھے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو کبھی اپنے آپ کو مجاہد، کبھی طالبان اور کبھی داعش کے نام سے متعارف کراتے ہیں مگر ان کا اصل ہدف ہمیشہ پاکستان کا امن اور استحکام رہا ہے۔

یہ آپریشن ایک ایسی رات میں ہوا جب پہاڑوں پر خاموشی چھائی تھی مگر وہ خاموشی جلد ہی گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں بدل گئی۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے علاقے میں مضبوط ٹھکانے بنا رکھے تھے اور وہ مقامی آبادی کو ڈرا دھمکا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ جیسے ہی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کیا دشمن نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف اور ان کے سیکنڈ ان کمانڈ میجر طیب راحت نے اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے بہادری کی ایک نئی مثال قائم کی۔ دونوں افسران نے دشمن کی گولیوں کے سامنے ڈٹ کر لڑائی کی اور اپنے ساتھیوں کو بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔یہ شہادت کوئی عام قربانی نہیں تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف راولپنڈی کے رہائشی تھے جنہوں نے اپنے فوجی کیریئر میں دہشت گردی کے خلاف کئی کامیاب آپریشنوں کی قیادت کی۔
میجر طیب راحت بھی اسی مٹی کے فرزند تھے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا مقصد امن کی بحالی کو بنایا۔ ان کی قیادت میں لڑنے والے نو جوان سپاہیوں نے بھی اپنے افسران کی طرح عزم و ایمان کا مظاہرہ کیا۔ان شہداء کے نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔ نائب صوبیدار اعظم گل، نائیک عادل حسین، نائیک گل امیر، لانس نائیک شیر خان، لانس نائیک طالش فراز، لانس نائیک ارشاد حسین، سپاہی طفیل خان، سپاہی عاقب علی اور سپاہی محمد زاہد۔ ان سب کا تعلق مختلف اضلاع سے تھا مگر ان کے دل ایک ہی نعرے سے دھڑکتے تھے۔۔۔ پاکستان زندہ باد۔ ان میں سے کچھ جوان نو بیاہتا تھے، کچھ کے معصوم بچے اپنے والد کے کندھوں پر کھیلنے کے منتظر رہ گئے مگر وطن کی حرمت کے آگے انہوں نے زندگی کی ہر خواہش قربان کر دی۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ دہشت گردی کی لہر کوئی اچانک جنم لینے والا طوفان نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ جب افغانستان میں سیاسی خلاء پیدا ہوا تو مختلف شدت پسند گروہوں نے وہاں سے نکل کر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پناہ لی۔ ان میں داعش خراسان جیسے گروہ شامل ہیں جو بظاہر مذہبی شدت پسندی کے علمبردار ہیں مگر درحقیقت بین الاقوامی طاقتوں کے مہرے بن چکے ہیں۔ ان کا مقصد اسلام کی خدمت نہیں بلکہ مسلم معاشروں میں انتشار پیدا کرنا ہے۔فتنہ الہند کے خوارج اسی سلسلے کی ایک شکل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو اسلام کے محافظ سمجھتے ہیں مگر ان کا ہر عمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام نے بے گناہوں کے قتل کو حرام قرار دیا مگر یہ خوارج بے گناہ شہریوں، علما، سپاہیوں اور حتیٰ کہ مسجدوں میں عبادت کرنے والوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ یہی وہ فکری دہشت گردی ہے جس کے خلاف پاک فوج کا جہاد جاری ہے۔اورکزئی کا علاقہ ماضی میں بھی شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے۔ 2007 سے 2015 تک یہاں متعدد بار فوجی آپریشنز کیے گئے جن میں علاقے کو بڑی حد تک کلیئر کرایا گیا۔ مگر افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ان گروہوں کو ایک نئی پناہ گاہ میسر آ گئی۔ اب وہ دوبارہ منظم ہو کر سرحد پار سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ان چیلنجز کے باوجود پاک فوج نے جس عزم اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا وہ غیر معمولی ہے۔ اورکزئی آپریشن میں 19 دہشت گردوں کا واصل جہنم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن جتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو ایمان، جذبے اور پیشہ ورانہ مہارت کے سامنے اس کا انجام ایک ہی ہے فنا۔یہ قربانیاں صرف ایک دن یا ایک آپریشن تک محدود نہیں۔ پچھلے دو دہائیوں میں پاک فوج کے ہزاروں افسران اور جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ یہ جنگ صرف بندوقوں کی نہیں بلکہ نظریات کی جنگ بھی ہے۔
خوارج کا مقابلہ محض گولی سے نہیں بلکہ علم، بصیرت اور فکری مزاحمت سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ جب تک قوم یہ نہیں سمجھے گی کہ شدت پسندی کا نظریہ دراصل پاکستان کے تشخص کے خلاف ہے، تب تک یہ جنگ مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔پاک فوج کا عزم واضح ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بارہا کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ آپریشن ردالفساد اور آپریشن ضربِ عضب اسی عزم کا تسلسل ہیں۔ ان آپریشنز نے ملک کے بیشتر علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا مگر اب وہ دوبارہ چھوٹے گروہوں کی شکل میں سرگرم ہیں۔ اس بار جنگ صرف پہاڑوں میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا، فکری محاذوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ان شہداء کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وطن کا دفاع صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب ایک سپاہی اپنی جان دیتا ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں بلکہ ہماری آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمیں ان کی قربانیوں کا احترام صرف زبانی دعووں سے نہیں بلکہ عملی اتحاد سے کرنا ہوگا۔فتنہ الہند کے خوارج چاہے کسی بھی نام سے آئیں ان کا مقصد ہمیشہ ایک ہی ہوگا پاکستان کو کمزور کرنا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم ہر آزمائش سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر نکلی ہے۔ چاہے کارگل کے محاذ پر دشمن کا سامنا ہو یا سوات، وزیرستان اور اورکزئی کے پہاڑوں میں دہشت گردوں کا، پاکستان کا سپاہی ہر محاذ پر سرخرو ہوا ہے۔آج جب شہداء کے جنازے ان کے آبائی علاقوں میں پہنچے تو فضا نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی۔ ماؤں نے اپنے بیٹوں کو فخر سے رخصت کیا، بچوں نے اپنے والد کے تابوت کو چوم کر کہا ہم بھی بڑے ہو کر فوجی بنیں گے۔
یہ وہ جذبہ ہےجسے دشمن کبھی شکست نہیں دے سکتا۔پاک فوج کے ان بہادر جوانوں نے جو قربانی دی وہ محض ایک لڑائی کی فتح نہیں بلکہ ایک نظریے کی بقا ہے۔ یہ قربانیاں ہمیں یہ یقین دلاتی ہیں کہ جب تک یہ سپاہی سرحدوں پر کھڑے ہیں پاکستان کا پرچم کبھی نہیں جھکے گا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور قوم ان خوارج کے نظریاتی حملوں کا جواب تعلیم، اتحاد اور قومی شعور سے دیں۔ دہشت گردی صرف گولیوں سے نہیں ختم ہوگی اسے اس سوچ سے ختم کرنا ہوگا جو انسانوں کو مذہب کے نام پر قتل کرنا جائز سمجھتی ہے۔یہ تحریر ان تمام شہداء کے نام ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں وطن کے نام وقف کر دیں۔ لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف، میجر طیب راحت اور ان کے نو ساتھیوں نے جو قربانی دی وہ اس قوم کے لیے ایک سبق ہےکہ امن قربانی مانگتا ہے اور جو قومیں اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں وہ کبھی شکست نہیں کھاتیں۔پاک فوج کا ہر سپاہی ایک عہد ہے ایک وعدہ ہے کہ اس ملک کی سرحدیں محفوظ رہیں گی۔ خوارج کے فتنوں کو چاہے کتنی بار سر اٹھانا پڑے ان کا انجام ہمیشہ ایک ہی ہوگا۔۔۔ مٹ جانا۔یہ جنگ ختم نہیں ہوئی مگر اس کے ہر شہید نے جیت کی بنیاد رکھ دی ہے۔



