انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

معرکہ حق ، غیرت مند قوم کا جرات مندانہ جواب

اقراء خان

معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر اس کی بازگشت آج بھی قوم کے دلوں میں اسی جوش، جذبے اور فخر کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔ یہ صرف ایک عسکری معرکہ نہیں تھا بلکہ قومی غیرت، اتحاد، قربانی اور حب الوطنی کا وہ تاریخی باب تھا جس نے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع، خودمختاری اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ اس معرکے میں افواجِ پاکستان نے جرات، حکمت اور پیشہ ورانہ مہارت کی نئی مثال قائم کی جبکہ عوام نے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ثابت کیا کہ دشمن کے ہر ناپاک عزائم کو ملی یکجہتی اور قومی قوت سے ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

معرکہ حق میں پاکستانی عوام نے اپنی افواج کے ساتھ ایک مضبوط چٹان کی طرح ساتھ دے کر دنیا بھر کو یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ دشمن ہماری پاک سر زمین کی جانب میلی آنکھ سے بھی دیکھے گی تو اس کی نیندیں حرام کر دیں گے۔ پاک افواج اور عوام نے جوش، جذبہ اور حوصلے کی وہ عمدہ مثال قائم کی ہے جو رہتی دنیا تک کوئی نہیں کر سکتا صرف 5 دنوں میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

بھارت پاکستان کا ازلی دشمن تھا، ہے اور رہے گا۔ اس نے پاکستان کو معاشی، معاشرتی اور دفاعی ہر محاذ پر کمزور ثابت کرنے اور عالمی سطح پر تنہا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر خود اپنے ہی عزائم اور پروپیگنڈے کے باعث دنیا بھر میں رسوا و ذلیل ہو کر رہ گیا۔ دوسری جانب پاکستانی عوام ایک ایسی ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرے جنہوں نے اتحاد، عزم اور حب الوطنی کی مثال قائم کرتے ہوئے خطے میں بھارت کی نام نہاد برتری اور جھوٹے بیانیے کو خاک میں ملا دیا۔1998ء میں پاکستان نے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے نہ صرف اپنی دفاعی خودمختاری کا اعلان کیا بلکہ پوری دنیا پر یہ حقیقت بھی آشکار کر دی کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ چاغی کے پہاڑوں میں گونجنے والے وہ دھماکے دراصل قومی غیرت، خودداری اور ناقابلِ تسخیر عزم کی علامت تھے، جنہوں نے پاکستان کو عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی قوت کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں کر دیا۔

اسی جذبۂ ایمانی، قومی وحدت اور عسکری مہارت کا عملی مظاہرہ 2025ء میں ایک بار پھر دیکھنے میں آیا، جب پاک افواج نے اپنی بے مثال جنگی حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور ناقابلِ شکست دفاعی صلاحیتوں سے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔دنیا بھر کے عسکری ماہرین اور عالمی مبصرین حیران رہ گئے کہ کس طرح پاکستان نے نہایت محدود وسائل کے باوجود جدید جنگی حکمتِ عملی اور اعلیٰ دفاعی تیاری کے ذریعے دشمن کے تمام عزائم ناکام بنا دیے۔ وہ طیارے جنہیں دنیا ناقابلِ شکست سمجھتی تھی، پاک افواج کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ فضا میں دشمن کی برتری کا غرور اس انداز سے بکھرا کہ بھارتی جنگی طاقت کا مصنوعی تاثر زمین بوس ہو کر رہ گیا۔ دشمن کے جنگی سازوسامان کا ملبہ خود اس کے جھوٹے دعوؤں اور کھوکھلے بیانیے کی گواہی دیتا رہا، جبکہ بھارتی حکومت عالمی برادری کے سامنے ہمدردی اور حمایت کی تلاش میں بے بسی کی تصویر بنی دکھائی دی۔پاکستانی قوم اور افواج نے اس معرکے میں جس اتحاد، جرات اور قربانی کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو واضح پیغام دے دیا کہ پاکستان صرف ایک ایٹمی قوت ہی نہیں بلکہ ایک باوقار، خوددار اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے۔

آج ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت کے ایوانوں میں وہ خوف اور اضطراب نمایاں ہے جو اسے پاکستان کی دفاعی طاقت اور قومی یکجہتی کے احساس سے لاحق ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن آج بھی پاکستان کی جانب میلی آنکھ اٹھانے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہے۔معرکہ حق کو نہ صرف بیرونی خطرات کے خلاف ایک اسٹریٹجک اور فوجی جواب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا بلکہ یہ قومی ہم آہنگی، مزاحمت اور تمام خطرات کے خلاف ملک کے وقار اور خودمختاری کے تحفظ کے دیرپا عزم کا ایک طاقتور مظاہرہ ہے۔

پاکستان نے زمین، فضا، سمندر کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی جنگ میں بھی دشمن کو شکست دی اور روایتی جنگ میں اپنی برتری ثابت کی۔پاک فضائیہ نے انتہائی جدید رافیل سمیت متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور ہماری آرٹلری نے دشمن کی کمر توڑ دی۔ پچھلے سال 6 اور 7 مئی کو بھارت کے بلا اشتعال میزائل اور ڈرون حملوں پر پاکستان کا ردعمل بھرپور تھا جس نے نہ صرف دشمن کی بندوقیں بلکہ اس کے توپ خانے اور جنگی طیاروں کو بھی خاموش کر دیا۔اسی ہمت اور جرات کی بدولت ہی پاکستان ایک سال بعد دنیا کی ایک خطرناک ترین جنگ کے سامنے بند باندھے کھڑا ہے۔

پاکستان نے امریکا اور ایران جنگ بندی میں ایسا عمدہ کردار ادا کیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر ششدر ہوئے بنا نہ رہ سکی۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو ایک تاریخی اور بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ ایک بڑی جنگ جو بھڑک رہی تھی اسے پاکستان نے رکوا دیا ہے اور اس کردار کے باعث مستقبل میں پاکستان کا نام مزید روشن ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button