انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینفن اور فنکار

فلم بٹوارہ 1947 ایک جائزہ

لندن:(تجزیہ/حسنین جمیل)تقسیم کا  جو گھائو پنجاب بنگال اور کشمیر نے اپنے سینے پر سہا ہے اس کی چبھن آج بھی محسوس ہوتی ہے ،دونسلوں کے بعد آج بھی اس گھائو سے کہانیاں نکل رہی ہیں،منٹو کرشن چندر نے تو وہ انسانی المیہ اپنی انکھوں سے دیکھا پھر اس پر ٹوبہ ٹیک سنگھ ، پشاور ایکسپرس ، جیسے افسانے لکھے ۔
اصغر وجاہت بھی ایک ایسے ہی ہندی اردو کےادیب  ہیں جو افسانہ نگار ، ناول نگار ، ڈرامہ نگار ہیں  انہوں نے تقسیم 1947 کے گھائو کی ایک کہانی ڈرامے کی صورت میں لکھی تھی  جس نے لاہور نہیں تکیا اوہ جمیا نئیں یہ  کہانی لاہور کی تھی جس کی  تقسیم کا اعلان ہوتا ہے کیسے انسانیت حیوانیت کے خونیں اور برہنہ ناچ کے سامنے شرما جاتی ہے یہ ناٹک بہت پسند کیا گیا تھا اصغر وجاہت کی دیگر افسانوں ، ڈراموں کی کتابوں اور ناولوں کی طرح کئی فلمساز اس پر فلم بنانا چا ہتے تھے ۔
راج کمار سنتوشی بھی ایک ایسے ہی قابل اور کامیاب فلم میکر ہیں جو سکرپٹ لکھنے اور ہدایتکاری میں ایک مقام رکھتے ہیں ، گھائل ، دامنی، گھاتک، جیسی سپر ہٹ فلمیں بنا چکے ہیں انہوں نے عامر خان سے تذکرہ کیا عامر خان ایک کامیاب ہیرو ، فلمساز اور ڈائریکٹر ہیں  اور اپنی ذات میں ایک فلم میکر  ہیں  دونوں کا اشتراک ہوا اور مرکزی کردار ، سکندر مزرا ، کے لیے چوائس بنے  سنی دیول  1983 سے ہیروآ رہے ہیں 67 سال کی عمر میں بھی سپرہٹ اور سپر فٹ ہیں ان سے بہتر اس فلم کے لئے کوئی نہیں ہو سکتا تھا ۔
عامر خان ، سنی دیول، راج کمار سنتوشی ملے یوں فلم بٹوارہ 1947 بنی جس کی گیت نگاری کی ہے جاوید اختر جیسے مہا قوی نے اور سروں کے جادو گر اے ار رحمان موسیقار ہیں ، کس قدر نابغہ روزگار ہستیاں اس فلم سے جڑی ہیں ،بٹوراہ 1947 کو فلمی قالب میں راج کمار سنتوشی  نے ڈھالا ہے یہ فلم 14 اگست کو ریلیز ہو گی۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button