
برطانیہ میں ہونے والے حالیہ یونین کونسلز کے الیکشن برطانوی سیاست میں آثار طلاطم ہیں ایک نئی سیاسی جماعت ریفارم پارٹی نے پرانے گوروسیاست کاروں کو شکست دے کرحیران کر دیا ہے ، دونوں پرانی سیاسی جماعتیں لبیر پارٹی اور کنزرویٹو اس شکست پر حیران ہیں کہ ابھی دو سال قبل تو حالات ایسے نہ تھے یہ یکایک تبدیلی کی ہوا کیسے چل پڑی؟

وزیر اعظم کیئر سٹارمر2 سال قبل ہی برطانیہ کے 58 ویں وزیر اعظم بنے ہیں کیا یہ الیکشن عوام کی طرف سے انکی پالیسوں پر عدم اعتماد ہے؟ کیا عوام تیسری جماعت کی طرف راغب ہو رہے ہیں؟ یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ 3 سال بعد برطانیہ میں جو وفاقی الیکشن ہوں گے اس میں بدلائو کی سیاست کارگر ہوتی ہے کہ نہیں ، اس نئی سیاسی جماعت کا چہرہ نائیجل فراج ہیں ریفارم پارٹی دایاں بازو کی سیاسی جماعت ہے جو بایاں بازو اور لبرلز کے خلاف ہے ان کا دعویٰ ہے کہ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی اسلامی شدت پسندی برطانیہ کی ہیت بدل سکتی ہے اگر اس کو نہ روکا گیا تویہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
بدقسمتی سے آئے روز مسلم شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے یو کے کے مسلم کسی اعتدال پسند روشن خیال مسلم رہنما سے محروم ہیں کوئی ایسا لیڈر جو ان کو جدید دنیا کے ساتھ مل کر چلا سکے ، پتہ نہیں کیوں مسلمان مرد اور عورتیں صرف شرعی حلیہ بنا کر اپنے اپ کو دیگر مذاہب سے بہتر ثابت کرنا چاہتے ہیں ، یہ ایک غلط سوچ ہے اپ دیگر مذاہب کے ساتھ مل کر ان کو اپنی طرف راغب کر سکتے ہیں اسی سوچ کا یہ نتیجہ نکلا ہے کے آج دایاں بازو کی سیاسی سوچ نے برطانوی عوام کو اپنی طرف راغب کر لیا ہے۔

آج جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد میں اصافہ ہو رہا ہے مسلمان کم سن بچیوں کے خلاف ریپ جیسے مقدمات میں بھی ملوث ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے ، سوچیں تین سال بعد جو دفاقی الیکشن ہوں گے اس میں ریفام پارٹی جیت گئی تو یو کے میں مسلمانوں کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو گا ، سوچ کو بدلنے کے لئے ایک اعتدال پسند روشن خیال مسلم سیاسی قیادت کی ضرروت ہے۔



