انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ابراہیمؑ سے محمدؐ تک ربی سلسلے کی کہانی

عمران حیدر

اگر ہم انسانی تاریخ کو غور سے دیکھیں تو ایک نہایت گہری اور معنی خیز حقیقت سامنے آتی ہے۔ وہ یہ کہ دنیا کے بڑے الہامی مذاہب دراصل ایک ہی سرچشمہء ہدایت سے نکلے ہیں۔ یہ الگ الگ داستانیں نہیں بلکہ ایک مسلسل، مربوط اور ربی سلسلہ ہے، جس کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوتا ہے اور جس کی تکمیل دینِ اسلام پر ہوتی ہے۔تقریباً چار ہزار سال قبل، موجودہ عراق کے قدیم شہر”اُر“ میں ایک ایسی عظیم شخصیت نے آنکھ کھولی جس نے انسانیت کو ایک بنیادی سچائی کی طرف بلایا۔اس کا پیغام تھا کہ اللہ ایک ہے، اور اسی کی عبادت کی جانی چاہیے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے زمانے کے باطل عقائد، بت پرستی اور شرک کو للکارا۔ انہوں نے اللہ کے حکم پر ہجرتیں کیں، بے شمار آزمائشیں برداشت کیں، حتیٰ کہ اپنی جان اور اولاد تک کو اللہ کی راہ میں پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اسلامی روایات کے مطابق، آپ مکہ مکرمہ تشریف لائے اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی، جو آج بھی توحید کا عالمی مرکز ہے۔ یہی وہ پیغامِ توحید ہے جسے بعد میں آنے والے تمام انبیاء علیہم السلام نے آگے بڑھایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے دو بڑے روحانی سلسلے وجود میں آئے۔جن میں حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد جنہیں بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت عیسیٰ علیہم السلام سمیت انبیاء کی ایک طویل جماعت یہی سلسلہ آگے چل کر یہودیت اور عیسائیت کی بنیاد بنا۔پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل عرب اقوام اور اسی نسل میں آخری نبی، حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی۔ اس طرح انسانیت کی روحانی تاریخ ایک ہی خاندان سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے، جو اللہ کے ایک ہی پیغام کو مختلف ادوار میں آگے بڑھاتا رہا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تورات عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو ایک مکمل ضابطہء حیات دیا۔ اُس دور میں وہ اللہ کا سچا دین تھا جو عدل، عبادت اور اجتماعی نظم پر مبنی تھا۔لیکن اسلامی نقطہ نظر کے مطابق، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اصل تعلیمات میں تبدیلیاں آئیں۔بعض احکامات کو بدل دیا گیااور کتابِ الٰہی اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکی۔ اس کے باوجود، اسلام یہ تسلیم کرتا ہے کہ تورات اپنی اصل صورت میں اللہ کی نازل کردہ کتاب تھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل ہی میں مبعوث ہوئے۔ آپ نے محبت، عاجزی، رحم دلی اور توحید کا درس دیا اور آپ پر انجیل نازل ہوئی۔اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے جلیل القدر نبی اور رسول ہیں۔ وہ نہ اللہ کے بیٹے ہیں اور نہ ہی معبودہیں۔وقت کے ساتھ عیسائیت میں بعض عقائد شامل ہوئے، جیسے تثلیث کا نظریہ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت جو اسلامی تعلیمات کے مطابق اصل پیغام سے مختلف ہیں۔ساتویں صدی عیسوی میں، مکہ مکرمہ سے ایک بار پھر وہی ابدی پیغام بلند ہوا کہ اللہ ایک ہے اور محمدؐ اس کے آخری رسول ہیں۔حضرت محمدؐ پر قرآن مجید نازل ہوا، جو آج تک اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ نہ اس میں کوئی اضافہ ہوا، نہ کمی۔
اسلام کی نمایاں خصوصیات میں تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا،سابق آسمانی کتابوں کی اصل شکل کی تصدیق کرنا،حضرت محمدؐ کو خاتم النبیین ماننااور قرآن کو آخری، مکمل اور محفوظ کتاب تسلیم کرنا۔
اسلام نہ صرف سابق مذاہب کی تصدیق کرتا ہے بلکہ ان کی تکمیل اور اصلاح بھی کرتا ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے یہ تینوں مذاہب دراصل ایک ہی الٰہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں۔یعنی یہودیت، شریعت اور قانون کی بنیاد ہے،عیسائیت روحانیت اور اخلاقی اصلاح کرتی ہے اور اسلام مکمل، متوازن اور آخری ہدایت ہے۔
اگر ہم تعصب سے ہٹ کر دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ سب کا مرکز توحید ہے۔? سب کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے، کئی انبیاء تینوں مذاہب میں مشترک ہیں۔فرق ہے تو آخری نبیؐ کی پہچان میں،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام میں اور الہامی تعلیمات کے محفوظ رہنے کی حد میں۔یہ تینوں مذاہب الگ الگ کتابیں نہیں بلکہ ایک ہی کتاب کے مختلف ابواب کی مانند ہیں۔پہلا باب یہودیت ہے تو دوسرا باب عیسائیت جبکہ آخری اور مکمل باب اسلام ہے۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلامجو لے کر آئے وہ ایک ہی مشن تھا۔جس میں اللہ کی بندگی، انسانیت کی رہنمائی اور عدل و اخلاق کا قیام نمایاں تھے۔ یہی پیغام آج بھی قرآن مجید کی صورت میں مکمل، محفوظ اور واضح طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔یہ ایک ایسا نورہے جو ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button