اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جہاں مشرق وسطیٰ میں تمام فوجی کارروائیاں روکنے سے متعلق روسی قرارداد منظور نہ کی تو وہیں ایک ایسی قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ پاکستان نے دونوں ہی قراردادوں کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ بظاہر یہ بات کچھ حلقوں کے لیے حیرت کا باعث بن سکتی ہے لیکن اگر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اس کے مسلسل مؤقف کو دیکھا جائے تو یہ فیصلہ نہ صرف منطقی بلکہ مکمل طور پر اصولی تھا۔
پاکستان کا آغاز ہی سے واضح موقف رہا ہے کہ خطے میں کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت قابلِ قبول نہیں، چاہے وہ ایران پر ہو یا عرب ممالک پر۔ یعنی پاکستان کا بنیادی اصول یہ ہے کہ طاقت کے استعمال اور علاقائی کشیدگی کے بجائے تنازعات کو سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو ہر اہم خبر کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے آدھی سچائی پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ گھر کے چراغ گھر جلانے پر مُصر ہیں۔ آدھی سچائی دراصل جھوٹ ہی کی ایک شکل ہوتی ہے کیونکہ جب کسی واقعے کے اصل پس منظر، اسباب اور مکمل حقائق کو چھپا کر صرف ایک حصہ پیش کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد حقیقت کو مسخ کرنا ہوتا ہے۔اس منفی رجحان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ایک طرف وہ عناصر ہیں جنہیں بجا طور پر ڈیجیٹل دہشتگرد کہا جا سکتا ہے، جو سوشل میڈیا کے ذریعے منظم انداز میں غلط معلومات، افواہیں اور اشتعال انگیز مواد پھیلا کر معاشرے میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔
دوسری طرف بیرونی ایجنڈوں پر کام کرنے والے بعض سوشل میڈیا ایکٹوسٹس بھی ہیں جو شعوری یا لاشعوری طور پر ایسی مہمات کا حصہ بن جاتے ہیں جن کا مقصد ریاستی اداروں اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو محض سیاسی اختلاف یا وقتی جذبات کی بنیاد پر ان عناصر کا آلۂ کار بن جاتا ہے۔ وہ اس بات کا ادراک کیے بغیر کہ ان کی جانب سے شیئر کی جانے والی آدھی معلومات یا غیر مصدقہ بیانیے کس طرح قومی سطح پر نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، انہی مہمات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ان قرار دادوں اور ان پر پاکستان کے سٹینڈ پر بھی یہی ہوا۔
سوشل میڈیا پر بعض افراد نے صرف اتنا لکھ کر ایک تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ "پاکستان نے ایران کے خلاف ووٹ دے دیا” جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے دونوں قراردادوں کی حمایت کر کے اصولی طور پر یہ واضح کیا کہ وہ ہر قسم کی جارحیت کے خلاف ہے۔یہ رویہ دراصل پاکستان کی اس دیرینہ خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس میں وہ خطے میں توازن، امن اور استحکام کا حامی رہا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ایران اور عرب ممالک دونوں کے ساتھ تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ ایسے میں پاکستان کسی ایک فریق کی غیر مشروط حمایت کرنے کے بجائے ہمیشہ تنازع کو کم کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اصل مسئلہ یہاں خارجہ پالیسی سے زیادہ انفارمیشن وارفیئر کا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کے دور میں خبر کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ بعض عناصر جان بوجھ کر ایسی ادھوری معلومات پھیلاتے ہیں تاکہ پاکستان کے بارے میں منفی تاثر پیدا کیا جا سکے۔ یہ عناصر کبھی مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور کبھی سیاسی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔ ان کا مقصد دراصل حقیقت بیان کرنا نہیں بلکہ ایک خاص بیانیہ قائم کرنا ہوتا ہے۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان کو نشانہ بنانے والے یہ حلقے اکثر ہر بین الاقوامی معاملے کو اندرونی سیاست کا ہتھیار بنا لیتے ہیں۔
انہیں نہ تو سفارتی پیچیدگیوں کا ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کا۔ ان کے نزدیک دنیا کے ہر مسئلے کا حل صرف جذباتی نعروں میں پوشیدہ ہوتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاستیں جذبات نہیں بلکہ مفادات اور اصولوں کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ پاکستان کا حالیہ فیصلہ اسی حقیقت کا مظہر ہے۔ اگر پاکستان صرف ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیتا اور دوسری کے خلاف جاتا تو اس سے خطے میں توازن برقرار رکھنے کی اس کی کوشش متاثر ہوتی۔
دونوں قراردادوں کی حمایت دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کو درست نہیں سمجھتالہٰذا ضروری ہے کہ عوام بھی کسی خبر پر فوری ردِعمل دینے کے بجائے اس کے مکمل پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آدھی سچائی اکثر پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ وہ حقیقت کو مسخ کر دیتی ہے۔ پاکستان کی ترجیح خطے میں امن کا قیام، تنازعات کا سفارتی حل اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ہے۔ یہی وہ اصولی مؤقف ہے جس پر پاکستان ماضی میں بھی قائم رہا ہے اور آئندہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے گا۔
پروپیگنڈا کرنے والے عناصر چاہے جتنا شور مچائیں، حقیقت یہی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف توازن، اعتدال اور امن کی حمایت پر مبنی ہے۔سیاسی اختلافات اور ناراضگیاں جمہوری معاشروں کا فطری حصہ ہوتی ہیں۔ مختلف جماعتیں، نظریات اور شخصیات اپنی اپنی سوچ اور مؤقف کے ساتھ میدانِ سیاست میں موجود رہتی ہیں اور یہی تنوع کسی بھی معاشرے کی سیاسی زندگی کو متحرک رکھتا ہے تاہم ایک بنیادی اصول ایسا ہے جس پر تمام سیاسی اور مذہبی قوتوں کو متفق ہونا چاہئے اور وہ اصول وطن سے وفاداری کا ہے۔
سیاسی یا نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن کسی بھی کارکن، رہنما یا جماعت کی پہلی اور بنیادی وفاداری اپنے ملک اور اس کے مفادات کے ساتھ ہونی چاہئے۔ ریاست کی سلامتی، قومی خودمختاری اور عوامی مفاد ایسے معاملات ہیں جن پر سیاست یا ذاتی ناراضگی کو حاوی نہیں ہونا چاہئےاور جو عناصرجان بوجھ کر اس ڈگر پر چلتے ہیں حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ انہیں ہر طریقے سے روکا جائے یا انکابائیکاٹ کیا جائے۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ یہ مملکت خداداد ہے تو ہم ہیں ، یہی ہماری شناخت ہے۔



