بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

ایمان مزاری ایڈوکیٹ مزاحمت کی عملی تصویر بن چکی ہیں ، پچھلے 3 سال سےوطن عزیز کی مزاحمتی تاریخ میں پے درپے نئے کردار وارد ہوئے ہیں جہاں سابق وزیر اعظم عمران خان مزاحمت کے ایک اساطیری کردار بن کر ابھرے ہیں انکے پیچھے پیچھے شاہ محمود قریشی سینیٹر اعجاز چوہدری سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید بھی عزم وہمت کی تاریخ رقم کر چکے ہیں۔

چودھری پرویز الٰہی کا تذکرہ نہ کرنا نامناسب ہوگا کیونکہ انہوں نے بھی اپنے روایتی مزاج کے برعکس جا کر مزاحمت کی 9 ماہ تک قید رہے اور وہ گرہ سیاستکار جو خودساختہ جلاوطنی پر مجبور ہوئے قاسم خان سوری مراد سعید اور مونس الٰہی ان سب کا ذکر کرنا ضروری ہے اگر یہ ملک میں ہوتے تو ابھی تک پاپند سلاسل ہوتے یا شاہد کہیں اور کہاں لکھنے کی تاب نہیں رکھتا کم ازکم مراد سعید اور قاسم سوری کے حوالے سے یقین ہے ، اگر اس تناظر میں خواتین کا تذکرہ انکی مزاحمت بھی کسی سے کم نہیں رہی ، باطل کو للکارنے ایمان مزاری ماہ رنگ بلوچ یاسمین راشد اور اہلیہ عمران خان بشری بی بی کے کردار پر مورخ کا قلم جو لکھے گا وہ عیاں ہے۔

ایمان مزاری پچھلے دو دن سے انصاف کی غلام گردشوں میں سر ٹکرا رہی ہے اس کا قصور صرف یہ ہے اس نے ایک طاقتور کو عدالتی کٹہرے میں لانے کی استدعا کی،اعلیٰ عدلیہ بھی ایمان کی دادرسی کرنے سے کنی کترا رہی ہے اور ایک ایک دن کی ضمانت دے رہی ہے ، یہی کچھ ماہرنگ بلوچ نے کیا تھا اپنے لاپتہ پیاروں کے لئے اونچے ایوانوں پر کمندیں ڈالیں ، ماہر رنگ بلوچ کی آج تک ضمانت نہ ہو سکی ،ڈاکٹر یاسمین راشد نہ نواز شریف کو ہرا دیا مگر فارم 47 کا لاسٹک طاقتوروں نے نواز شریف کی شلوار میں ڈال دیا ۔

سودے بازی کرکے یاسمین راشد کو تختہ مشق بنایا ہوا ہے ، حیران ہوں ایمان مزاری ماہ رنگ بلوچ یاسمین راشد تو بولنے میں مہارت رکھتی ہیں سیاست کار ہیں قانون دان ہیں مگر یہ بشری بی بی تو کچھ بھی نہیں شخصیت بھی متاثر کن بولنے میں بھی مہارت نہیں مگر صرف ایک قصور ہے کہ اس ابتلا کے دور میں بھی کپتان کا ساتھ نہ چھوڑا لہذا سزا تو بنتی ہے ،یہ بھولے اقبال کے کہنے پر ستاروں پر کمندیں تو ڈال چکے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ مقابلہ کن کے ساتھ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button