لاہور ( بیورو چیف/سید ظہیر نقوی) لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹول کا آغاز ہوگیا۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران شہری اپنے بچوں اور ماحول کے تحفظ کا خاص خیال رکھیں۔ ادھر کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے لیگل ایڈوائرز ایڈووکیٹ ملک فیضان احمد نے کہا ہے کہ لاہور میں ایک ارب 22کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت ہوئی ہے۔
ملک فیضان احمد کے مطابق اندرون موچی گیٹ مارکیٹ، اسلامپورہ، ساندہ، سمن آباد، نوناریاں اور اچھرہ سمیت دیگر علاقوں میں پتنگوں ، گڈوں اور پنوں کی خرید و فروخت جاری ہے۔ دوسری جانب بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے شہر میں دفعہ 144نافذ ہے، بسنت میں مذہبی ہم آہنگی اور امن عامہ برقرار رکھنے کیلئے بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں ۔ محکمہ داخلہ نے بسنت کے حوالے سے خصوصی سکیورٹی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔ ریسکیو 1122کو مکمل الرٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی عائد ہے، ساتھ ہی کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی پابندی عائد ہے۔ مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خریدوفروخت اور استعمال پر دفعہ 144کے تحت پابندی عائد ہے۔ لاہور میں بسنت میں بغیر تصویر رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ دفعہ 144کی خلاف ورزی پر قانون نافذ کرنیوالے ادارے سخت کارروائی کریں گے۔ پنجاب حکومت نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی، بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025کے تحت دھاتی تار و نائلون ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے۔ لاہور میں بسنت کے دوران موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈ کا استعمال لازم ہے۔
محکمہ داخلہ نے بسنت کے حوالے سے خصوصی سکیورٹی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں، جن کے مطابق انتظامیہ و پولیس کو بسنت بارے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر من و عن عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر گاڑیوں کی سخت چیکنگ اور سکیننگ کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہوائی فائرنگ و اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی، خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کی علاوہ ریسکیو 1122کو مکمل الرٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مزید برآں بسنت کے موقع پر موٹرسائیکل پرسیفٹی راڈ نہ لگوانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس اختیار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سیفٹی راڈ نہ لگانے والی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر نہیں آنے دی جائیں گی اور تھانوں میں بند کر دی جائیں گی۔ ادھر بسنت سے قبل پتنگ بازی کے شوقین افراد کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی نے بسنت کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے زیرِ انتظام لاہور کے تمام چھوٹے اور بڑے پارکس میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ پی ایچ اے کے مطابق بڑے پارکس میں بسنت فیسٹیول کا انعقاد ضرور ہو گا، تاہم ان مقامات پر بھی پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی طرح گرین بیلٹس اور سبزہ زاروں میں بھی پتنگ بازی کی ممانعت ہو گی۔
پی ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی وجوہات اور پارکس میں شہریوں اور سیاحوں کے رش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تمام ڈائریکٹرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے زیرِ انتظام پارکس میں پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ڈائریکٹرز کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
پی ایچ اے کے مطابق جیلانی پارک ریس کورس، گلشنِ اقبال پارک اور سینٹر پوائنٹ پارک گلبرگ میں پتنگ بازی کی مکمل ممانعت ہو گی، جبکہ گریٹر اقبال پارک، باغِ جناح، قرشی پارک اور شاہدرہ پارک میں بھی پتنگ بازی پر پابندی عائد رہے گی۔ مزید برآں پنجاب پولیس کے انسداد پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر صوبہ بھر میں جاری کریک ڈائون کے دوران گزشتہ 24گھنٹے کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں 141مقدمات درج کئے گئے جبکہ 153ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائیوںکے دوران ملزمان کے قبضے سے 22ہزار غیر منظور شدہ پتنگیں اور 570 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔
لاہور میں غیر قانونی پتنگوں کے کاروبار میں ملوث 81 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2807 پتنگیں برآمد ہوئیں۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال صوبے میں دھاتی ڈور اور پتنگوں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث 4171 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار افراد سے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پتنگیں اور 7985 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پتنگ بازوں، مینو فیکچررز اور پتنگیں فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پتنگ بازی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک کریک ڈائون جاری رکھا جائے گا۔



