ٹرمپ’’ پاگل شخص ‘‘،ایران کیخلاف جنگ میں شکست،خودیرغمال بن گئے؟
نکسن نے بھی غیرمتوقع رویے سے دشمن کو ڈرانا چاہا لیکن ناکام رہے، ویتنام جنگ جیتی نہ جا سکی اور استعفیٰ دینا پڑا،ٹرمپ کو تو نتائج کی بھی پروا نہیں:دی گارڈین

لندن:(ویب ڈیسک)برطانوی اخبار دی گارڈین نے ایک تجزیے میں بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ ہار چکے ہیں اور اب وہ خود ایران کے یرغمال بن گئے ہیں۔
امریکی صحافی اور سابق صدر بل کلنٹن کے سینئر مشیر سڈنی بلو مینتھل کے تجزیاتی مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ٹرمپ کے تمام دعوے ہوا میں بکھر چکے ہیں۔ نہ کوئی نظام کی تبدیلی ہوئی، نہ بغاوت اور نہ ہی وینزویلا ماڈل کے مطابق تیل کی دولت تک رسائی ملی۔ قیادت کے خاتمے کی حکمت عملی بھی حکومت کو گرانے میں ناکام رہی۔ بنا سوچے سمجھے اس فوجی اقدام پر اب خود ٹرمپ ہی تنقید کا نشانہ بن گئے ہیں۔
ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ اس نے محض 21 میل چوڑے اس راستے کے ذریعے عالمی معیشت کو بھی جکڑ لیا ہے۔ٹرمپ کی بیان بازی اور دفاع دراصل اپنی ناکامی کو نظرانداز کرنے کا دکھاوا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی میں اگر کوئی تسلسل ہے تو وہ صرف اپنی ابتدائی غلطی کو درست ثابت کرنے اور اس کے نتائج سے نکلنے کی بے چین کوشش کا ہے۔ معاہدوں کے فن میں ایران نے خود کو فاتح ثابت کیا ۔ٹرمپ نے 6 مارچ کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا مگر 20 مارچ کو خود ہی پسپائی اختیار کر لی۔ ایران نے چند ڈرون حملوں کے ذریعے دباؤ ڈال کر ٹرمپ کو تیل کی وہ پابندیاں ہٹانے پر مجبور کر دیا جو 1995 سے نافذ تھیں۔ اس طرح ٹرمپ کا داؤ خالی گیا اور وہ پیچھے ہٹ گئے۔
ٹرمپ ایک طرح سے ’’پاگل شخص کا نظریہ‘‘پر عمل کر رہے ہیں لیکن بغیر کسی حکمت عملی کے۔ سابق صدر رچرڈ نکسن نے 1969ء میں یہ نظریہ اپنایا تھا تاکہ دشمن کو غیر متوقع رویے سے ڈرایا جا سکے لیکن وہ بھی ناکام رہے، ان کی دھمکیاں بھی ویتنام جنگ جیتنے میں مددگار ثابت نہ ہوئیں اور آخرکار انہیں واٹرگیٹ سکینڈل کے باعث استعفیٰ دینا پڑا۔
رچرڈ نکسن کے برعکس ٹرمپ کو گہرائی سے سوچنے کی عادت ہے نہ نتائج کی پروا۔ان کی بنیادی ترجیح فوری فائدہ حاصل کرنا ہے، ان کی انتظامیہ انتشار کا شکار نظر آتی ہے اور وائٹ ہاؤس افراتفری کا منظر پیش کرتا ہے۔ٹرمپ کے قریبی مشیر بھی غیر سنجیدہ بیانات دیتے نظر آتے ہیں۔اگر ایران جنگ پر کبھی ’’پینٹاگون پیپرز‘‘ جیسی کوئی دستاویزات سامنے آئی تو ٹرمپ کے فیصلوں کے پس منظر میں دو واقعات اہم ہوں گے۔
ایک اپریل 2025 کا واقعہ جب ایک دائیں بازو کی شخصیت نے قومی سلامتی کونسل کے ماہرین کے خلاف الزامات لگائےجس کے نتیجے میں کئی تجربہ کار افراد کو برطرف کر دیا گیا۔ ان میں ایران کے ماہر نیٹ سوانسن بھی شامل تھےجنہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا اور خلیجی ممالک کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔بعد میں جب خلیجی ممالک پر حملے ہوئے تو ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کیاحالانکہ ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے تھے۔
ان کی خود پسندی نے ماہرین کی رائے کو نظر انداز کر دیا۔دوسرا واقعہ یہ کہ ٹرمپ نے مذاکرات کیلئے ایسے افراد پر انحصار کیا جو تکنیکی مہارت سے محروم تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے نمائندے ایران کے جوہری پروگرام کو سمجھنے میں ناکام رہے اور غلط معلومات کی بنیاد پر ٹرمپ کو ’’فوری خطرہ‘‘ کا یقین دلایا۔یہ جنگ تاریخ کی ان جنگوں میں شمار ہو سکتی ہے جو لاعلمی اور غلط فیصلوں کے باعث شروع ہوئیں۔



