بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

معاشرہ شرم و حیا سے عاری ہو چکا ہے!

عاطف عارف

کبھی ہمارا معاشرہ شرم و حیا کے پیکر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ہماری تہذیب، ثقافت اور روایات کی بنیادیں انہی دو ستونوں پر استوار تھیں۔ لیکن آج یہ ستون تیزی سے منہدم ہو رہے ہیں۔ پردہ، رازداری، نجی زندگی کا تقدس، اور ازدواجی معاملات کی حرمت ، یہ سب اب صرف کتابی باتیں رہ گئی ہیں۔ جس معاشرے میں میاں بیوی کے درمیان پیش آنے والے نجی معاملات بھی عدالتوں میں موضوعِ بحث بن جائیں، وہاں سے شرم و حیا کا جنازہ تو کب کا اٹھ چکا ہوتا ہے۔

کچھ دن قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک ایسی درخواست دائر کی گئی جس نے معاشرے کے اخلاقی زوال کو مزید بے نقاب کر دیا۔ درخواست کا تعلق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ازدواجی تعلق سے تھا۔جی ہاں، وہی ازدواجی تعلق جو دو بالغ، نکاح شدہ افراد کے درمیان ہوتا ہے اور جسے دینِ اسلام نے نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر قرار دیا ہے۔

سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ یہ درخواست دائر کی گئی، بلکہ یہ ہے کہ عدالت نے اسے ابتدائی سماعت کے لیے منظور بھی کر لیا، بغیر اس بات کی پروا کیے کہ درخواست گزار کون ہے، اس کا مقدمے سے کیا تعلق ہے، اور کیا وہ کسی بھی درجے میں متاثرہ فریق ہے یا نہیں۔
عدالت میں جسٹس ارباب محمد طاہر نے صرف ایک سوال کیا: "یہ درخواست گزار کون ہیں؟”وکیل نے پہلے کہا، "وہ فالور ہیں”، پھر کہا، "پی ٹی آئی کے ممبر ہیں”، اور بالآخر کہا، "وہ سپورٹر ہیں۔”بس، اتنا سننے کے بعد عدالت نے نہ صرف درخواست منظور کر لی بلکہ چیف کمشنر، حکومتِ پنجاب، اور جیل حکام کو نوٹس بھی جاری کر دیے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی صرف اس بنیاد پر کہ وہ کسی سیاسی شخصیت کا حمایتی ہے، کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کرے تو کیا عدالت اس کا ساتھ دے گی؟

اگر ایسا ہونے لگے تو پھر ہر فرد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور کہے گا: "میں سپورٹر ہوں، مجھے انصاف چاہیے ، کسی اور کی زندگی پر!”
قانون کا ایک بنیادی اصول ہے Locus Standi، یعنی یہ جانچنا کہ درخواست گزار کا مقدمے سے کوئی قانونی تعلق ہے یا نہیں۔ کیا وہ متاثرہ فریق ہے؟ کیا اس کا کوئی قانونی حق متاثر ہوا ہے؟ اگر نہیں، تو عدالتیں عمومی طور پر ایسی درخواستوں کو مسترد کر دیتی ہیں۔
مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ صرف سیاسی وابستگی یا مخالفت کی بنیاد پر کسی کی ازدواجی زندگی کو عدالت میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ کیا یہ قانون کا مذاق نہیں؟ کیا یہ انصاف کی توہین نہیں؟

عدالت کا فرض ہے کہ وہ حق اور باطل میں فرق کرے، اور انصاف صرف اُن لوگوں کو دے جو حقیقی طور پر متاثر ہوں۔ اگر آج ایک شخص عمران خان کا سپورٹر بن کر عدالت آ سکتا ہے، تو کل کو کوئی دوسرا کسی اور کی نجی زندگی پر عدالت میں چلا جائے گا۔ پھر معاشرہ نہیں بچے گا، صرف تماشہ باقی رہ جائے گا۔

شرم کا مقام تو یہ ہے کہ ایک جیل میں قید سابق وزیرِاعظم سے عدالت کی ویڈیو لنک پر بات کروانے کی بجائے، محض ایک موبائل فون اس کے سامنے رکھ دیا گیا، اور واٹس ایپ پر جج صاحب کو کال ملائی گئی۔ جب وکلا نے بات کرنا چاہی تو آواز ہی نہیں آ رہی تھی۔ انہوں نے احتجاجاً کہا کہ جب تک عمران خان سے صاف طور پر بات نہیں کروائی جاتی، ہم جی ایچ کیو حملہ کیس کی پیروی نہیں کریں گے۔
یہ سب کیا ہے؟ انصاف کا مذاق؟ آئین کا قتل؟ یا سیاسی انتقام کا وہ کھیل جو ہر اصول، ہر ضابطے اور ہر اخلاقیات کو روند کر آگے بڑھ رہا ہے؟
کیا عدالتی کارروائی واٹس ایپ پر ہونی چاہیے؟ کیا ایک زیرِ حراست شخص کو اس طرح سنا جائے گا جیسے وہ کسی ویڈیو کال پر دوستوں سے بات کر رہا ہو؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا عدالتیں اب سیاسی گروپز کے "فالورز” اور "سپورٹرز” کے مطالبے پر کسی کی ازدواجی زندگی پر سوالات اٹھائیں گی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر بطورِ قوم ہمیں غور کرنا ہو گا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہماری عدالتیں آئین و قانون کے مطابق چلیں گی یا پھر سیاسی مقاصد کے تحت؟ کیا انصاف کا ترازو اصولوں کے مطابق جھکے گا یا عوامی دباؤ اور میڈیا ٹرائلز کے تحت؟
اگر عدالتیں اسی طرح غیر متعلقہ افراد کی خواہشات پر فیصلے کرتی رہیں، تو پھر کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا — نہ سیاستدان، نہ جج، نہ صحافی، اور نہ ہی کوئی عام شہری۔

ہمیں ایک ایسے معاشرے کی طرف لے جایا جا رہا ہے جہاں نہ عدلیہ کی حرمت بچے گی، نہ ازدواجی رشتوں کا تقدس، نہ نجی زندگی کی رازداری، اور نہ ہی انصاف کی غیر جانبداری۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور قوم اپنے عدالتی اور اخلاقی نظام کی از سرِ نو تشکیل کریں۔ عدالتوں کو صرف اُن معاملات کی سماعت کرنی چاہیے جو واقعی قابلِ سماعت ہوں۔ جو درخواستیں سیاسی مقاصد کے تحت، یا شہرت حاصل کرنے کے لیے دائر کی جائیں، انہیں سختی سے مسترد کیا جانا چاہیے۔ورنہ کل کو کوئی بھی، کسی کی بھی عزت کو اچھالنے کے لیے عدالت آ جائے گا، اور عدالتیں بھی — اگر اسی طرح خاموش تماشائی بنی رہیں — تو پھر وہ بھی اس بے حسی کا حصہ شمار ہوں گی۔

یاد رکھیے!
شرم و حیا صرف لباس میں نہیں، قانون میں بھی ہونی چاہیے، اور عدالتی رویے میں بھی۔ اگر انصاف کا دامن چھوٹ گیا، تو پھر صرف شور باقی رہ جائے گا، سکون نہیں۔
اگر ہم نے نجی زندگیوں کا مذاق اڑانا بند نہ کیا، اور عدالتی نظام کو سیاسی ایجنڈوں کا آلہ کار بنتے دیکھا، تو وہ دن دور نہیں جب ہر دروازے پر انصاف کے نام پر بے انصافی دستک دے رہی ہو گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button