لاہور:(رپورٹ/محمدقیصر چوہان) پہلے سربراہ جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے ایک ا نتہائی قابل ماہر ارضیات ڈاکٹر ہنری کروک شینک تھے، جنہوں نے تقسیم کے بعد پاکستان آکرجیولوجیکل سروے آف پاکستان کی بنیاد رکھنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ڈاکٹر کروک شینک کی تجربہ کار آنکھوں نے پاکستان میں جی ایس پی کے قیام کےلئے کوئٹہ کا انتخاب اسی بنا پر کیا تھا کہ بلوچستان میں معدنی دولت ملنے کے آثار نمایاں تھے اور کچھ دھاتوں کے بارے میں معلوم بھی تھا۔ جیسے مسلم باغ کا کرومائٹ ۔مسلم باغ کو اس زمانے میں ہندوباغ کہا جاتا تھا۔ جی ایس پی نے چاغی کا سروے شروع کیا اور سیندک کے مقام پر تانبے کے ذخائر کا پتہ چلا یا۔

اس طرح ڈاکٹر کروک شینک نے مسلم باغ کے کرومائٹ سے لے کر چاغی کے سینڈک والے تانبے اور لسبیلہ کے مینگنیزکے آثار پر خود کام کیا اور اپنے ماتحت جیولوجسٹوں سے بھی کروایا۔ مگر وہ اب بوڑھے ہوچکے تھے اور1955 میں واقعی ریٹائرمنٹ لے کر آئر لینڈ واپس چلے گئے تھے۔یہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ ڈاکٹر کروک شینک کی سربراہی میں جی ایس پی اپنے پائوں پر کھڑا ہوچکا تھا اورتب سے اب تک یہ بہت سے کام کرچکا ہے۔یہ اور بات ہے کہ ملکی حالات خراب ہوجانے کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی پربھی منفی اثرات پڑے۔
اب ہم بلوچستان کے معدنی وسائل کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی کچھ مسائل اور ان کے حل کی بات بھی کریں گے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ جی ایس پی نے بلوچستان اور سارے پاکستان کے معدنی وسائل کی تلاش میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور بلوچستان کے تقریباً تمام دھاتی اور غیر دھاتی منرلز کی تلاش، نقشہ بندی اور تحقیقات کا کریڈٹ جی ایس پی کو جاتا ہے۔ کم سے کم ابتدائی طور پر۔ صوبائی محکموں ، جیسے بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کا بھی کردار ہے مگر ثانوی طور پر۔بلوچستان کے منرلز اور سجاوٹی پتھروںکی تعداد کہنے کو تو بہت ہے مگر مقدار اور تجارتی اہمیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو صرف مندرجہ منرلز ہی قابل ذکر ہیں جو کان کنی کے لائق ہیں۔

دھاتی منرلز :ایلومینیم (Aluminum) :
اس کے بڑے ذخائر ہیں زیارت اور قلات کے علاقوں میں۔ قسم کے لحاظ سے یہ باکسائٹ (Bauxite) اور لیٹرائٹ (Laterite) کہلاتے ہیں۔
کرومائٹ (Chromite) :
مسلم باغ اور خضدار ، لس بیلہ کے علاقے میں ملتا ہے مگر ذخائر محدود ہیں۔ مسلم باغ میں اس کی چھوٹے پیمانے پر کام کنی بھی ہوتی رہی ہے۔ وقتاً فوقتاً۔
تانبا (Copper) : چاغی میں سیندک اور ریکوڈک جیسے مقامات پر اس کے بڑے ذخائر ہیں جن کے تخمینے پانچ بلین ٹن سے بڑھ کر یا کہیں بڑھ کر بتائے جاتے ہیں۔ یہ غیر ملکی کمپنیوں کے بڑے پراجیکٹ ہیں جن پر ہم آگے چل کر مزید باتیں کریں گے۔
سیسہ اور جست (Lead and Zinc) :خضدار اور لسبیلہ کے علاقوں میں ان کے کم وبیش 60 ملین ٹن سے زیادہ ذخائر موجود ہیں۔ جنوبی کیرتھر بیلٹ کے علاقے دودّر میں بھی کوئی دس ملین ٹن کا ذخیرہ ملا ہے۔
لوہا (Iron) : چاغی میں آتش فشانی چٹانوں میں ملا جلا لوہا بھی کوئی ا یک سو ملین ٹن کے لگ بھگ ہے اور زیادہ بھی ہوسکتاہے۔
سونا : چاغی میں سیندک اور ریکوڈک کے مقام پر مناسب مقدار میں ہے۔ چاغی میں چاندی ، مولی بڈنم (Molybdenum) ، یورینیم اور ٹنگسٹن (Tungsten) بھی کچھ مقدار میں ہے۔
پلاٹینم (Platinum) : مسلم باغ ،ژ وب ، خضدار اور لسبیلہ کے علاقوں میں موجود ہے۔
ٹائی ٹینیم اور ذِرکن (Titanium & Zircon): یہ مکران کی ریت میں پائے گئے ہیں۔ مکران اور سیاہان کے علاقے میں اینٹی منی (Antimony) اور سونا چاندی بھی کچھ ملا تھا۔
غیر دھاتی منرلز :ایلم (Alum) : یہ مغربی چاغی میں کو ہ سلطان آتشِ فشاں پہاڑ سے نکلتا ہے اور رنگسازی اور چمڑے کی صنعت میں کام آتا ہے۔
ایس بسٹاس (Asbistos): ژوب سے نکلتا ہے۔
بیرائٹ (Barite) : کو ہ سلطان ، چاغی ، لس بیلہ اور خضدار کے علاقوں سے نکلتا ہے۔ رنگوں اور ڈرلنگ کمپاو ¿نڈز بنانے میں کام آتا ہے۔
فلورائیٹ (Fluorite) : قلات میں دِلبند(دال بندین) اور آس پاس کے علاقوں میں اچھے ذخائر ہیں۔
جپسم (Gypsum) : یہ اسپن تنگی، ہرنائی اور چم لانگ کی طرف ملتا ہے۔
چونے کا پتھر (Limestone) : بلوچستان میں بھرا پڑا ہے۔ ذخائر پانچ بلین ٹن کے اندازوں سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ سیمنٹ بنانے میں کام آتا ہے۔ دکی ، بارکھان ،کوئٹہ ، ہرنائی ، شاہرگ ، خضدار ، قلات اور لس بیلہ کے علاقوں میں بھرپور ملتا ہے۔
ڈولومائٹ (Dolomite) : قلات اور خضدار میں لائم سٹون کے ساتھ ملتا ہے۔
سجاوٹی پتھر: جیسے ماربل (Marble) ،آنکس (Onyx) ، سرپینٹین (Serpentine) ، گرینائٹ (Granite) ، ڈائیورائٹ (Diorite) گیبرو (Gabbro) ، بسالٹ (Basalt), رائیو لائٹ (Rhyolite) اور کوارٹزائٹ (Quartzite) بلوچستان میں چاغی، خضدار ، لس بیلہ کی طرف بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ لس بیلہ کے سجاوٹی پتھروں میں سربینٹین ، پکچر مارل سٹون، ریفل (Reefal) ، لائم اسٹون ، ماربل اور کئی قسموں کا فریکچرڈ لائم اسٹون مقبول ہیں اور کراچی کی کاٹج انڈسٹری کو سپلائی ہوتے ہیں جہاں ان سے فرش کے اور دیواروں کے لیے ٹائلز اور آرائشی برتن وغیرہ بنا کر ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔

ابریسوِز (Abrasives) :یہ وہ سخت قسم کے منرلز ہوتے ہیں جن کی مدد سے دوسرے منرلز کو، جو نسبتاً نرم ہوتے ہیں ، کاٹا جاتا ہے اور پالش کیا جاتا ہے۔ مثلا گارنٹ (Garnet) ، پامس (Pumice) ،پارلائٹ (Parlite) اور بسالٹ (Basalt) وغیرہ۔ یہ سب چاغی کے علاقے میں دستیاب ہیں اور کچھ ژوب کی طرف۔نمکیات (Salts) :اس مد میں ہم بوریکس (Borax) ، بوریٹس (Borates) اور سلفائڈ اور کاربونیٹس (Carbonates) کا نام لے سکتے ہیں، جو چاغی، لس بیلہ ، پنجگور اور مکران کی طرف ملتے ہیں جہاں نمک بھی ہوتا ہے۔
گندھک : چاغی میں اور کچھی ڈسٹرکٹ میں ملتی ہے۔

فرٹیلائزر ( Fertilizers): پوٹا شیم چاغی اور کچھی ڈسٹرکٹ میں، نائٹریٹ چاغی میں اور فاسفیٹ بولان پاس کے علاقے میں ملتا ہے۔ میگنیشیم خضدار ، قلات ، مسلم باغ اورژوب کے علاقوں میں ہوتا ہے۔رنگ سازی کی مد میں ۔ ذرد آکر (Ochre) زیارت، ڈسٹرکٹ میں ملتا ہے اور ٹالک (Talc) زیارت مسلم باغ کی طرف۔
میگنی سائٹ (Magnesite) :ژوب ، مسلم باغ اورلسبےلہ کے علاقوں کی آتشی چٹانوں کے ساتھ ملتا ہے ، جن کے لاولے کے ساتھ مینگنیز (Manganese) بھی ملتا ہے۔
سیلسٹایٹ (Celestite) : یہ کوہلو ، ڈیرہ بگٹی ، بارکھان اور لورالائی کی طرف پایا جاتا ہے۔

جم سٹونز (Gemstones) : بلوچستان میں اتنے اچھے جم اسٹونز نہیں جیسے شمالی پاکستان میں ہیں۔ قابل ذکر پتھر یہ ہیں : گارنٹ (Garnet) وغیرہ ، سفید اور ہراکوارٹز (Quartz) جسے بلّور یا سنگ مردار بھی کہا گیا ہے۔ اقسام کے عقیق (Agates) ، فیروزہ (Turquoise) ،کری سوکولا (Chrysocolla) ، مالاکائٹ (Malachite) ، ذِرکن (Zircon) ، جیڈ (Jade) ،جاسپر (Jasper) ، لاپس لزولی (Lapis Lazuli) یعنی لاجورد وغیرہ۔سٹ رین (Citrine) ، آئیڈوکریز (Idocrase) ،کرسوپریز (Chrysoprase) اور ایمی تھسٹ (Amethyst) وغیرہ بھی ملتے ہیں مگر کوالٹی اور مقدار کا انداز کم ہے۔(جاری ہے)
نوٹ:اس سلسلے کی پہلی قسط 24ستمبر2025کو بعنوان بلوچستان سونے کی چڑیا،جغرافیائی،معدنی دولت سے مالا مال شائع ہوچکی ہے جس
کو اس لنک پر بھی وزٹ کیا جاسکتا ہے۔ https://cnnurdu.com/explore-balochistans-vast-mineral-wealth-and-stunning-geography-find-out-how-this-region-stands-out-as-a-golden-opportunity-for-development/



