انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ام رباب کو انصاف کون دے گا۔۔۔؟

سپیڈبریکر، میاں حبیب

پاکستان کا نظام انصاف بڑا پیچیدہ اور مضحکہ خیز ہے یہاں مقتول کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ کیوں قتل ہوا شک کے تمام تر فائدے قاتل کو دیے جاتے ہیں قاتل قتل کرکے مقتول کے لواحقین کی بےبسی پر قہقہے لگا رہا ہوتا ہے اور مدعی سر توڑ کوشش کے باوجود یہ ثابت نہیں کر پاتا کہ مقتول کیوں کر مارا گیا تھا مدعی کے ایک ایک لفظ ایک ایک نقطے اور زیر زبر کا پوسٹمارٹم کیا جاتا اور ہر بات سے شکوک وشبہات نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے پاکستان میں انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

سندھ کے علاقے مہیڑ ضلع دادو کا ایک قتل کیس اس کی مثال ہے 17جنوری 2018 کو ایک وقوعہ ہوتا ہے جس میں صبح 9بجے آتشیں اسلحہ سے لیس افراد گاڑیوں میں سوار ہو کر آتے ہیں اور فائرنگ کرکے دوسگے بھائیوں اور ان کے والد کو قتل کر دیتے ہیں دو افراد کی موقع پر موت ہو جاتی ہے جبکہ تیسرے کو شدید زخمی حالت میں لاڑکانہ کے ہسپتال داخل کروا دیا جاتا ہے جہاں شام کو اس کی بھی موت ہو جاتی ہے لواحقین پوسٹمارٹم کروانے اورتدفین کے بعد مقدمہ درج کرواتے ہیں مقدمہ 18 جنوری 2018 کو پرویز احمد کی مدعیت میں درج ہوتا ہے جس کے دوبھائیوں اور والد کا قتل ہوا ہوتا ہے ایک مقتول کی بیٹی جلد انصاف کے لیے کبھی ننگے پاؤں تو کبھی لالٹین لے کر عدالتوں کے چکر لگاتی ہے۔

سوشل میڈیا اور عوام میں اس کوزبردست پذیرائی ملتی ہے لوگ اس کو جلد انصاف دلانے کے لیے آواز بھی اٹھاتے ہیں لیکن نہ پولیس نہ عدالتوں اور نہ ہی اداروں کی جانب سے اسے کوئی پذیرائی حاصل ہوتی ہے وہ بچی ام رباب اسلام آباد پہنچتی ہے اور اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی گاڑی کے آگے کھڑی ہو کر انھیں روک لیتی ہے چیف جسٹس صاحب اسے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آپ کے کیس کا فیصلہ دو ماہ میں ہو جائے گا بعد ازاں تحریری طور بھی ڈائریکشن دی جاتی ہے کہ اس کیس کا فیصلہ تین ماہ میں کیا جائے لیکن عملی طور پر اس کا الٹ اثر ہوتا ہے پہلے یہ کیس انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چل رہا ہوتا ہے جہاں قانون کے مطابق چھ ماہ میں فیصلہ ہو نا ہوتا ہے لیکن بعد ازاں یہ کیس ٹرائل کورٹ سیشن کورٹ میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں 8سال تک کیس لٹکا دیا جاتا ہے۔

8سال میں 392 پیشیوں کے بعد ایڈیشنل سیشن جج اس قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہیں اور 2ارکان سندھ اسمبلی سمیت آٹھوں ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کر دیتے ہیں فیصلہ سننے کے بعد ام رباب باپ چچا اور دادا کی قبروں پر جاتی ہے اور قبروں سے لپٹ کر آہ وزاری کرتے ہوئے کہتی ہے کہ میں آپ کو انصاف نہ دلا سکی دوسری جانب المیہ دیکھیں بااثر ملزمان کےبری ہونے پر ان پر سرخ گلابوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں جلوس کی صورت میں انھیں لے جایا جاتا ہے اور زبردست ہوائی فائرنگ کرکے جشن منایا جاتا ہے جس کی فوٹیج سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔

فرض کریں ملزم بے گناہ تھے لیکن سرعام ہوائی فائرنگ تو ساری دنیا نے دیکھی ہے اس پر بھی قانون خاموش ہے کسی پولیس اہلکار کو جرآت نہیں ہوئی کہ وہ قانون کی اس خلاف ورزی پر ہی کوئی کارروائی کرکے کم از کم یہ تاثر تو برقرار رکھ لیتا کہ قانون موجود ہے انتہائی بدقسمتی کہ پورے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والوں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔

اب ذرا قتل کیس کے حوالے سے دیکھ لیں کہ ملزمان کیوں بری ہوگئے قرار دیا گیا کہ ایف آئی آر 16 گھنٹوں کی تاخیر سے درج کروائی گئی حالانکہ مدعی وقوعہ سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ہسپتال میں موجود تھا تاخیر سے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر باقاعدہ مشاورت اور منصوبہ بندی سے درج کروائی گئی ہے،لامحالہ سی بات ہے اتنے بڑے وقوعہ کے بعد انسان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں مدعی مقتولین کو دیکھتا کافی دور لاڑکانہ ہسپتال میں داخل زخمی کو دیکھتا پوسٹمارٹم کرواتا تدفین کا بندوبست کرتا یا بروقت ایف آئی آر درج کرواتا۔

عینی شاہدین کے بیانات بھی بدنیتی پر مبنی قرار دیے گئے ہیں کہ عدالت میں گواہان نئی تفصیلات سامنے لے آئے جو ایف آئی آر اور پولیس بیان میں نہیں تھی،یہ بھی نکتہ اٹھایا گیا کہ اگر ملزمان سارے خاندان کو ختم کرنا چاہتے تھے تو گواہان کو زندہ کیوں چھوڑ دیا گیا اور پولیس نے عینی شاہدین دکانداروں کے بیانات کیوں نہ لیے رکن اسمبلی سردار خان چانڈیو کو قتل میں ملوث ثابت کرنے کے شواہد بھی نامکمل ہیں وہ وقوعہ کے روز دوسرے ضلع ٹنڈو محمد خان میں موجود تھا۔

ٹیلیفون کال ریکارڈ کی تفصیلات کی تصدیق سیلولر کمپنیوں سے نہیں کروائی گئی ان میں آواز کی ریکارڈنگ موجود نہیں جس کی وجہ سے وہ قانونی طور پر رابطے یا سازش ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں ایسے لگتا ہے کہ پولیس تفتیش اور پراسیکیوشن کی تمام تر توجہ ملزمان کی بےگناہی پر مرکوز تھی یہ بھی ممکن ہے کہ ملزمان بےگناہ ہوں لیکن تین بندوں کو آخر کسی نے تو مارا ہے وہ مارنے والے آخر کون ہیں اس کا تعین کون کرے گا کیا ان کا قتل کھوہ کھاتے چلا جائے گا ام رباب اپنے پیاروں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کرے یوں لگتا ہے 8سال ملزمان کی بےگناہی ثابت کرنے پر صرف ہوئے ہیں ریاست ہر شہری کی اصل وارث ہوتی ہے جس کی پیروی کرنے والا کوئی نہ ہو اس کی پیروی بھی ریاست کرتی ہے اگر یہ سارے نامزد ملزم بےگناہ تھے تو کسی پولیس اہلکار نے یہ زحمت کیوں نہ گوارا کی کہ وہ اصل قاتلوں کو ڈھونڈ نکالتا اب اس کا تعین کون کرے گا کہ ام رباب کے والد چچا اور دادا کو کس نے مارا ہے کہیں ایسا تو نہیں مقتولین نے آپس میں ایک دوسرے کو گولیاں مار دی ہوں ویسے پولیس سے کچھ بعید نہیں کہ وہ یہ کہہ دے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔

کاش عدالت فیصلہ میں اس کیس کے تحقیقات کاروں کو یہ ہی حکم دے دیتی کہ اصل قاتلوں کو 6ماہ میں عدالت میں پیش کیا جائے ورنہ تحقیقات کاروں کو سزا ملے گی ذرا غور کیجئے گا کہ پاکستان میں جرائم کیوں بڑھ رہا جس معاشرے میں انصاف ناپید ہو جائے وہاں اسی قسم کی افراتفری جنم لیتی ہے جس کا شکار پاکستان نظر آتا ہے آج سے 20 سال قبل لندن میں ایک قتل کیس کا بڑا چرچا تھا ایک بارہ تیرہ سال کی ایک لڑکی کی نعش دریائے ٹیمز سے ملی جس کو زیادتی کے بعد قتل کرکے دریا میں پھینک دیا گیا تھا نہ اس واقعہ کا کوئی مدعی تھا نہ ملزم کا پتہ تھا بچی بھی شکل وصورت سے برٹش نہیں لگتی تھی۔

پاکستان میں ایسا واقعہ ہوا ہوتا تو پولیس نے لاوارث قرار دے کر دفنا کر جان چھڑوا لینی تھی لیکن چونکہ برطانیہ کی ریاست ہر شہری کی وارث تھی اس لیے پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا بچی اور اس کے جسم سے ملنے والے ملزم کے شواہد کے ٹیسٹ کروائے گئے کی تحقیقات پر کئی سال لگ گئے لاکھوں پاونڈ اس کی تحقیقات پر خرچ ہوئے آخر کار پولیس ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی اور پولیس نے ملزم کو جمیکا سے جا کر گرفتار کر لیا نہ ملزم برطانیہ کا تھا نہ مقتولہ برطانیہ کی تھی لیکن چونکہ وقوعہ برطانیہ میں ہوا تھا انھوں نے بھاری رقوم خرچ کرکے اور اپنے تمام تر وسائل خرچ کر کے پوری تندہی کے ساتھ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا اور انصاف کا بول بالا کرنے کے لیے آخری حد تک جایا گیا لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جرم کو پرموٹ کرنے کے لیے سہولت کاری کی جاتی انصاف کی بالادستی کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے ریاستی اداروں کو اس پر توجہ دینی چاہیے وہ نہ ہو بات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جاپہنچے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button