ارشد علی مضطر کا تعلق مٹیاری سندھ سے ہے، اردو اور سندھی زبان کے نوجوان شاعر ہیں آپ کی غزلوں کا چترال، مٹلتان کلام اور گلگت بلتستان کی وادی غذر میں بولی جانے والی زبان کھوار میں راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) نے ترجمہ کیا ہے
ارشد کی شاعری میں عشق، غم، اور روحانی کیفیتوں کا گہرا اظہار ملتا ہے، اور یہ تراجم ان احساسات کو کھوار زبان میں منتقل کرنے کا عمدہ نمونہ اور پہلی کوش ہے۔
آپ کی غزلوں کا بنیادی موضوع انسانی جذبات اور احساسات ہیں، خاص طور پر محبت اور اس سے جڑی ہوئی محرومیوں کا احساس ہر شعر میں پایا جاتا ہے۔ آپ کی ہر شعر میں ایک گہرا فلسفہ موجود ہے جو قاری کو ایک روحانی سفر پر لے جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کیجیے:
تمھارے بعد ہوں بیتاب جانم
مرا کوئی نہیں ہمخواب جانم
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی جدائی کا گہرا دکھ خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ اور ترجمے میں ان احساسات کو یوں کھوار کے قالب میں ڈھالا گیا ہے:
تہ سار آچی اسوم بیتاب جانم
مہ کا نیکی ہمخواب جانم
راقم الحروف نے اس شعر کے ترجمے میں بیتابی اور تنہائی کے جذبات کو بہترین انداز میں شامل کیا ہے۔ "بیتاب” اور "ہمخواب” جیسے الفاظ کھوار زبان میں بھی مروج ہیں تراجم میں ایسے الفاظ کا انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ مترجم نے اصل معنویت کو کھوار زبان میں برقرار رکھا ہے۔
راقم الحروف نے غزل کے ترجمے میں نہ صرف اصل متن کی روح کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے بلکہ کھوار زبان کے شعری مزاج کے مطابق اسے کھوار کے قالب میں ڈھالا ہے۔ مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ کیجیے:
دلِ بسمل کی سُونی ہے حویلی
یہاں سے گزرے ہیں سیلاب جانم
کھوار ترجمہ بھی دیکھیے
دلِ بسملو ویران شیر حویلی
ہموغین بی شینی سیلاب جانم
اس ترجمے میں "دلِ بسمل” کی کیفیت اور "سیلاب” کی تیزی کو میں نے کھوار کے منظوم ترجمے میں خوبصورتی سے منتقل کیا ہے، جس سے غم و الم کا وہی شدت آمیز احساس برقرار رہتا ہے جو اصل اردو شعر میں موجود ہے۔
کسی بھی زبان کی غزل کا ترجمہ ایک نہایت مشکل اور فنکارانہ کام ہوتا ہے کیونکہ ہر زبان کا اپنا ایک ثقافتی اور ادبی مزاج ہوتا ہے۔ میں نے اس چیلنج کو عمدگی سے قبول کیا اور اردو کے شعری رموز کو کھوار زبان میں اس طرح منتقل کیا ہے کہ اصل خیالات اور جذبات کی صحت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
میں نے مشکل الفاظ کو کھوار کے آسان اور عام فہم الفاظ میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ کھوار بولنے والے قاری کے لیے شعر کی معنویت اور لذت قائم رہ سکے۔ مثلاً:
تمھاری یاد سے بے دست و پا ہوں
مرے مفلوج ہیں اعصاب جانم
کھوار ترجمہ ملاحظہ کیجیے
تہ یادگاری وے ہوستو وے پونگو اسوم
مہ وے حرکتو شینی اعصاب جانم
اس ترجمے میں "بے دست و پا” اور "مفلوج” جیسے الفاظ کو کھوار زبان کے قریب تر الفاظ میں منتقل کرنا مترجم کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
ارشد علی مضطر کی غزلوں کا کھوار زبان ترجمہ پہلی کوشش ہے جسے راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) نے انتہائی فنی مہارت اور فکری گہرائی سے انجام دیا ہے۔ یہ تراجم کھوار زبان کے قارئین کو اردو غزل کے پیچیدہ اور گہرے جذبات تک رسائی فراہم کرتے ہیں، اور نئی نسل کو اردو اور کھوار ادب کے ساتھ جوڑنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے ارشد علی مضطؔر کی غزل اور اردو تراجم پیش خدمت ہیں۔
غزل
تمھارے بعد ہوں بیتاب جانم
مرا کوئی نہیں ہمخواب جانم
کھوار ترجمہ:
تہ سار آچی اسوم بیتاب جانم
مہ کا نیکی ہمخواب جانم
تمھاری یاد سے بے دست و پا ہوں
مرے مفلوج ہیں اعصاب جانم
کھوار ترجمہ:
تہ یاداری بے دست و پا اسوم
مہ مفلوج شینی اعصاب جانم
دلِ بسمل کی سُونی ہے حویلی
یہاں سے گزرے ہیں سیلاب جانم
کھوار ترجمہ:
دلِ بسملو ویران شیر حویلی
ہموغین بی شینی سیلاب جانم
خراب و خستہ ہیں حالات میرے
نظر آتا نہیں مہتاب جانم
کھوار ترجمہ:
خراب و خستہ شینی حالات مہ
غیچھی گویان نو مہتاب جانم
سدا خشبو نہیں رہتی گُلوں میں
بہاریں ہوتی ہیں نایاب جانم
کھوار ترجمہ:
ہمیش ووری نو بہچور گمبوریان موژا
بوسونی بونیان نایاب جانم
بہاروں کو خزائیں نوچتی ہیں
شباب و حسن ہے اک خواب جانم
کھوار ترجمہ:
بوسونیان یومونی قفین دراغلیش کونیان
شباب و حسن شینی خواب جانم
پڑا ہوں دم بخود در پر تمھارے
گنوا کر ساری آب و تاب جانم
کھوار ترجمہ:
پیچھین بیتی اسوم دم بخود دواہرتہ ته
تونجئیے سف آب و تاب جانم
مرے ہاتھوں سے کھینچا ہاتھ تم نے
یہ کل دیکھا تھا میں نے خواب جانم
کھوار ترجمہ:
مہ ہوستاری پھار گانیتاو تان ہوستو تو
ہموش دوش پوشی اسیتم اوا خواب جانم
جو عزت آبرو سے دیکھتے تھے
ملے اُن سے بُرے القاب جانم
کھوار ترجمہ:
کا کی عزت آبروو سورا لوڑاو اوشونی
ملاؤ ہونی ہتیتان ساری شوم القاب جانم
ہمی تھے مجرمِ الفت کہ تم تھے؟
کُھلیں گے حشر میں ابواب جانم
کھوار ترجمہ:
اسپہ تان اوشوتمہا مجرمِ الفت کہ تو اشوؤ؟
کھولاؤ بونی حشرا ابواب جانم
مقدر میں نہیں تجھ تک رسائی
ہیں دشمن اپنے سب احباب جانم
کھوار ترجمہ:
مقدرا نیکی تا پت رسائی
آسونی دشمن مه سف احباب جانم
میں تم کو پاسکوں ممکن ہے مضطؔر
میسر ہوں اگر اسباب جانم
کھوار ترجمہ:
اوا تھے ته لیم شیر مضطؔر
میانسار کی ہونی اگر اسباب جانم



