اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ،سربراہ افواج سمیت4اعلیٰ افسر،6جوہری سائنسدان ،متعدد شہری شہید
تہران،تل ابیب(ویب ڈیسک)اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی سمیت 4 اعلیٰ فوجی افسران اور 6 جوہری سائنسدان شہید ہوگئے، اسرائیل نے حملے میں ایران کے جوہری اور عسکری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 5 شہری شہید اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ایران پر رات کے وقت کیے گئے حملوں سے اپنی تلخ اور تکلیف دہ تقدیر رقم کر دی ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کو ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل فیکٹریوں اور عسکری کمانڈرز کو نشانہ بنایا ہے اور خبردار کیا کہ یہ ایک طویل آپریشن کا آغاز ہے جس کا مقصد تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملوں میں 200 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا اور 100 سے زائد تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ موساد کی کمانڈو فورسز نے حملوں سے قبل ایران میں خفیہ طور پر کارروائیاں کیں۔
ایک اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق موساد کے کمانڈوز نے وسطی ایران میں کارروائی کے دوران ایران کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظاموں کے مقامات کے قریب کھلے علاقوں میں درست نشانہ لگانے والے ہتھیار نصب کیے۔
ایرانی میڈیا اور عینی شاہدین نے اطلاع دی کہ ملک کی مرکزی یورینیم افزودگی تنصیب نطنز سمیت مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے، جبکہ اسرائیل نے ممکنہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے تصدیق کی ہے کہ تہران پر کیے گئے اسرائیلی حملوں میں ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری اور پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی شہید ہو گئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے ایران کے جوہری سائنسدان اور اسلامی آزاد یونیورسٹی کے صدر محمد مہدی طہرانچی اور معروف جوہری سائنسدان اور ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے سابق سربراہ فریدون عباسی اور خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد اور ایئرواسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عامر علی حاجی زادہ کی شہادت کی بھی تصدیق کردی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر خاص اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر علی شمخانی بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے حملے میں تہران میں واقع پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
2 علاقائی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے سربراہ اور ایئرواسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عامر علی حاجی زادہ سمیت کم ازکم 20 سینئر ایرانی فوجی حکام شہید ہوئے ہیں۔
ایرانی مہر نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہید جوہری سائنسدانوں میں عبدالحمید منوچہر، احمدرضا ذوالفقاری، امیرحسین فقیہی، مطلب لیزادہ، محمد مہدی طہرانچی اور فریدون عباسی شامل ہیں۔ ایرانی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے حکم پر سابق آرمی کمانڈر میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کو ایرانی مسلح افواج کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا ہے، اسی حکم کے تحت بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور کو پاسداران انقلاب کا نیا کمانڈر تعینات کر دیا گیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورسز کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مزید برآں، میجر جنرل غلام علی راشد کی شہادت کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بریگیڈیئر جنرل علی شادمانی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی ہے اور انہیں سینٹرل ہیڈکوارٹرز خاتمالانبیاﷺ کا نیا کمانڈر مقرر کردیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعے کی صبح قوم سے اپنے پیغام میں کہا کہ صہیونی حکومت کو سخت سزا کا انتظار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت نے اپنی خبیث اور خونی ہاتھوں سے ہمارے عزیز وطن میں ایک جرم کا ارتکاب کیا اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر اپنی فطرت کی اور بھی زیادہ خباثت ظاہر کی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اس حکومت کو سخت جواب کا سامنا کرنا ہوگا، انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں ہمارے کئی کمانڈرز اور سائنسدان شہید ہوئے، ان کے جانشین اور ساتھی فوراً ان کا کام سنبھال لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جرم کے ذریعے صیہونی حکومت نے اپنے لیے ایک کڑوی اور دردناک تقدیر لکھ دی ہے اور وہ یقینی طور پر اس انجام کو دیکھے گی۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شیکرچی نے رہائشی عمارتوں سمیت ایرانی سرزمین پر اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملوں پر اسلامی جمہوریہ کا ردعمل بھاری ہوگا۔
بریگیڈیئر جنرل شیکرچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے راتوں رات کیے جانے والے حملے، جو ان کے بقول امریکی حمایت سے کیے گئے تھے، کا بھرپور جواب ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے رات بھر کیے جانے والے حملے، جو ان کے بقول امریکی حمایت سے کیے گئے تھے، کا بھرپور جواب ملے گا۔
ایران اسرائیلی حملے کا سخت جواب دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے،ایک ایرانی سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ اسرائیلی حملے کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا، جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حملہ فوری ہوگا یا نہیں، تو اہلکار نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی کی تفصیلات اعلیٰ ترین سطح پر زیرِ غور ہیں ۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف صہیونی حکومت کی جارحانہ کارروائیاں امریکا کی منظوری اور ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی تھیں،لہٰذا امریکی حکومت اسرائیل کی اس مہم جوئی کے خطرناک نتائج کی ذمہ دار ٹھہرائی جائے گی۔
اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے شہر قم کی مسجد جمکران میں ہزاروں افراد جمع ہوگئے جبکہ مسجد کے گنبد پر سرخ پرچم لہرادیا گیا ہے جسے بدلے کی علامت تصور کیا جاتا ہے.
دریں اثنا، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائی نے نطنز کی ایٹمی تنصیب اور جوہری سائنسدانوں سمیت ایران کے جوہری افزودگی کے پروگرام کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے، ایران کے خلاف کارروائی جتنے دن بھی درکار ہوں جاری رہے گی۔
ایران کے پریس ٹی وی کی جانب سے ایکس پر جاری کردہ وڈیو میں صوبہ اصفہان میں واقع نطنز ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے دوران دھماکے ہوتے اور دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔
پریس ٹی وی کے ایکس ہینڈل پر شیئر کی گئی ایک اور ویڈیو میں ایران کے مغربی فضائی دفاعی مرکز پر بھی اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہم مقام پر آگ اور دھواں دیکھا گیا جبکہ مرکزی صوبے میں نطنز شہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اسرائیل کی جانب سے نطنز میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایجنسی ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ وہ ایران میں پیدا ہونے والی انتہائی تشویشناک صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے، ایجنسی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نطنز کی جوہری تنصیب حملے کا نشانہ بنی ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے آئی اے ای اے کو اطلاع دی ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نطنز تنصیب پر تابکاری کی سطح میں کسی قسم کا اضافہ مشاہدے میں نہیں آیا ہے۔
ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ تابکاری کی سطح سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، ایران میں موجود ایجنسی کے معائنہ کاروں سے بھی مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔
تہران کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے امام خمینی ایئرپورٹ پر فضائی ٹریفک روک دی گئی جبکہ عراق اور اردن نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور تمام ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں جبکہ ایمریٹس ایئرلائنز نے ایران، عراق، اردن اور شام کے لیے فضائی آپریشن معطل کردیا ہے۔
اسرائیل نے ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع، اسرائیل کاٹز نے کہا کہ تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان موجود ہے۔
اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر پیشگی حملے کے بعد اسرائیل اور اس کی شہری آبادی پر میزائل اور ڈرون حملہ کسی بھی لمحے متوقع ہے۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کو یقین ہے کہ ایران کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کی وارننگ کے بعد کیے گئے ان حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں8 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی ہے۔
ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے جمعہ کے روز بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ایران سے داغے گئے ڈرونز کو اسرائیلی حدود سے باہر ہی روکنا شروع کر دیا ہے۔
فوجی عہدیدار نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے ایران سے داغے گئے ڈرونز کو اسرائیلی حدود سے باہر ہی روکنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد، ایران کی جانب سے تقریباً 100 ڈرونز اسرائیل کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
دوسری جانب اردن کے سرکاری خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن نے جمعے کی صبح اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے کئی میزائل اور ڈرون مار گرائے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو متنبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حملے کے جواب میں امریکی اڈوں کو نشانہ نہ بنائے اور کہا کہ واشنگٹن ان حملوں میں شامل نہیں ہے۔
روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ میں واضح کر دوں ایران کو امریکی مفادات یا اہلکاروں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔



