پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

بہارہ کہومیں غیر قانونی سپیڈ بریکر قائم،ہزاروں زندگیوں کو خطرہ

خصوصاً بازار اسٹاپ ، عباسی سی این جی سے اندر ڈھوک موہری آتے غیرقانونی سپیڈ بریکرقائم،ٹریفک کا نظام متاثر،حادثات معمول ،حکام نوٹس لیں:شہریوں کی اپیل

اسلام آباد:(رپورٹ:ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بہارہ کہو میں حالیہ برسوں کے دوران سڑکوں پر بنائے گئے غیر قانونی اسپیڈ بریکرز سنگین سماجی و شہری مسئلہ بن گئے ۔ غیرقانونی سپیڈ بریکرز کی وجہ سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہونے لگا جبکہ حادثات بھی معمول بن گئے ہیں۔

ریاستی اجازت اور ماہر انجینئرنگ کے بغیر بنائے گئے یہ سپیڈ بریکر دراصل خود ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں،بہارہ کہو جو کہ اسلام آباد اور مری کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے، روزانہ ہزاروں گاڑیوں کی آمد و رفت کا مرکز ہے۔ یہاں ہر گلی اور محلے کے داخلی راستے پر خصوصاً بازار اسٹاپ سے ڈھوک موھری آتے ہوئے اور عباسی سی این جی سے اندر ڈھوک موہری آتے ہوئے راستوں میں مقامی افراد نے اپنی مرضی سے جگہ جگہ پر اسپیڈ بریکرز بنا رکھے ہیں۔

یہ اسپیڈ بریکر نہ تو کسی ضابطے کے تحت بنائے گئے ہیں اور نہ ہی ان پر انتباہی نشانات موجود ہیں زیادہ تر سپیڈ بریکرز کی اونچائی اور چوڑائی غیر قانونی اور غیر معیاری ہے جو حادثات کی بنیادی وجہ بن رہے ہیں،سپید بریکر خصوصارات کو موٹر سائیکل سواروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ غیر متوقع جھٹکوں کی وجہ سے موٹرسائیکل سوار گر جاتے ہیں یا توازن کھو بیٹھتے ہیں جس سے زخمی ہونے یا جان جانے کا بھی خطرہ ہے۔

ایمبولینس یا فائر بریگیڈ جیسی ہنگامی گاڑیاں بھی ان غیر قانونی رکاوٹوں سے متاثر ہوتی ہیں، جس سے مریضوں کو بروقت طبی امداد نہیں مل پاتی۔یہ غیر متوازن سپیڈ بریکرز ٹریفک کے بہاؤ کو سست کر دیتے ہیں، جس سے سڑکوں پر بھیڑ اور دیر کا سامنا ہوتا ہے، بالخصوص اسکول اوقات یا دفتر آنے جانے کے اوقات میں کافی مشکلات ہوتی ہیں۔بار بار جھٹکوں سے گاڑیوں کے بمپر، شاکس، ٹائر اور انجن متاثر ہوتے ہیں، جس سے مرمت کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

گاڑیوں کے بار بار رکنے اور دوبارہ چلنے سے نہ صرف شور کی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ایندھن کا استعمال بھی بڑھتا ہے، جو ماحولیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔قانونی طور پر کوئی بھی شہری یا کمیونٹی از خود سڑک پر کوئی رکاوٹ یا اسپیڈ بریکر نہیں لگا سکتی۔ اس کے لیے میونسپل کارپوریشن یا ضلعی انتظامیہ کی باقاعدہ اجازت اور انجینئرنگ ڈیزائن درکار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود انسپکشن، نفاذ اور جرمانے کی عدم موجودگی نے اس غیر قانونی رجحان کو فروغ دیا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) ٹریفک پولیس کو چاہیے کہ وہ ایسے تمام غیر قانونی اسپیڈ بریکرز کو فوری طور پر ہٹائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔جہاں واقعی اسپیڈ بریکرز کی ضرورت ہو، وہاں انجینئرنگ اصولوں کے تحت قانونی اور محفوظ سپیڈ بریکرز بنائے جائیں۔موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ، ہیڈ لائٹس اور مناسب رفتار کی پابندی کی ترغیب دی جائے۔

بہارہ کہو میں غیر قانونی اسپیڈ بریکرز ایک سماجی اور انتظامی چیلنج بن چکے ہیں، جس کے فوری حل کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ صرف ٹریفک کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا بھی ہے۔ انتظامیہ، شہریوں اور میڈیا کو مل کر اس ناسور کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تاکہ بہارہ کہو اور اس جیسے دیگر علاقوں میں زندگی کو محفوظ اور پُرامن بنایا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button