انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی غزہ پر حملے،80فلسطینی شہید، پاکستان کا معاہدے پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ

امدادی سامان کی ترسیل شروع، حوثیوں کا بھی اسرائیل کیخلاف حملے روکنے کا اعلان: شام میں صیہونی بمباری، 3 جاں بحق

غزہ، صنعاء، دمشق، اسلام آباد (ویب ڈیسک)غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے باوجود اسرائیل کے مقبوضہ پٹی پر حملے رک نہ سکے، تازہ حملوں میں80فلسطینی شہید ہوگئے، اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر عمل درآمد اتوار سے شروع ہوگا، جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد امدادی سامان کی ترسیل دوبارہ شروع ہوگئی۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں اپنے بڑے حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں معاہدے کے اعلان کے بعد سے علاقے میں کم از کم 80 فلسطینی شہید ہو گئے۔فلسطین کے محکمہ شہری دفاع نے کہا ہے کہ اس کے عملے نے غزہ شہر کے مغرب میں رمل کے پڑوس میں خلیفہ خاندان کے گھر کے ملبے سے 5 لاشیں نکالی ہیں۔اس حملے میں 10 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جو حالیہ گھنٹوں کے دوران غزہ شہر کو ہلا کر رکھ دینے والا تازہ ترین مہلک اسرائیلی حملہ ہے۔
اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حماس نے خبردارکیا ہے کہ اگر اسرائیل کے حملے جاری رہے تو یہ ان درجنوں اسرائیلی شہریوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں جو 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونیو الی جنگ کے بعد سے حماس کے پاس یرغمال ہیں۔ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس مرحلے پر دشمن کی جانب سے کوئی بھی جارحیت اور بمباری ایک قیدی کی آزادی کو سانحے میں بدل سکتی ہے۔القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیل نے اس مقام پر بمباری کی جہاں جنگ بندی معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں رہا کی جانے والی یرغمالی خواتین میں سے کچھ موجود تھیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی سے متعلق مفاہمت سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فضائی حملے اسرائیلی مغویوںکو خطرے میں ڈال رہے، جن کی آنکھوں سے آنسو بہے، ہم نہ بھولیں گے نہ معاف کرینگے، حماس رہنما

غزہ میں گزشتہ روز ہونے والے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی کابینہ کو اس معاہدے کی منظوری دینی تھی مگر اب تک اسرائیلی کابینہ نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری نہیں دی۔اس حوالے سے حماس کے ایک رہنما نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس جنگ بندی سے متعلق اپنی باتوں پر قائم ہے۔اس سے قبل جنگ بندی اعلان کے بعد اسرائیلی حکومتی اتحاد میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے تھے اور نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں نے حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دی ہے۔غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ نے جنگ بندی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جن کی آنکھوں سے آنسو بہے، ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے، ہم تمام مزاحمتی گروپس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں، خاص طور پر القدس بریگیڈ کے مجاہدین کو جو اسلامی جہاد کی صف اول کے ساتھی ہیں۔ادھراسرائیل نے شام کے ایک فوجی قافلے پر ڈرون حملہ کیا ہے جس میں 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے نئی انتظامیہ کی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔
شام کے ایک طبی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی ڈرون حملے میں مارے جانے والا راہ گیر ٹائون میئر ہے۔یمن کے حوثیوں نے بھی اسرائیل کیخلاف حملے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حوثی ترجمان کا کہنا ہے کہ حوثی اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کا احترام کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ غزہ پٹی میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے بند کر دیں گے۔دریں اثنا پاکستان نے غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر فوری اور مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ جنگ بندی مستقل جنگ بندی کا باعث بنے گی اور انسانی امداد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال سے بد ترین جانوں اور املاک کا نقصان ہوا ہے اور لاکھوں بے گناہ فلسطینی شہری بے گھر ہو چکے ہیں، اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم نے پورے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہی جس کے نتیجے میں جون 1967 سے پہلے کی سرحدووں کی حد بند کے مطابق ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔کینیڈا میں احتجاج کرنے والے گروپوں نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ بندی پر خوشی ہے تاہم احتجاج نہیں روکیںگے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button