انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غزہ پر حملے جاری، مزید 54فلسطینی شہید: پاکستان نے گریٹر اسرائیل کے قیام سے متعلق صیہونی بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا

یورپی یونین، جرمنی، سعودی عرب، یو اے ای، او آئی سی کی بھی مذمت، منصوبہ فوری روکنے کا مطالبہ، منظم جنگی جرم قرار دیدیا

غزہ، اسلام آباد، استنبول، ریاض، برلن (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مزید 54فلسطینی شہید ہو گئے۔ ہلاکتیں غزہ اور رفح کے قریب امدادی مقام پر ہونے والے حملوں میں ہوئیں۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق اور یہودی آبادکاری میں توسیع کے اسرائیلی منصوبے کے خلاف حماس نے جمعہ کو یوم غضب منایا۔ جبکہ پاکستان نے گریٹر اسرائیل کے قیام سے متعلق اسرائیلی حکومت کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے قابض اسرائیلی حکومت کے حالیہ بیانات کو مسترد کیا ہے، جن میں نام نہاد گریٹر اسرائیل کے قیام اور غزہ سے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کے منصوبوں کا اشارہ دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ دنیا ایسے اشتعال انگیز اور غیر قانونی عزائم کو یکسر مسترد کرے، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، یہ بیانات قابض طاقت کے ارادے کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسرائیلی قیادت اپنی غیر قانونی قبضے کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے عالمی کوششوں کی مکمل توہین کر رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کو فوری اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں، قابض قوت کو خطے کو مزید غیر مستحکم کرنے اور فلسطینی عوام پر مظالم ڈھانے سے روکا جا سکے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ایک آزاد، خودمختار اور متصل ریاستِ فلسطین کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ ادھر اسرائیل کے مزید 3ہزار رہائشی یونٹ کی تعمیر کے منصوبے کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی ہے۔ یورپی یونین، جرمنی اور ترک وزارت خارجہ نے اسرائیل کے نئی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کر دیا۔ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی امور کے سربراہ کاجاکالاس نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاری کا منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، نئی بستیوں کا منصوبہ 2ریاستی حل کو مزید کمزور کرتا ہے۔
جرمن وزارت خارجہ نے 3ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کرنے کے اسرائیلی منصوبے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ کے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی بستیاں تعمیر کرنا بند کرے۔ وزیر خارجہ سپین نے بھی اسرائیل کے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی منصوبہ دو ریاستی حل کو نقصان پہنچاتا ہے جو امن کا واحد راستہ ہے۔
اسرائیلی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، ہم بسیتوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ بیلجیم نے اسرائیل سے بستیاں تعمیر نہ کرنے اور بے دخلیوں کو روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ فیصلے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بھڑکا رہے ہیں۔ یواے ای نے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کے گریٹر اسرائیل بیان سے عرب ریاستوں کی خودمختاری کو خطرہ ہے۔ ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرتا ہے، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔ دریں اثنا سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ فلسطین کے قیام میں رکاوٹ ڈالنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
مسلم ممالک کی عالمی تنظیم اسلامی تعاون تنظیم (OIC)نے بھی اسرائیل کے مغربی کنارے میں یہودی بستیاں آباد کرکے فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے مغربی کنارے میں اسرائیل کے ان ناپاک عزائم کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور منظم جنگی جرم قرار دیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button