لاہور (بیوروچیف /سید ظہیر نقوی سے )پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہورمیں مریضوں کے ساتھ میتوں کا تقدس بھی پامال کیا جانے لگا۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور المعروف پاگل خانہ کا شمار صوبائی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں میں ہوتا ہے لیکن شدید بد انتظامی اور کرپشن کی وجہ سے مریضوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بد ترسلوک کیا جارہا ہے ۔

اعلیٰ افسران کی نااہلی اور انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سےہسپتال ایمبولینس جیسی سہولت سے محروم ہے جبکہ دوسری جانب ٹائلوں پر کثیر سرمایہ خرچ کیا جارہا ہے ۔
چند روزقبل پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کی اے بلاک میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا،ہسپتال میں داخل طارق غلام نامی مریض جو بیڈسول کی وجہ سے وفات پا گیا تھا اس کی میت کی حرمت کو سرعام پامال کیا گیا ،طارق غلام کی میت کوکئی گھنٹے بے یارومددگار پڑا رہنے دینے کے بعد ہیڈ ڈرائیور غلام مصطفیٰ تدفین کیلئے ایمبولینس کی بجائے کھانا تقسیم کرنے والے رکشہ میں لوڈ کر کے لے گیا جس کو بعدازاں لاوارث قر ار دے کر دفنا دیا گیا۔
چند ماہ قبل گرینڈ ہیلتھ الا ئنس پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے رہنمائوں اور ینگ ڈاکٹرز ڈاکٹر کاشف خان ،جنرل سیکرٹری ڈاکٹر طیب ، ڈاکٹر عثما ن نے بھی پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ ہسپتال میں ملازمین اورمریضوں کے ساتھ ناروا سلوک کیاجارہاہے انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ہسپتال کے مسائل پرتوجہ دی جائے لیکن تاحال کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
2018 میں بھی سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے صورتحال کا نوٹس لیا تھا لیکن تاحال صورتحال جوں کی توں ہے ۔
2پروفیسرز،4ایسوسی ایٹ پروفیسرز،2اسسٹنٹ پروفیسرزسمیت تقریبا1100کاسٹاف900کے قریب مریضوں کی نگہداشت میں ناکام نظر آرہا ہے ،اڑھائی ارب کے بجٹ کے باوجود کرپشن عام ہے مریضوں کو ادویات بھی بروقت نہیں دی جاتیں جبکہ مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔

نمائندہ سی این این اردو ڈاٹ کام کےہسپتال انتظامیہ کا موقف جاننے کیلئے رابطہ کرنے پر ای ڈی ثاقب باجوہ نے کہا کہ طارق غلام لاوارث تھا جو 15دسمبر 2024کوفوت ہوا اس کو علاج کیلئے ایمبولینس پر سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا اوروفات پر بھی ایمبولینس میں واپس لایا گیا لیکن اس کی تدفین کے وقت ہسپتال میں موجود دونوں ایمبولینس خراب تھیں اس وجہ سے فوڈ والی گاڑی پر لے کر گئے۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت ڈاکٹر امجد تعینات تھے ویسے بھی میت کو فوڈوالی گاڑی پر لے کر جانا کوئی بڑا ایشو نہیں باہر سے ایمبولینس اس لئے نہیں منگواتے کیوں کےپیسوں کا مسئلہ ہوتا ہے ،اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
ای ڈی ثاقب باجوہ نے انکشاف کیا کہ میر ی تعیناتی سے قبل مریضوں کے داخل کرانے پر بھی کرپشن کی جاتی تھی اور تمام نشہ استعمال کرنے والے مریضوں کا بھی ایک ہی علاج کیا جاتا تھا ہروارڈمیں منتھلی لینے کا رواج تھا جس میں عملہ ملوث ہے لیکن میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں،خواتین کے بلاک میں بھی ایسی ہی صورتحال تھی۔
کرپشن ،بدا نتظامی سمیت سنگین انتظامات پر ای ڈی نے موقف اختیا رکیا کہ جن لوگوں کے مفادات پر ضرب لگی ہے وہ میرے خلاف چینخ رہے ہیں،پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے ، میں ای ڈی بننے پر راضی نہیں ہوں اگر مجھ سے سب ٹھیک کرانا ہے تو پھر مجھے اختیارات دیئے جائیں۔



