وارڈنز،ڈولفن’’ دیہاڑی‘‘ فورس میں تبدیل،عوام کی’’ چھترول‘‘،’’بڑوں‘‘ کو پروٹوکول
آئی جی،کمشنر ، ڈی سی،ایڈیشنل چیف سیکرٹریزسمیت متعددافسران کی گاڑیاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں میں شامل،11ارب ریونیوکی گونج،بدتمیزی سے تنگ شہری گاڑیاں جلانے پر مجبور،حکام سےنوٹس کی اپیل
لاہور:(رپورٹ،انعام علوی)ٹریفک پولیس اور ڈولفن فورس کے بظاہرآج کل دو ہی کام ہیں ایک وی وی آئی پی کو پروٹوکول اور دوسرا غریب عوام جو دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے ان کی جیبوں پر ڈاکہ مارنا ،جو بھی ہو ٹریفک وارڈن نے اپنے چالان پورے کرنے ہیں وہ چاہے کسی غریب کی دہاڑی چھین کر ہی کیوں نہ ہو ۔

لاہور میں اس طرح کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں ۔ایک شہری کی خبریں گزشتہ دنوں خبروں کی زینت بھی بنی کہ ٹریفک پولیس کے 2000 کے چالان کرنے پر شہری نے اپنی موٹر سائیکل ہی جلا ڈالی ۔شہری کا کہنا تھا کہ میرے پاس پیسے نہیں۔اتنا زیادہ چالان کہا سے بھروں ۔ بےروزگار شہری نے پولیس کو بہت دہائی دی لیکن پولیس نے ایک نہ سنی اور اس نے احتجاج کرتے ہوئے اپنی موٹر سائیکل ہی جلا ڈالی ۔


اس طرح کا ایک واقعہ مال روڈ اپر مال پر پیش آیا جہاں نئے شادی شدہ جوڑے نے وارڈن کی بہت منت سماجت کی ۔ دلہا کے پاس ہیلمٹ نہیں تھا جس پر 2000 کا جرمانہ دینا ضروری تھامگر دولہا دلہن نے درخواست کی کہ ہمارے پاس پیسے کم ہیں اس وقت آپ کوئی کم والا جرمانہ کر لیا مگر یہاں کھڑے ہمارے ہمارے محافظ اس بات پر نہ مانے اور موٹرسائیکل کو بند کرنا کرنے کا کہتے رہے وہاں سے گزرنے والے ایک رحم دل شخص (مقامی صحافی)نے اس جوڑے کو اپنی بیٹی بیٹا جانا اور خود ان کا 2000 کا جرمانہ ادا کردیا۔
کیاپولیس والوں کو اتنا احساس نہیں ان میں جو انسان اپنی جیب دکھا دے پھر بھی اس کو اس کی نئی نویلی دولہن کے سامنے رسوا کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔واہ رے تیرے قانون غریب کا چالان اور امیر کے لیے پروٹوکول۔۔۔۔اللہ تعالی غریبوں پر رحم کرے۔راوی روڈ اور موٹر وے سے لاہور آنے والی گاڑیوں جہاںموٹر وے ختم ہوتا اور لاہور میں داخل ہوتے ہیں وہاں بھی سڑک کے فرعون خوب تاک لگا کر باہر سے آنے والے چھوٹے بیوپاریوں اور دیگر لوگوں کابے تحاشہ چالان کرتے ہیں ان کا تو باقاعدہ بھتا لگا ہواہے۔

ایک غریب پھلوں کی لاری لے کر لاہو ر آیا تو ٹریفک وارڈن کے ہتھے چڑھ گیا اور اس نے اس غریب ڈرائیور پر ایف آئی آر کاٹ دی حالانکہ اس کی غلطی بھی نہیں تھی اس ڈارئیور کو وہ رات راوی روڈ کی حوالات میں گزارنا پڑی اور اگلے دن 15 سے 20 ہزار یکر جان چھوٹی ۔

ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ اس میں ڈولفن پولیس والے بھی اپنا پورا پورا حصہ ڈال رہے رات تین بجے مختلف ٹولیوں میں ایک چوک پر اکھٹا ہو جاتے اور پھر غریب موٹر سائیکلوں والوں کی شامت آجاتی ہے جو رشوت دے دے تو اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور جو نہ دے اس کی گاڑی بند ۔
ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں اعلیٰ بیوروکریٹس اور پولیس افسران کے زیر استعمال سرکاری محکموں کی 3,800 سے زائد سرکاری گاڑیاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہوئی پائی گئیں۔ ان میں انسپکٹر جنرل پولیس، لاہور کمشنر اور ڈی سی، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈی جیز، پاکستان پوسٹ، زراعت، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ہیلتھ سروسز، لیسکو کے سی ای او اور ایڈیشنل چیف سیکرٹریز شامل تھے۔
یہ انکشاف سٹی ٹریفک پولیس (CTP) لاہور کی جانب سے بنائی گئی ایک رپورٹ میں کیا گیا ، جس میں کل 3,896 سرکاری گاڑیوں کا ریکارڈ موجود ہے جنہیں ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق دیگر وفاقی اور صوبائی محکموں میں پنجاب پولیس سرفہرست ہے جس کی 496 سرکاری گاڑیاں لاہور میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوئیں، اس کے بعد سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی 358 اور لاہور الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی (لیسکو) کی 328 گاڑیاں ہیں۔
آئی جی پی، کمشنر، ڈی سی، ڈی جی ایف آئی اے، دیگر اعلیٰ افسران کی گاڑیاں خلاف ورزیاں، جرمانے ادا نہ کرنے والی پائی گئیں۔محکموں کے بارے میں ٹریفک پولیس نے بتایا کہ بہت سی گاڑیاں سی ایم مانیٹرنگ سیل، قانون، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق کے محکمے پنجاب، پاکستان ریلوے، پنجاب ریونیو اتھارٹی، پی ٹی ای ایل ، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، وزارت ریلوے، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز، محکمہ داخلہ پنجاب، محکمہ ترقیات پنجاب، محکمہ ترقیات پنجاب، محکمہ ماحولیات کی تھیں۔
ایک ایس پی کے استعمال میں 107 مرتبہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی (سب سے زیادہ خلاف ورزیاں) اور اس گاڑی پر 50,300 روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ ڈی جی زراعت پنجاب کے زیر استعمال گاڑی نے 83 مرتبہ ٹریفک ضوابط کی خلاف ورزی کی اور اس کا 74000 روپے جرمانہ ادا نہیں کیا گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی ایک سرکاری گاڑی نے 47 خلاف ورزیاں کیں اور اس کا 21,300 روپے جرمانہ ابھی تک ادا نہیں کیا گیا۔
اسی افسر کی سات دیگر گاڑیوں کو 65 مرتبہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی 300 گاڑیاں واپڈا، 184 محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری، 181 پی ٹی سی ایل، 130 ایس این جی پی ایل، 122 محکمہ آبپاشی، 117 پی ایف اے پنجاب، 107 ڈی سی آفس، 102 لاہور کنٹونمنٹ اتھارٹی، نیشنل ہائی وے 9، ہائی وے 9، 107 ڈی سی آفس کی تھیں۔ محکمہ، 89 ایل ڈی اے، 76 پاکستان ریلوے، 69 پنجاب ریونیو اتھارٹی، 68 محکمہ صحت پنجاب، 61 پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی، 42 پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ، 41 رنگ روڈ اتھارٹی، 40 پنجاب بورڈ آف ریونیو، 37 پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، 31 ایف آئی اے وغیرہ۔ سٹی ٹریفک پولیس نے تفصیلی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ یہ گاڑیاں 73 محکموں کی ہیں۔ان گاڑیوں کے انچارج تمام اہلکاروں نے کبھی بھی جرمانے ادا کرنے کی زحمت نہیں کی۔
یہ قانون صرف غریب کے لیے امیر کے لیے کچھ نہیں بس دکھاوے کے طور پر ان کا جرمانہ کیا جاتا ۔ ٹریفک پولیس کے سخت رویے کے خلاف شدید عوامی ردعمل بھی سامنے آیا ہے اور بہت سے لوگوں کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بدعا دیتے دیکھا گیا بلکہ اس حوالے سے بہت سی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہوئی ہیں ۔لیکن 11 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کی ٹریفک پولیس کی دوڑ نے لاہور کی عوام کو سخت اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔

اپنی بیگم عمارہ اطہر کی جگہ آنے والے سی ٹی او لاہور ڈاکٹر محمد اطہر وحید شاید عوام کو جرمانوں کے نام پر تنگ کر کے 11 ارب کا ریونیو جلد سے جلد حاصل کر کےافسران اعلی کے مزید منظور نظر بننا چاہتے ہیں ۔شہریوں نے اس حوالے سے حکام خصوصا وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لیتے ہوئے ٹریفک جرمانوں کو کم سے کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔شہریوں کے مطابق ٹریفک پولیس کے چالان کم از کم300 سے 500 روپے ہونے چاہیے۔



