پاکستانی پنجابی شاعربابا نجمی کا کلام بھارتی یونیورسٹی کے نصاب میں شامل
لاہور:(شہزاد فراموش)پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی کے نامور بین الاقوامی شاعر بابا نجمی کے کلام کو بھارت کی یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کر لیا گیا ہے۔
اب بھارتی طلبہ ان کی شاعری کو پڑھے بغیر گریجوایشن نہیں کر سکیں گےان کا کلام بھارتی شہرکی یونیورسٹی آف بیکانیر کے پنجابی کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔جدید پنجابی شاعری کی اس نصابی کتاب کا نام ”کوی اُڈاری“ (شاعرانہ پرواز)ہے۔
اس کتاب کے ایڈیٹر ڈاکٹر کلدیپ سنگھ اور سندیپ سنگھ منڈے ہیں اس کتاب میں کل بارہ منفرد اور معروف شاعروں کا کلام شامل کیا گیا ہے۔ بھارت کے ایوارڈ ونر شعراء جن میں امرتا پریتم‘شو کمار بٹالوی‘ڈاکٹر جگتار‘ڈاکٹر ہر بھجن سنگھ‘ بابا نجمی‘ اوتار لوپ‘بھائی ویر سنگھ‘پروپورن سنگھ‘دھنی رام چاترک‘پروفیسر موہن سنگھ‘سرجیت پاتر‘سنت رام اداسی اور جسونت ظفر شامل ہیں۔
بابا نجمی واحد پاکستانی پنجابی شاعر ہیں جن کا کلام بھارت کی کسی یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہوا ہے۔اس سے پہلے بابا نجمی کا مجسمہ 2013میں بھارتی شہر موگا میں اور اگلے برس بھارتی شہر برنالہ میں سجایا گیا۔
برنالہ میں مجسموں کی تعداد 12ہے جہاں بابا بلھے شاہ کا مجسمہ بھی نصب ہے۔ اس کے علاوہ ان کا انگلینڈ کے سکھ نیشنل میوزیم میں بھی پوسٹر سجایا گیا ہے۔کئی سکولوں کے کتب خانے ان کے نام سے منسوب ہیں۔ ان پر اب تک دو ایم فل بھی ہو چکے ہیں۔وہ کینیڈا‘انگلینڈ‘ قطر‘ بھارت اور دیگر ممالک کے متعدد بار دورے اور بہت سے ایوارڈز اپنے نام کر چکے ہیں تاہم ابھی تک حکومت پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس جیسے ایوارڈسے نہیں نوازا۔



