اردو ناول اپنے ارتقا کی طرف گامزن ہے ، اردو شاعری کے بعد جب فکشن کی طرف دیکھا جائے تو قرۃ العین حیدر جیسی بڑی فکشن نگار سامنے آتی ہیں ، ترقی پسند تحریک بھی واجدہ تبسم ، ہاجرہ خدیجہ مستور اور سب سے بڑھ کر عصمت چغتائی جیسی بے باک فکشن لکھنے والی خواتین کو سامنے لائی ہے ،پچھلے کچھ عرصے سے جن خواتین فکشن نگاروں کام سامنے آیا ہے وہ ڈائجسٹ کا فکشن تھا ناول ہویا ڈرامہ اس میں کوئی چونکا دہنے والی بات نہیں ہوتی تھی۔

سیدھی سی پریم کہانی شروع ہوتی تھی ، تھوڑے سے الجھائو کے بعد پریم کہانی ختم ہو جاتی تھی ، آخر میں سب ہنسی خوشی رہنے لگ پڑتے تھے یہ جو ہنسی خوشی رہنے کا اختتامیہ ہے یہ ڈائجسٹ میں تو چل جاتا ہے مگر ادب عالیہ اس کو قبول نہیں کرتا ، جن خواتین لکھاریوں کی تخلیقات کا سطور بالا میں تذکرہ کیا گیا ، ان کا مسئلہ ادبی تربیت کی کمی مطالعے کا فقدان تھا ، ڈاکٹر شاہدہ دلارو کے ہاں یہ مسائل نہیں ہے پچھلے 15 سالوں سے میں انکو ادبی اجلاسوں میں آتے دیکھ رہا ہوں وہ وہاں خاموش تماشائی کے طور پر شریک نہیں ہوتیں بلکہ تنقیدی اجلاسوں شاعری افسانے یا ناول کے باب پر کھل کر اظہار خیال کرتی ہیں ، اپنی شاعری افسانہ ناول بھی تنقید کیلئے پیش کرتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انکی ادبی تربیت کس قدر بھرپور ہوہی ہے
انکی مطالعے کے ذوق کا اندازہ کرنا ہے تو ناول ، سمے کا ساحل ، پڑھ لیں اس ناول کی ایک ایک سطر اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر شاہدہ دلاورشاہ کس قدر وسیع مطالعہ والی خاتون ہیں ’’ سمے کا ساحل ” آج کا ناول کردار عصر حاضر کے نمائندہ ہیں ، ڈاکٹر شاہدہ نے جو کچھ سماج میں دیکھا ہے ان کو اپنے کرداروں میں بیان کر دیا ہے ، سمے کا ساحل کوہی ڈائجسٹ کی سطحی سی پریم کہانی نہیں ہے بلکہ سماجی منظر کشی کی حقیقی منظر نگاری ہے ، جس کے کردار پل پل چوکنے پر مجبور کرتے ناول کا سب سے توانا کردار خلیل کا ہے حو ساحر لدھانوی کے شعر کی طرح جو سماج اسے دیتا ہے وہ سماج کو اپنے عمل کی طرح لوٹا دیتا ہے ، سمے کا ساحل اردو فکشن میں ایک بہترین اضافہ ہے راقم کو کبھی ناقد ہونے کا زعم نہیں رہا جب بھی فکشن پڑھتا ہوں تو ایک فکشن نگار کی طرح پڑھتا ہوں اور ویسے ہی اس پراظہار خیال کرتا ہوں ، سمے کا ساحل کے اختتام پر سب ہنسی خوشی نہیں رہنے لگ پڑتے بلکہ بہت کچھ سوچنے اور غوروفکر پر مجبور کرتے ہیں ۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



