پاکستانتازہ ترینکالم

ارائیوں کی ماحولیاتی کانفرنس

میاں حبیب

کہتے ہیں اچھی بات پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ وطن عزیز مختلف بحرانوں سے گزر رہا ہے سیاسی، معاشی، معاشرتی بحران اپنی جگہ پر ہیں لیکن پاکستان میں بسنے والے انسانوں کی بقا کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں جس کا کسی کو اس کی سنگینی کے مطابق ادراک بھی نہیں۔ پاکستان میں آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ پینے کا پانی نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ جو موجود ہے اس میں زہریلے مواد شامل ہوتے جا رہے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ قابل استعمال نہیں رہے گا۔ہوا(آکسیجن )میں زہر گھل چکا ہے۔ جس سانس پر ہم زندہ ہیں وہ اتنا آلودہ ہے کہ ہر سانس کے ساتھ ہم اپنے اندر زہر لے جا رہے ہیں۔ پاکستان بیماریوں کا گھر بنتا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے باعث موسم تبدیل ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ، قحط سالی، سیلاب، طوفان اور نہ جانے کیا کیا خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ لیکن ہم اس پر توجہ دینے کی بجائے ماحول کو مزید پراگندہ کیے جا رہے ہیں لیکن جس بات نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا ہے اس سے احساس ہوا کہ کہیں نہ کہیں کچھ لوگ ان خطرات کو محسوس کرکے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں چند روز قبل مجھے ارائیں برادری کے ایک اکٹھ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ویسے تو یہ انجمن آرائیاں پاکستان کی جنرل کونسل کا اجلاس تھا جس میں پنجاب کے تمام اضلاع سے عہدیدار شریک تھے جبکہ دوسرے صوبوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ عمومی طور پر ایسی تقریبات میں تنظیمی گفتگو ہوتی ہے کارکردگی اور مستقبل کے منصوبے زیر بحث لائے جاتے ہیں لیکن حیران کن طور پر انجمن کے صدر میاں سعید ڈیرہ والا اور سیکرٹری جنرل خالد حبیب الہی ایڈووکیٹ سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ چونکہ ہماری برادری کی اکثریت کا تعلق زمین سے ہے، پاکستان کی آبادکاری میں ہمارا بنیادی کردار ہے، پاکستان کے طول وعرض میں جو کھیت لہلہا رہے ہیں اس میں بھی ہمارا مرکزی کردار ہے لیکن آج پاکستان کے ماحول کو جو خطرات لاحق ہیں ان سے نمٹنے کیلئے بھی ہمیں بنیادی کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں پاکستان کو سرسبز بنانا ہو گا۔ ہمیں اپنے کھیتوں میں سبزیاں اور فصلیں اگانے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں درخت لگانا ہوں گے۔ شہروں میں بسنے والوں کو ہر سال اپنے گھر میں یا گھر کے باہر کم ازکم ایک درخت ضرور لگانا چاہیے۔ پاکستان میں چونکہ پانی کی کمی واقع ہو رہی ہے اس لیے ہمیں واٹر مینجمنٹ کا ماڈل متعارف کروانا ہو گا۔ اس کا آغاز بھی ہمیں ماڈل کے طور پر کرنا چاہیے۔ گھروں میں کم سے کم پانی استعمال کریں، پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ ہمارے کسان بھائی ڈرپ اریگیشن اور جدید طریقوں سے کم پانی سے زیادہ بہتر فصلیں حاصل کرنے کے طریقے اپنائیں۔ ہمیں اپنی زمینوں میں بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے جگہ مختص کرنی چاہیے تاکہ وہاں بارش کا پانی اکٹھا کر کے اسے فصلوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

اصل لیڈر شپ اسی قسم کی ہوتی ہے جو راستہ دکھاتی ہے، جو مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرتی ہے اور ان خطرات سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل دیتی ہے۔ چونکہ پاکستان کو ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہے تو اس وقت قوم میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ بلا شبہ یہ ذمہ داری حکومتوں کی ہے لیکن بعض ایسے کام ہیں جن میں افراد کو بھی اپنے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے بنیادی طور پر تو یہ محسوس کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب یہ مسئلہ کسی حکومت یا جماعت کا نہیں رہا، یہ انسانوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ یہ آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کا مسئلہ ہے لہذا اس میں ہر فرد کو اپنے طور پر کردار ادا کرنا ہو گا۔ اگر پاکستان کا ہر فرد یہ تہیہ کر لے کہ اس نے پلاسٹک کا استعمال کم سے کم کرنا ہے، اس نے پلاسٹک کو آگ نہیں لگانی، سڑکوں پر اشیاء پھینکنے کی بجائے ڈسٹ بن میں ڈالنی ہیں۔ ابھی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گند ڈالنا ان کا حق ہے اور صفائی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یقین کریں کہ اگر ہم صرف ایک کام کرلیں ہم اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھنا شروع کر دیں، ہم اپنی گلی اور محلے کی صفائی کو یقینی بنا لیں، دوکاندار اپنی دوکان کے سامنے صفائی کو یقینی بنا لے تو یقین کریں آدھی بیماریاں ویسے ہی ختم ہو جائیں۔ اور اگر ہم پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنا دیں تو ہمارے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہو جائے۔ جتنے پیسے ہم سالانہ ادویات پر خرچ کرتے ہیں اس سے آدھا پیسہ ہم بچا کر انسانی فلاح پر خرچ کرنا شروع کر دیں تو پاکستان میں کوئی بھوکا نہ سوئے۔

اسی طرح اگر بطور قوم ہم تہیہ کر لیں کہ ہم نے ماحولیاتی تبدیلی کے آگے بند باندھنا ہے تو ہم ایک سال میں صرف درخت لگا کر ماحول بدل سکتے ہیں۔ ضروت اس امر کی ہے کہ ہر سطح پر اس کی سنگینی کا احساس کیا جائے۔ گھر کے سربراہ سے لے کر ملک کے سربراہ تک اس کو قومی جذبہ کے طور پر اجاگر کرے اور مستقبل کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر آپ نے یہ کردار ادا نہ کیا تو آپ کے آئندہ نسلوں کے لیے اکٹھے کیے جانے والے اثاثے بھی کسی کے کام نہیں آئیں گے۔ آکسیجن نے تو ہر ذی روح کی سانس کی ڈوری بحال رکھنے کے لیے جسم میں جانا ہے اگر آپ آکسیجن میں زہر گھولنے سے باز نہ آئے تو آپ اپنی نسلوں کے خود قاتل ہوں گے۔ آپ ماحول کو خراب کرکے اپنے بچوں کے قتل عام کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ خدارا اس کو محسوس کریں اور آپ بھی انجمن ارائیاں پاکستان کی طرح اپنا کردار ادا کریں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button