اسرائیلی بمباری: القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ سمیت 77شہید : ملٹری چیف محمد سنوار کی شہادت کی بھی تصدیق
ابوعبیدہ کے اہلخانہ اور القسام قیادت نے لاش کی شناخت کردی، بھوک سے مزید 10فلسطینی چل بسے،1اور یرغمالی کی لاش برآمد
غزہ، نیویارک (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی حملے میں القسام بریگیڈکے ترجمان ابو عبیدہ شہید ہوگئے، فلسطینی ذرائع نے شہادت کی تصدیق کردی۔عرب میڈیاکے مطابق اسرائیل نے غزہ میں زمین، فضا اور سمندر سے میزائلوں کی بارش کردی، گزشتہ 24گھنٹے میں 77افراد شہید ہوگئے، شہدا کی مجموعی تعداد 63ہزار 371تک پہنچ گئی۔
اسرائیل فوج نے غزہ پر حملے میں القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی ذرائع نے القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ کی شہادت کی تصدیق کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ابوعبیدہ کے زیر استعمال فلیٹ پر بمباری کی، اسرائیلی حملے میں فلیٹ میں موجود تمام افراد شہید ہوگئے، ابوعبیدہ کے اہلِ خانہ اور القسام قیادت نے لاش کی شناخت کردی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے قبل ازیں اعلان کیا تھاکہ غزہ میں حماس کی ایک نمایاں شخصیت کو نشانہ بنایاگیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے ایکس پیغام میں لکھاکہ غزہ شہر کے شمالی حصے میں حماس کے ایک مرکزی رکن پر فضائی حملہ کیا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس کارروائی کا ہدف القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ تھے ۔دوسری طرف حماس نے غزہ میں ملٹری چیف محمد سنوارکی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔
حماس نے اسرائیلی بیان کے چند ماہ بعد تصدیق کی ہے جس میں تل ابیب نے کہا تھا کہ محمد سنوار کو مئی میں ایک حملے میں مار دیا تھا۔ حماس نے محمد سنوار کی موت کے حوالے سے تفصیل نہیں جاری کی۔محمد سنوار، حماس کے سربراہ یحیٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے جو گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیلی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ ادھر غزہ میں قحط کی صورتحال برقرار ہے جہاں بھوک کی شدت سے مزید 10 فلسطینی دم توڑ گئے، فلسطینی حکام نے عالمی برادری سے امداد کی بحالی میں رکاوٹ بننے والی اسرائیلی فوج کے خلاف اقدامات کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مطابق غزہ آپریشن کے دوران ایک اور اسرائیلی قیدی کی لاش مل گئی ہے، حماس کی قید میں موجود اسرائیلیوں کی تعداد 48 رہ گئی۔دریں اثنا غزہ میں وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے کہا ہے کہ غزہ میں قحط اسرائیلی قبضے اور جاری جارحیت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قحط کے اعلان کے بعد عالمی برادری خوراک فوری فراہم کرے۔ دوسری جانب غزہ میں فوجی آپریشن کی توسیع کے منصوبے پر برطانیہ نے اسرائیلی حکام کو لندن دفاعی نمائش میں مدعو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر کو خالی کرانے کی اسرائیلی کوششیں شہریوں کو خطرے میں ڈال دیں گی جبکہ اسرائیلی فوج نے مزید کارروائی سے قبل علاقے کا محاصرہ سخت کر دیا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ریلی نکالی گئی جس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ہزاروں لوگوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مظاہرہ کیا اور حکومت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر اٹلی کے شہر وینس میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ سوئیڈن میں بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جس میں بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی نے شرکت کی۔ غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور بڑھتے ہوئے ہلاکتوں کے بعد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے ( او ایچ سی ایچ آر ) کے سیکڑوں ملازمین نے ادارے کے سربراہ وولکر ٹرک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کھلے الفاظ میں اس جنگ کو نسل کشی قرار دیں۔



