پاکستانتازہ ترینکالم

بایاں بازو کا المیہ ۔۔۔

حسنین جمیل

وطن عزیز کی آزادی کے فورا بعد معروف ادیب انجمن ترقی پسند مصنفین کے روح رواں سجاد ظہیر کو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے پاکستان میں تنظیمی ذمہ داریاں سونپ دی تھیں ، وہ پاکستان آکر پارٹی کی تنطیم نو کرنے لگ گئے ان کے کاموں کا تذکرہ حمید اختر مرحوم اکثر اپنے کالموں میں کیا کرتے تھے ، بلکہ انکی کتاب (آشنائیاں کیا کیا ) پڑھنے کے لائق ہے اس دروان راولپنڈی سازش کیس ہو جاتا ہے اور سجاد ظہیر فیض احمد فیض اور دیگر پاپند سلاسل ہو جاتے ہیں ۔

سجاد ظہیر اور انکے ساتھی پاکستان کے پہلے اسیران جمہوریت تھے ،یہ بایاں بازو کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے وطن عزیز میں جمہوریت انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی جہدوجہد کا آغاز کیا پھر ایوبی آمریت کے خلاف جہدوجہد کا آغاز کیا حسن ناصر بایاں بازو کے نظریاتی کارکن تھے جن کو ایوب خان نے شاہی قلعہ لاہور میں قید کیا اور تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا یوں وہ پہلے شہید قرار پائے جو جہدوجہد کی نظر ہوئے ادھر تک بایاں بازو بالکل ٹھیک جا ری سماج میں فکری تبدیلی برپا کرنے کے لئے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہا تھا۔

1965 کی جنگ میں شکست کے بعد ایوب خان کا زوال شروع ہوتا ہے انکے ذہین فطین وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کابینہ سے الگ ہو کر ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر رکھتے ہیں اور بایاں بازو کے بڑے بڑے نام معراج محمد خان ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ رشید، خورشد میر سب پیپلز پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں اور اسکے بعد پھر پاکستان کی بایاں بازو کی جماعتیں فکری طور پر مفلسی کا شکار ہو جاتی ہیں 1970 کے الیکشن میں بھٹو کا سونامی مغربی پاکستان میں سب کو بہا کر لے جاتا ہے۔

بایاں بازو کی جماعتیں صرف بھٹو کی اڑتی دھول ہی دیکھتی رہ گئیں اس کے بعد جتنے بھی الیکشن ہوئے بایاں بازو کی سیاسی جماعتیں ناکام رہیں اگرچہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی میں چند بایاں بازو کی سوچ رکھنے والے اکابرین تھے مگر مجموعی طور پر بایاں بازو کی حالت بہت پتلی تھی ایک ڈاکٹر عبدل حئ بلوچ کی پارٹی کو چھوڑ کرجن کو بلوچستان میں قومی کی ایک یا دو صوبائی اسملی کی سیٹیں مل جاتی تھیں ڈاکٹر بلوچ بھی نظریات پس پشت میں ڈال کر اقتدار کے لئے ن لیگ جیسی دایاں بازو کی جماعت کے اتحادی بن گئے ، ڈاکٹر لال خان فاررق طارق جیسے نظریاتی لوگ اپنے طور پر جہدوجہد کرتے رہے مگر عوامی سطح پر کامیاب نہ ہو سکے ، بایاں بازو عملی طور پر ختم ہو گیا۔

جب عمران خان کا سیاسی ابھار ہوا تو بایاں بازو کے بہت سے سیاسی سوچ رکھنے والے خوا مخوا بغص عمران خان میں مبتلا ہو گئے انکے سامنے مذہبی ٹچ پیپلز پارٹی جمعہ کی چھٹی، شراب پر پابندی، عوامی نیشنل پارٹی پشاور میں اپنی لگ عید کی نماز کا اعلان، نواز لیگ شریعت نافذ کرنے جیسے ڈھونگ رچاتی رہی مگر بایاں بازو کی توپوں کا رخ عمران خان کی طرف رہا۔

2018میں عمران خان کو فوج کا بندہ کہتے رہے ،پیپلز پارٹی ایوب خان اور ن لیگ ضیاالحق کی بغل بچہ بنی رہی مگر بایاں بازو خاموش رہا پچھلے 3 سالوں میں پیپلز پارٹی اورن لیگ نے ہر کام ہیت متدرہ کے ساتھ مل کر کیا ہے عمران خان دو سال سے جیل میں ہے ساتھ اسکے ساتھی بھی جیل میں ہیں مگر بایاں بازو کے اکابرین ابھی بھی بغض عمران خان میں مبتلا ہیں اورن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ شامل برات ہیں اور عمران خان کے خلاف ہیں یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بایاں بازو کا فکری دیوالیہ پن ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button