ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو بے کار قرار دیدیا : موسمیاتی تبدیلی دھوکہ، مودی سرکار پر بھی برس پڑے، اپنی تعریفیں
امریکہ دنیا میں امن کیلئے کردار ادا کرے گا، ابراہیم معاہدے پر بات چل رہی، بھارت تیل خرید کر روس کو مضبوط کر رہا، لندن نہیں جائوں گا، وہاں کا میئر شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے، امریکی صدر کا جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب
نیویارک ( ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاک بھارت سمیت 7جنگیں رکوائیں، اقوام متحدہ کا ساتھ شامل نہیں تھا، اقوام متحدہ کے وجود کا مقصد کیا ہے، یہ ادارہ اپنی استعداد کام کے مطابق کام نہیں کر رہا، کئی طاقتور ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرلیا، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کیلئے زبردست انعام ہو گا، غزہ میں امن چاہتے ہیں تو تمام 20یرغمالیوں کی رہائی کی حمایت کریں، حماس نے امن کی مناسب پیش کشوں کو مسترد کیا، فلسطینی ریاست کا قیام حماس کیلئے اچھا ثابت ہو گا۔
امریکہ دنیا میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے گا، ابراہیم معاہدے پر بات چیت چل رہی ہے، میں کسی انعام نہیں، دنیا میں امن کے لیے کوششیں کر رہا ہوں، ایران دہشتگردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے اور ایٹم بم جیسا مہلک ترین ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ہم کبھی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، روسی تیل خرید کر بھارت روس کو مضبوط کر رہا ہے، یورپی ممالک روس سے تیل خریدتے ہیں،یہ شرمناک ہے، چین بھی تیل خرید رہا ہے، معاہدہ نہ کیا تو روس پر محصولات عائد کریں گے، یورپ کو روس سے توانائی کی تمام خریداریاں فوری روک دینی چاہئیں، لندن نہیں جانا چاہتا، وہاں کا میئر ٹھیک نہیں، وہ اب وہاں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں کر سکتے، موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا دھوکہ ہے، بائیڈن انتظامیہ سے ہمیں معاشی بربادی ورثے میں ملی، آج امریکی معیشت دنیا کی مضبوط ترین معیشت اور ہماری فوج دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کے بھرپور ڈھنڈورے پیٹے اور عالمی ادارے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وہ مودی سرکار پر بھی برس پڑے اور بھارتی رویے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ مجھے یہاں بلانے کے لیے بہت شکریہ، چھ سال پہلے میں نے جنرل اسمبلی سے آخری خطاب کیا تھا اس کے بعد سے دو براعظموں میں جنگوں نے امن و امان کو تاراج کر دیا اور شدید بحرانوں نے جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل، گزشتہ انتظامیہ کے تحت امریکہ شدید مشکلات کا شکار تھا، میرے عہدہ صدارت سنبھالنے کے صرف آٹھ ماہ بعد حالات تبدیل ہوگئے اور اب امریکہ دنیا کا پسندیدہ ترین ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ سے ہمیں معاشی بربادی ورثے میں ملی مگر آج امریکی معیشت دنیا کی مضبوط ترین معیشت اور ہماری فوج دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے اور یہ درحقیقت امریکہ کا سنہرا دور ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میری لیڈرشپ میں امریکہ میں مہنگائی کم ہوئی ہے اور افراط زر کو شکست دی جاچکی ہے، سٹاک مارکیٹ تاریخی بلندیوں پر ہے اور کارکنان کی تنخواہیں 60سال میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں غیرقانونی طور پر آنے والوں کے راستے بند ہوچکے ہیں اور ان کی آمد صفر ہوگئی ہے جبکہ بائیڈن کی پالیسیوں کی وجہ سے ماضی میں لاکھوں لوگ غیرقانونی طور پر امریکہ آرہے تھے۔ امریکی صدر نے کہا کہ سات ماہ کے عرصے میں میں نے نہ ختم ہونے والی سات جنگیں ختم کرائیں، ان میں سے دو جنگیں31سال سے چلی آرہی تھیں، افسوس ہوا کہ اقوام متحدہ کے بجائے مجھے جنگیں بند کرانی پڑیں، میں نے پاک بھارت سمیت سات جنگیں بند کرائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگیں ختم کرانے پر اقوام متحدہ سے ایک فون کال بھی نہیں آئی، اقوام متحدہ کھوکھلے الفاظ سے جنگیں نہیں رکوا سکتی۔
امریکی صدر نے اقوام متحدہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے وجود کا کیا مقصد ہے، یہ ادارہ اپنے مقصد اور اپنی استعداد کار کے مطابق کام نہیں کر رہا، جنگ بندی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کہاں تھی؟ اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کرنا چاہتا ہوں۔ ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ بی ٹو طیاروں کے ذریعے ایرانی جوہری صلاحیت مکمل تباہ کردی تھی، ایران دہشتگردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے اور ایٹم بم جیسا مہلک ترین ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ہم کبھی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکہ کے حملے کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اس سال کے شروع میں ایران کی ایک اہم جوہری تنصیب پر بمباری کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم نے وہ کام کیا جو لوگ 22سال سے کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے غزہ جنگ کے خاتمے کی بھی کوشش کر رہا ہوں مگر حماس جنگ بندی کی کوششیں مسترد کرتی آئی ہے، حماس نے قابل عمل امن معاہدوں کو مسترد کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم غزہ سے تمام 20یرغمالیوں کی فوری رہائی چاہتے ہیں ، اگر غزہ میں امن چاہتے ہیں تو تمام 20یرغمالیوں کی رہائی کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے مطالبات پورے کرنے کے بجائے یرغمالی رہا کرنے کا مطالبہ کیا جائے، امریکی صدر نے کہا کہ مختلف ممالک کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کیلئے بڑا انعام ہوگا۔ روس کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سمجھتا تھا پوتن سے تعلقات کی وجہ سے یوکرین جنگ روکنا آسان ہوگا، اگر روس، یوکرین جنگ بند کرنے کیلئے راضی نہیں تو ٹیرف عائد کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین اور بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھ کر اس جنگ کو مسلسل طول دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک بھی روس سے تیل اور گیس خرید رہے ہیں، یورپ روس سے لڑ بھی رہا ہے اور اس سے تیل و گیس بھی خرید رہا ہے، یورپی ممالک روس سے توانائی کے تمام منصوبے بند کر دیں۔ امریکی صدر نے بایولوجیکل ہتھیاروں کے بارے میں کہا کہ کہ انہیں بالکل ختم کرنا چاہیے، ہماری انتظامیہ بایولوجیکل ویپنز کنونشن پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے ایک بین الاقوامی کوشش کی قیادت کرے گی، اور ایک ایسے مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) تصدیقی نظام کا قیام ہوگا جس پر سب اعتماد کر سکیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ تمام ملکوں کا تعاون بائیولوجیکل ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی کوششوں میں معاون ہو گا، تارکینِ وطن کا معاملہ ہمارے دور کا بڑا مسئلہ ہے، اقوامِ متحدہ اس بے قابو مسئلے کے لیے فنڈنگ کر رہی ہے۔
امریکہ میں منشیات لانے والے غیر قانونی گروہوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی امریکا کا کرائم کیپیٹل تھا، اسے دوبارہ پْرامن بنایا، بائیڈن دور میں لاکھوں بچے امریکہ سمگل کیے گئے، واشنگٹن ڈی سی میں فوج کو تعینات کر کے جرائم پر قابو پایا، یہ اب ایک محفوظ ترین شہر ہے، موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا دھوکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی انعام نہیں، دنیا میں امن کے لیے کوششیں کر رہا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا دھوکا ہے، کاربن اخراج جیسی باتیں بکواس ہیں، یوکرین میں بھی اموات روکنے کی کوششیں کر رہا ہوں، میں صدر ہوتا تو یوکرین جنگ نہ ہوتی، ہم مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ یرغمالی واپس آ سکیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے دنیا کے بڑھتے ہوئے بحرانوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ 80سال پہلے درجنوں ممالک نے دنیا میں امن کے لیے اقوام متحدہ کو تشکیل دیا تھا۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ دنیا میں قیام امن اور انسانیت کی بقا کے لیے ایک موثر اور اجتماعی حکمت عملی کے طور پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اصول جن پر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی آج محاصرے میں ہیں۔ امن اور ترقی کے ستون بے حسی، عدم مساوات اور سزا سے استثنیٰ کے بوجھ تلے لرز رہے ہیں۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جو غیر ذمے دارانہ خلفشار اور مسلسل انسانی تکالیف سے عبارت ہے۔ سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح کی دنیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، کیونکہ ہمارے سامنے انسانی المیوں اور ماحولیاتی خطرات کی گھنٹیاں مسلسل بج رہی ہیں۔ سربراہ اقوام متحدہ نے کہا کہ خودمختار ممالک پر حملے کیے جا رہے ہیں، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، سچ کو دبایا جا رہا ہے، اور شہروں کے ملبے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
فلسطین کی صورت حال کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ میں ہولناکیاں جاری ہیں اور وہاں قتل و غارت کا دائرہ تمام حدیں پار کر چکا ہے۔ انہوں نے غزہ کی صورت حال کو بدترین قرار دیتے ہوئے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ غزہ پر عالمی عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ حماس کے 7اکتوبر کے حملوں کے جواب میں غزہ کے معصوم عوام کو اجتماعی سزا دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سربراہ اقوام متحدہ نے کہا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی اور فوری طور پر یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صلاحیتوں کو ’’ کمزور‘‘ کرنے کی منظم کوششیں کی جاری ہیں جس سے عالمی امن اور ترقی کے اہداف شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ گوتریس نے سلامتی کونسل کی موجودہ حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر امریکہ اور روس کی جانب سے بار بار ویٹو پاور کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بنایا جس نے غزہ اور یوکرین کی جنگوں میں عالمی ادارے کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔



