پاکستانتازہ ترینکالم

کوئی مسیحا نہیں آئے گا

بے لگام / ستار چوہدری

بھیڑیں سڑک عبور کررہی ہوں تو گاڑیوں والے ہارن پر ہارن بجانے لگتے ہیں، سائیکل والا بھی گھنٹی بجاتا ہے کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔۔جب شیر سڑک عبور کررہا ہو،کسی کی ہمت نہیں ہوتی۔۔۔لہذا طاقتور بنو،ورنہ ہر شخص تم پر گھنٹی بجاتا رہے گا۔۔۔
جس رشتے میں آپکو عزت اور وقت بھیک مانگنے سے ملے اس رشتے کو وہیں سے توڑ دینا چاہیے۔
نہ بلاؤں سے نہ آفات سے ڈر لگتا ہے
اب تو اپنوں کی عنایات سے ڈر لگتا ہے
جو سب کے ہوتے ہیں وہ کسی کے نہیں ہوتے۔۔۔جو کسی ایک کا ہوتا ہے وہ سب کا کبھی نہیں ہوتا۔
دو باتیں بڑےکام کی ہیں۔۔۔
خود کو بدل لو۔۔۔نہیں تو زمانے کو بدل دو۔۔۔لیکن ۔۔۔زمانے کو بدلا نہیں جاسکتا،آدمی گھٹ گھٹ کر مرجاتا ہے۔
محبت،پیار،عنائت،کرم،عشق،دوستی،وفا،قربانی یہ سارے ’’رشتے ‘‘فلموں،ڈراموں،کتابوں میں ہی ملتے ہیں،حقیقت میں کہاں۔۔۔؟حقیقت میں توایک ہی رشتہ ملتاہے۔۔۔ اور وہ ہے دنیا کا سب سے مضبوط ترین رشتہ۔۔۔’’مطلب ‘‘۔۔۔ نہیں یقین۔۔۔؟ آزماکر دیکھ لیں، بہتر تو یہی ہے اپنا تجربہ کرنے کے بجائے دوسروں کے تجربے سے سیکھا جائے۔۔۔اگر آپ ترقی کرگئے،ڈھیر ساری دولت آگئی،قریبی رشتوں سمیت تمام آشناآپکے دشمن بن جائیں گے،اگربہت برا وقت آگیا پھر قریبی رشتوں سمیت تمام آشنا آپکو چھوڑ جائینگے،دونوں صورتوں میں آپ تنہا ہی ہیں،اس بات پر آپ ایمان لے آئیں کہ زندگی کی جنگ آپ نے اکیلے ہی لڑنی ہے۔۔۔زندگی کا جو سب سے بڑا سبق ہے،اپنی ذات پر کسی کو ترجیح نہیں دینی،سب سے پہلے اپنا سوچنا ہے،پھر کسی کا،کسی کی ترقی کیلئے اپنے کندھے فراہم نہیں کرنے،یہاں ’’ بازی گر‘‘ کبھی دوستی کے نام پر،کبھی محبت کے نام پر،کبھی عشق کے نام پر،کبھی نظریئے کے نام پر،کبھی تبدیلی کے نام پر،کبھی مذہب کے نام پر،کبھی وطن کے نام پر آپکو ’’ استعمال ‘‘ کرینگے،آپکے کندھوں پر سوار ہونگے،آپکے کندھوں پر بندوق رکھیں گے، یہ ’’ بازی گر‘‘ بہروپیئے ہیں،یہ شکل بدل بدل کر ،نئے نئے روپ دھارکر آپ سے ’’کھیل‘‘ کھیلتے رہیں گے۔۔۔کوئی بلائےتو بھاگ نہ جاؤ،دوسروں کی پریشانیاں نہ خریدو،دوسروں کے دشمنوں کو اپنے دشمن نہ بناؤ،دوسروں کے منصوبوں کوکبھی اپنا سمجھ کرکام نہ کرنا،دوسرے کے نعرے نہ لگاتے رہنا،کسی سے زیادہ متاثر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، اگر تم یہ سب کچھ کرو گے تو تم بہت ’’ سستے‘‘ ہوجاؤ گے،تمہیں ہر کوئی چھوٹی چھوٹی ’’ قیمت‘‘ پر خریدنےلگے گا ،مختلف رشتوں کے نام پر، ساری زندگی بکتے رہو گے،یہاں انسانوں کو ٹشو پیپر سمجھا جاتاہے،پھر زندگی کے آخری دن شکوے،شکائتیں کرکےگزارو گے،بےوفاؤں کےقصے سناتے رہو گے، کتنے نادان ہو،یہ بھی سمجھ نہ پائے، محبت،پیار،عنائت،کرم،عشق،دوستی،وفا،قربانی یہ سارے ’’رشتے ‘‘فلموں،ڈراموں،کتابوں میں ہی ملتے ہیں،حقیقت میں کہاں۔۔۔؟حقیقت میں توایک ہی رشتہ ملتاہے۔۔۔ اور وہ ہے دنیا کا سب سے مضبوط ترین رشتہ۔۔۔’’مطلب ‘‘۔۔۔یہ ’’ بازی گر‘‘ تو سب سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں،سب کو ’’ اپنا ‘‘ کہتے ہیں،تم کتنے نادان ہو،یہ بھی نہ سمجھ پائے۔۔۔ جو سب کے ہوتے ہیں وہ کسی کے نہیں ہوتے۔۔۔جو کسی ایک کا ہوتا ہے وہ سب کا کبھی نہیں ہوتا۔۔۔ بہت’’ مہنگے ‘‘ بن جاؤ، تمہیں’’خریدنے ‘‘ کیلئے کوئی ہزار بارسوچے،تم سے لوگ متاثر ہوں،چاہیے چوبیس گھنٹے فارغ ہو،لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو،دنیا کی نظروں میں تم مصروف ترین آدمی ہو،یہ دعوتیں،شاوتیں،یہ محفلیں چھوڑ دو،کسی شادی،کسی فوتگی پر جاؤ تو چند لمحات رکو،کبھی کسی کو اپنی کوئی مجبوری،کوئی پریشانی،کوئی دکھ،کوئی تکلیف بتانے کی ضرورت نہیں،اگر بتاؤ گے تو تمہاری کمزوریاں دوسروں کے ہاتھ آجائیں گی، اوروہ پھر تمہاری کمزوریوں سے فائدہ اٹھائیں گے،تمہیں بلیک میل کرینگے،تمہیں مزید گہری کھائی میں گرائیں گے،تمہارے راستوں میں کانٹے بچھائیں گے،تمہارے خلاف سازشیں کرینگے،تمہاری ٹانگیں کھینچیں گے،تمہیں اپنی چوکھٹ پر ’’ سجدہ ‘‘کرنےپر مجبورکردینگے۔۔۔اٹھو !! نئے جذبے کے ساتھ،نیا عزم لیکر،یہ سوچ کر کہ یہ سفر آپ نے تنہاکاٹنا ہے،اپنا راز کسی کو نہیں بتانا،یہ بات ذہن میں ڈال لو،آپ عام انسان نہیں،آپ دنیا کے ذہین ترین اور محنتی آدمی ہیں،آپ دنیا کی ہر چیز حاصل کرسکتے ہیں،ہر کسی کی بات سننی ہے،دوسرے کان سے نکال دینی ہے،منزل طے کرنی ہے،وقت طے کرنا ہے،قسمت کا رونا نہیں رونا۔۔۔یہ سب کچھ زمانے کا دستور ہے،خود کو بدلو کیونکہ آپ زمانے کو بدل نہیں سکتے،اگر زمانے کو بدلنے کی کوشش کرو گے تو گھٹ گھٹ کر مرجاؤ گے ۔۔۔بھیڑیں سڑک عبور کررہی ہوں تو گاڑیوں والے ہارن پر ہارن بجانے لگتے ہیں، سائیکل والا بھی گھنٹی بجاتا ہے کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔۔جب شیر سڑک عبور کررہا ہو،کسی کی ہمت نہیں ہوتی۔۔۔لہذا طاقتور بنو،ورنہ ہر شخص تم پر گھنٹی بجاتا رہے گا۔۔۔یاد رکھو !!معجزے نہیں ہوتے،کوئی آپ کیلئے ’’ مسیحا ‘‘ نہیں اترے گا، زندگی بہت خوبصورت ہے ، اٹھو !!خود کو مضبوط بناؤ،طاقتور بناؤ،زندگی ایک بار ملتی ہے،اپنے لئے بسرکرو،ناکہ دوسروں کیلئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button