حماس نے عارضی جنگ بندی مسترد کردی ، مزید 50فلسطینی شہید
تنازع کا واحدحل فلسطینی ریاست کا قیام ہے:روسی صدر اور امیر قطر کی ملاقات
غزہ ، ماسکو،(ویب ڈیسک )حماس نے غزہ میں عارضی جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے مستقل اور جامع معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔
حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے کہا کہ ہم جنگ کے مستقل خاتمے اور اسرائیل میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے عوض تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے پر تیار ہیں تاہم اس کیلئے ایک جامع معاہدہ چاہتے ہیں جو جنگ کے مستقل خاتمے، قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کی تعمیر نو پر مبنی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے عارضی اور جزوی معاہدوں کو قبول نہیں کریں گے جو نیتن یاہو کے سیاسی ایجنڈے کو پورا کریں، نیتن یاہو اور ان کی حکومت جزوی معاہدوں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کیلئے استعمال کرتے ہیں جس کی بنیاد قتل و غارت گری اور جنگ جاری رکھنے پر ہے، بھلے اس کی قیمت تمام یرغمالیوں کی قربانی ہی کیوں نہ ہو۔
دریں اثنا اسرائیل نے اپنی فوج کو غزہ میں جنگ پھیلانے کا حکم جاری کر دیا، اعلیٰ فوجی عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فوج کو غزہ میں اپنے آپریشنز بڑھانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، حماس پر زمین، سمندر اور فضاسے دباؤ میں اضافہ کیا جائیگا، گزشتہ روز صیہونی طیاروں نے غزہ کے مختلف علاقوں پر تباہ کن بمباری کی جبکہ کچھ مقامات پر ڈرون حملے بھی کیے جن میں 9بچوں سمیت 50فلسطینی شہید اور 120سے زائد زخمی ہو گئے۔
حماس کی جانب عارضی معاہدے کو مسترد کرنے پر اسرائیلی وزیر خزانہ بیزل سموتریچ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حماس پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا واحد اور پائیدار حل فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ماسکو میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات میں انہوں نے تنازع کے حل کیلئے قطر کی سنجیدہ کوششوں کو سراہا اور غزہ میں ہلاکتوں کو المیہ قرار دیا۔امیر قطر شیخ تمیم نے کہا کہ آزادفلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر امن ناممکن ہے، بدقسمتی سے اسرائیل نےجنگ بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔
دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں سینکڑوں یہودی آبادکار وں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی اور اندر گھس گئے جہاں انہوں نے اپنی مذہبی رسومات ادا کیں، صیہونی سکیورٹی فورسز نے انتہاپسند یہودیوں کے جتھے کو سکیورٹی فراہم کی جبکہ اس دوران مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا ۔



