پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

زیر حراست ملزموں کے انٹرویو، ٹریفک چالان پر ویڈیوبنوانےوالوں کیخلاف کارروائی کاحکم

جمشید دستی نااہلی کیس،این اے 175 مظفرگڑھ کے انتخابی شیڈول کیخلاف حکم امتناعی میں توسیع،مضر صحت خوراک کو بغیر تجزیہ تلفی، جواب طلب

لاہور:( بیوروچیف)لاہور ہائیکورٹ نے زیر حراست ملزموں کے انٹرویوز کرانے والے اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا حکم دے دیا،عدالت نے ہدایت کی کہ میڈیا سے گفتگو کرنے والے وارڈن، ایکسائز اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ نے وکیل وشال احمد شاکر کی درخواست پر سماعت کی تو سی ٹی او ڈاکٹر اطہر وحید، ڈائریکٹر سائبر کرائم حشمت کمال اور ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے ایڈیشنل آئی جی پولیس نے یقین دہانی کرائی زیر حراست ملزمان کے انٹرویوز نہیں کرائے جائیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے وارڈن قانون کے مطابق چالان ضرور کریں لیکن کیمرے کے سامنے ویڈیو بنوائی تو سخت کارروائی ہوگی،کیا ملزم کی ویڈیو بنائے بغیر تفتیش نہیں ہوسکتی؟، سپریم کورٹ کا بھی اس بارے میں فیصلہ آچکا،اس پر عمل درآمد کے لیے کیا اقدامات کئے گئے؟ پولیس حکام کے مطابق فیلڈ ڈیوٹی افسروں کو میڈیا نمائندوں سے گفتگو نہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل نے سابق رکن اسمبلی جمشید دستی کی نااہلی کے خلاف 4 مختلف درخواستوں پراین اے 175 مظفرگڑھ کے انتخابی شیڈول کے خلاف حکم امتناعی میں 16 ستمبر تک توسیع کردی۔

عدالت نے سپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کردیئے جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان کوذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی،عدالت نے اٹارنی جنرل کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور تحریری دلائل دینے کی ہدایت کر دی،عدالت نےالیکشن کمیشن کے وکیل کو جواب داخل کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آئندہ تاریخ سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کریں گے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جاوید اقبال وینس نے مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کو بغیر تجزیہ اور شنوائی موقع پر ہی تلف کرنے کے اختیار کیخلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ لائیو سٹاک سے 29 ستمبر کو جواب طلب کرلیا،عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو بھی معاونت کے لئے طلب کر لیا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس درخواست میں اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں اور یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button