صیہونی بربریت جاری، مزید 75فلسطینی شہید : غزہ جنگ دو سے تین ہفتے میں انجام تک پہنچ جائیگی، ٹرمپ
جنگ بندی کے لئے جاری سفارتی کوشش کا حتمی نتیجہ اچھا اور جلد سامنے آئے گا، امریکی صدر کا دعویٰ
غزہ، واشنگٹن (ویب ڈیسک) غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں 24گھنٹے کے دوران مزید 75فلسطینی شہید ہوگئے، بھوک سے مزید 3افراد شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 24گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والوں میں امداد کے متلاشی 17افراد بھی شامل ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت نے 24 گھنٹے میں بھوک سے متعلق تین اموات ریکارڈ کی ہیں، جس کے بعد 7اکتوبر 2023ء سے اب تک بھوک کے باعث شہید ہوجانے والوں کی کل تعداد 303ہوگئی ہے، جن میں 117بچے شامل ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7اکتوبر 2023ء سے اب تک شہادتوں کی کل تعداد بڑھ کر 62ہزار 819ہوگئی ہے، جبکہ ایک لاکھ 58ہزار 629 افراد زخمی ہو چکے ہیں، امداد کے متلاشی شہید ہونے والوں کی کل تعداد 27مئی سے اب تک دو ہزار 140تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور وہاں قید یرغمالیوں کی واپسی کے اسرائیل کی سڑکوں پر احتجاج کیا، صحافیوں نے بتایا کہ تل ابیب میں مظاہرین نے سڑکیں بلاک کیں، اسرائیلی جھنڈے لہرائے اور یرغمالیوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق دیگر مظاہرے شہر میں قائم امریکی سفارتخانے کی ایک شاخ کے قریب اور ملک بھر میں مختلف وزرا کے گھروں کے باہر بھی ہوئے۔
یرغمالیوں کے اہل خانہ کی نمائندہ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک تجویز میز پر موجود ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے رہنما مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور جب تک کوئی معاہدہ نہ ہو، وہاں سے نہ اٹھیں۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ جنگ بندی کے لیے جاری حتمی سفارتی کوشش نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے بتایا کہ غزہ جنگ بندی کی یہ سفارتی کوشش دو سے تین ہفتوں میں ایک اچھے فیصلہ کن انجام تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس سفارتی کوشش کے باعث دو سال سے جاری غزہ جنگ کو ختم کیا جا سکے گا۔
امریکی صدر نے اس سفارتی کوشش اور جنگ بندی کے حتمی ٹائم فریم کے بارے میں کچھ نہیں بتایا البتہ وہ کافی پُراعتماد نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے حال ہی میں حماس کی طرف سے پیش کی گئی جزوی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی اور اس کے بجائے غزہ سٹی پر مکمل قبضے کی تیاری کر رہا ہے۔ جس کے لیے اسرائیلی فوج طویل آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ کئی ماہ تک مزید جاری رہی گا۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب غزہ پر حماس کا کنٹرول ختم کر دیا جائے گا جو اسرائیل کا بھی بنیادی مطالبہ ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ روز تصدیق کی کہ ان کی کابینہ کا ترجیحی ہدف غزہ سٹی پر فوجی قبضہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لانے اور حماس کو شکست دینے کے لیے بھرپور طاقت سے کام کرے گا۔



