بنگالی جادوانتہائی خطرناک،پاکستان میں عملیات کی 84اقسام (ساتویں قسط)
لاہور:(محمد قیصر چوہان)کالے جادو اور سفلی عاملوں میں کالی مائی، کالی دیوی یا کالکا دیوی اور ہنومان سخت ترین تصور کیا جاتا ہے اور جس کے قبضے میں ان میں سے ایک چیز بھی ہو وہ انتہائی طاقتور عامل یا سفلی گر سمجھا جاتا ہے۔کالے جادو میں یہ سب سے سخت عمل کہلاتا ہے کیونکہ کالی مائی کو بار بار جانوروں کی بھینٹ دینا پڑتی ہے تاکہ عامل یا اس کی اولاد پر سختی نہ آئے ۔بعض شیطانی عملیات کے ذریعے کالی تک پہنچنے کیلئے انسانی جان کی بھینٹ بھی دینی پڑتی ہے۔جادو ٹونے کی دنیا میں یہ روایت مشہور ہے کہ کالی مائی تک پہنچنے کےلئے عامل کو سات ہزار پہریداروںکو کراس کرنا پڑتا ہے لیکن پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا عامل ہو جس نے یہ تمام میر عبور کر رکھے ہوں،یعنی کالی دیوی اس کے مکمل قبضے میں ہو۔
ہندوئوں میں کالے جادو کرنے والے عاملوں کے دو فرقے ہیں ایک رام کے ماننے والے اور دوسرے راون کے، رام کے ذریعے عمل کرنے والے عموما انسانیت کو نقصان پہنچانے کے کام نہیں کرتے جبکہ راون والے سر تا پا شیطان ہوتے ہیں۔کالی دیوی اور ہنومان کو تابع کرنے کےلئے عمل سے پہلے اور بعد میں کسی جانور کی بھینٹ لازمی پڑتی ہے اور جب کالی دیوی قابو میں آ جاتی ہے تو بعض اوقات وہ انسانی بھینٹ بھی طلب کر لیتی ہے۔کالے جادو کے عامل کالی دیوی اور ہنومان کے علاوہ شمشانک دیوی ، کملا دیوی،پدمنی دیوی، لکشمی دیوی، موہنی دیوی، کالا کلوا، گنیش جی ، دیوتا سروپ، ہمادیو وغیرہ کو تابع کرنے کےلئے عمل کرتے ہیں جس کےلئے عمل کیا جا رہا ہو عموما اس کی مورتی سامنے رکھنی پڑتی ہے۔یہ عمل کسی دریا کے کنارے، قبرستان، کسی ویران مکان یا پیپل کے درخت کے نیچے کئے جاتے ہیں۔
موکل بھی دراصل جنات ہوت ہیں ۔ موکل روحانی عمل کے علاوہ کالے جادو اورسفلی عمل سے بھی تابع کئے جاتے ہیں، انہیں قابو کرنے کےلئے ہر قسم کے عمل میں چلہ کاٹنا ضروری ہے البتہ نوری وظیفے کے دوران پانچوں وقت کی نماز پڑھنا اور پاک و صاف رہنا شرط ہے اس کے برعکس سفلی عمل میں ناپاک رہن لازمی ہوتا ہے۔سفلی کیونکہ شیطانی عمل ہے لہٰذا اس کے اکثر عملیات میں ناپاک اور پلید رہنا پڑتا ہے، روز شرب پینا اور زنا لازمی ہوتا ہے اگر سفلی گر دوران چلہ پاک رہے گا یا شیطانی کام نہیں کرے تو بدی کی قوتیں اسے تنگ کرتی ہیں روحانی یا سفلی دونوں قسم کے عملیات کےلئے عامل اپنے گرد حصار کھینچ کر بیٹھتا ہے تا کہ وہ ماورائی قوتوں سے محفوظ رہے، کالے جادو یا سفلی عمل کےلئے زیادہ تر سیندور سے حصار کھینچ کر شیطانی قوتوں کےلئے سات قسم کی مٹھائیاں ، شراب اور دیگر چیزیں توشے کے طور پر رکھی جاتی ہیں۔
اس قسم کے چلے ہزاروں میں ایک دو کامیاب ہوتے ہیں اکثر ناکامی سے دو چار ہوتے ہیں،بعض کے چلے الٹے بھی ہو جاتے ہیں جس سے عامل پاگل ہو جاتا ہے یا خود کو اور اپنے عزیزوں کو نقصان پہنچتا ہے، جادوگر میں یہ تصور عام ہے کہ یہ کام اس سے "گندی چیزیں” کراتی ہیں جو چلہ الٹا ہو جانے کے بعد اس پر حاوی ہو جاتی ہیں۔اس کے علاوہ ہمزاد کا چلہ بڑا سخت ہوتا ہے۔ عاملوں اور جادوگروں میں ہمزاد کے بارے میں مختلف آراءپائی جاتی ہے ۔
بعض کا خیال ہے کہ ہمزاد ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے، ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی مرتا ہے۔کچھ کے نزدیک یہ شیطان ہے، اکثریت کا کہنا ہے کہ ہمزاد کا جسم لطیف، انسان کا سایہ ہے اس بارے میں مشہور ہے کہ اگر کوئی عامل کسی متقی، پرہیزگار اور پنج وقتہ نمازی کے خلاف ہمزاد کو استعمال کرے تو اسے الٹا نقصان ہوگا اور ہاتھ سے ہمزاد بھی جاتا رہے گا جب متقی شخص کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔
ہمزاد کی بہت سے قسمیں ہیں مثلا ،علوی،عکسی یا غیبی وغیرہ اس میں ہمزاد علوی قسم بہت قوی تصور کی جاتی ہے۔ یہ تصور عام ہے کہ ہمزاد کو قابو کرنے سب سے مشکل کام ہے اور اس کا چلہ خواہ نوری ہو یا سفلی بڑا سخت ہوتا ہے۔ اس وقت ملک کے بڑے شہر وںمیں شاید ہی کوئی عامل ہو جس نے ہمزاد کو تابع کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ کسی دوسرے کے ہمزاد کو قابو کرنے سے اپنا ہمزاد پکڑآسان ہوتا ہے۔
بنگال کا ایک جادو ” ڈھائیا” انتہائی سریع الاثر اور خطرناک تصور کیا جاتا ہے اسے ڈھائیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ڈھائی پل یا سیکنڈ، ڈھائی منٹ، ڈھائی گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ ڈھائی دن میں اپنا اثر دکھاتا ہے اس سے زیادہ وقت نہیں لیتا اس عمل کا سب سے کارآمد ہتھیار "ہانڈی”ہے جو کسی کی جان لینے کےلئے چڑھائی جاتی ہے ۔
ہانڈی کے اندر چاقو ، چھری ، قینچی ،استرا،سوئیاں اور ایک دیا رکھا جاتا ہے۔اس بارے میں مشہور ہے کہ کالے علم کے زور پر جلایا گیا یہ دیا اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ اگر کوئی طوفان بھی ہو تو یہ جلتا رہے گا اور منزل مقصود پر پہنچے گا۔اس طرح بھان متی کا جادو بھی انتہائی جان لیوا ہے اور اس کا توڑ بہت مشکل سے کیا جاتا ہے یہ بھی سفلی عمل کی ایک قسم ہے۔”ڈھائیاں“ کی طرح بھان متی بھی سفلی عمل ہے ،بھان متی پتلے پہ منتروں کا جاپ کر کے دشمن کو نقصان پہنچانے کےلئے کیا جاتا ہے اور عامل کوسوں دور بیٹھ کر پتلے کے ساتھ جو سلوک کرے گا اس کا دشمن پر بھر پور عمل ہوتا ہے بھان متی کے جادوگروں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ ہر سال دیوالی کی رات اپنا جادو جگاتے ہیںاگر اس سال انہیں موقع نہ ملے تو سارے سال کےلئے بیکار ہو جاتے ہیں۔
کالا جادو کرنے والے عاملےن لوگوں کو کالاجادو کرنے کےلئے عجیب وغریب طریقے بتاتے ہیں۔ بسا اوقات اس کےلئے انتہائی گھنائونے کام بھی کیے جاتے ہیں۔ چند جادو مقدس کتابوں پر بیٹھ کر،ان کے اوراق جلاکر کیے جاتے ہیں۔ بعض کےلئے 40روز تک نجس رہنے کی شرط رکھی جاتی ہے۔
کبھی کبھی جادو کرنے والے کو حرام گوشت بھی کھانا پڑتا ہے ،کسی کو بتائے بغیر ان جانوروں کی ہڈیوں کا سفوف بھی چٹایا جاتا ہے، کبھی کسی عورت کو قبرستان میں تازہ مردہ بچے کی لاش پہ نہانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کسی عورت کو اندھیری رات میں دریا کے کنارے پر ویران جگہ نہانے کےلئے کہا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 84 قسم کے جادوئی عملیات مشہور ہیں جبکہ انفرادی ذہنی اختراعات اس کے علاوہ ہیں۔
ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں یہ عامل کھلم کھلا کاروبار کررہے ہیں۔ کئی عمل کالی دیوی، سرسوتی، ہنومان، کالی ماتا، مچھیا اور کالی دیوی کے نام پر کیے جاتے ہیں۔ مچھیا اور کالی دیوی کا جادو صرف گند کھاکر ہوتا ہے۔ ایک عمل کےلئے مردوعورت کا آپس میں گناہ کرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ بعض جادوئی تحریریں خون سے، بعض انسانی غلاظت سے لکھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض عامل کسی ایسے ہندو مردے کی چتا کی چٹکی بھر راکھ بھی بھارت سے اسمگل کراکر پیش کرتے ہیں جس ہندو نے زندگی بھر گوشت نہ کھایا ہو۔ جادوگروں کے بقول یہ راکھ جس کو بھی کھلائی جائے اس کی اذیت ناک موت کو کوئی نہیں روک سکتا۔ جادو کےلئے لوگوں کو مندروں میں بھگوان کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے اور وہی رسوم ادا کروائی جاتی ہیں جو ہندوئوں کی مذہبی عبادات کا حصہ ہیں۔
دریں اثنا کالے جادو کے حوالے سے پہلی قسط19اگست2025 بروزبدھ جبکہ دوسری قسط 20اگست 2025،تیسری قسط 22اگست ،چوتھی قسط 24اگست ،پانچویں قسط 25اگست ،چھٹی قسط 26اگست کوناظرین کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہیں جن کوwww.cnnurdu.comپروزٹ کیا جاسکتا ہے آج 27اگست 2025بروز بدھ اس سلسلے کی ساتویں قسط پیش کی جارہی ہے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



