کسی کا ساتھ دینے کیلئے اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے ۔۔۔’’ اگر آپ کسی کیلئے بارش روک نہیں سکتے تو اس کے ساتھ بارش میں کھڑے ہوجائیں ‘‘۔۔۔۔ دوستی کیا ہے۔۔۔؟ یہ ایک انمول رشتہ ، یہ خدا کا تحفہ ۔۔۔ دوست انمول ہوتے ہیں،جوخیر کی خبر دیتےہیں، پریشانی میں دلاسہ اور بھروسہ دیتےہیں،عقل کی بات کرتے ہیں،کوئی لالچ نہیں رکھتے،ایسے لوگ قیمت سے نہیں قسمت سے ملتےہیں۔۔۔دوست کتاب کی طرح ہوتاہے، وہ کتنی ہی پرانی ہوجائے،اس کے الفاظ نہیں بدلتے۔
کبھی یاد آئے تو پلٹ کر دیکھنا ۔۔۔۔
ہم کل جیسے تھے،آج بھی ویسےہیں
مخلص دوست کون ہیں۔۔۔۔؟ جس کا کوئی مطلب نہیں ہوتاوہی دوست ہے ، جہاں مطلب ہو وہاں دوست نہیں ہوتا۔۔۔ جو آپ کے ساتھ تنہائی میں آپ کی اصلاح کرتے ہیں،آپ کےغلط کاموں پر تنقید کرتے ہیں،آپکوڈانٹتے بھی ہیں،آپکو سیدھا راستہ دکھاتے ہیں،آپکو حوصلہ دیتے ہیں،آپکی مدد کرتے ہیں اورآپ کی غیرموجودگی میں لوگوں کے سامنے آپکی تعریفیں کرتے ہیں،آپ کے کارنامے بیان کرتے ہیں،آپکی قابلیت بتاتےہیں،آپکی وفاداری کا تذکرہ کرتے ہیں۔۔۔۔مبارک ہو،ان لوگوں کو جن کو ایسے دوست ملے۔۔۔۔افسوس !! ان لوگوں پر جو اس کا الٹ سوچتےہیں،جو خوشامد پسند ہیں، جو صرف منہ پر تعریفیں کرنے والوں کو دوست سجھتے ہیں،تجربہ تو یہی ہے،خوشامد کرنیوالے ہمیشہ دوستوں کی پیٹھ پیچھےبرائی ہی کرتے ہیں۔۔۔
شیخ سعدی فرماتے ہیں۔۔۔!!
مجھے ایسے دوست کی دوستی پسند نہیں جو میری بری عادتوں کو اچھا جانے اور میرے عیب کو ہنر جانے اور میرے کانٹوں کو گلاب و یاسمین کا نام دے۔
ہاں ۔۔۔۔
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں،دوستی کیلئے تین چیزیں قربان کرنا پڑتی ہیں،وقت،پیسہ اور انا ۔۔۔دوستوں کو وقت دینا پڑتا ہے،ہر حال میں،ہر صورت میں،اچھے وقت میں بھی،برے وقت میں بھی،سایہ بن کر ساتھ رہنا پڑتا ہے،دوستوں پر پیسہ بھی خرچ کرناپڑتا ہے،یہاں حساب کتاب نہیں چلتے۔۔۔مولانا روم نے دکاندار سے پوچھا،خاتون نے اتنا سامان خریدا،آپ نے پیسے کیوں نہیں لیئے ،دکاندار مسکرایا ،کہنے لگا،مولانا صاحب !! جہاں محبتیں ہوں،وہاں حساب کتاب کیسے۔۔۔ ؟ اور رہی انا،دوستوں میں میرٹ نہیں چلتے،اونچ نیچ نہیں ہوتی،برابری چلتی ہے۔۔۔برابری۔۔۔یہ ایک پہیے پر چلنے والی سائیکل نہیں،جیسا خود کیلئے چاہتے ہو،دوست کے بارے بھی ویسا سوچو۔۔۔یہ ترقی کے راستے ہیں،تنزلی کے نہیں،انسان کو منزل پر جانے کیلئے کسی کی ضرورت ہوتی ہے،تنہائی تو صرف اللہ تعالیٰ کوزیب دیتی ہے،نبی مہربان حضرت محمدﷺ جب انقلاب کے راستے پر چلے،سب سے پہلےاپنے پیارے دوست حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کو ساتھ لیا،انسانی تاریخ میں دوستی کی اس سے بڑی مثال کہیں نہیں مل سکتی۔۔۔
ہاں!!
اگر کوئی دوستی کے نام پرآپکو استعمال کررہا ہے،آپکے کندھوں کو سیڑھی کے طور پر استعمال کررہا ہے،اپنی ترقی اور آپکو اندھے گڑھے میں دھکیل رہا ہے،آپکو بے وقوف بنا رہا ہے، تو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے وقت کو ضائع نہ کریں،اپنے آپ کو برباد نہ کریں،فوری راستہ تبدیل کرلیں،ایسے لوگ آستین کے سانپ ہوتے ہیں،ان کی فطرت ڈسنا ہی ہوتا ہے۔
حضرت محمدﷺ کا ارشاد مبارک ہے ،جب اللہ تعالی اپنا کرم خاص فرد پر کرتا ہے تو اسے ایک اچھا دوست عطا کر دیتا ہے ،آپﷺ برے دوست اور برے ہمسائے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اچھے دوست اور برے دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک اور لوہار کی بھٹی کی، مشک والے کے پاس جائے ،تو فائدے سے خالی نہیں آتا یا تو مشک خریدے یا خوشبو ہی سونگھتا رہے اور لوہار کی بھٹی ،یا تو تیرا بدن یا کپڑا جلاتی ہے یا تجھ کو بو سونگھاتی ہے۔
آدمی کی زندگی بے کیف ہے جب اس کا کوئی دوست نہیں اور آدمی درختوں کی طرح ہیں جو کچھ تو پھل دار ہوتے ہیں،کچھ صرف سایہ دار اورکچھ صرف کانٹے دار جھاڑیاں ہوتے ہیں۔اسی طرح کچھ دوست اس د نیا میں بھی اور آخرت میں بھی باعث رحمت ہوتے ہیں۔
افسوس !! ہم کتنے کاروباری ہوگئے،ہم بغیر مفاد کے کسی سے ہاتھ نہیں ملاتے، ہم پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں،ہمیں گاڑیاں چاہئیں،بڑے بڑےگھرچاہیئے،مہنگے سوٹ،قیمتی موبائل،نوکر،گارڈ،ڈرائیور کی ہمیں ضرورت ہے،ہم اس دوڑ میں اتنے آگےنکل چکے ہیں،واپسی کے راستے بھول گئے ہیں،دن،رات پیسے کی فکر،اہل خانہ کیلئے بھی وقت نہیں ملتا،شوگر،بلڈ پریشر کا بھی شکار ہوچکے،ہرہفتےٹیسٹ،ادویات ساتھ ساتھ لئے پھرتےہیں،اتنی مصروفیت،ملاقات تو دور کی بات،بغیر مقصد کے کسی کی کال تک نہیں سنتے،اتنے مصروف،سورج ڈوبنے کا منظرنہیں دیکھ سکتے،والدین سے ملنے کا ٹائم نہیں ملتا۔۔۔۔ایسی زندگی کی کتاب کا حرف آخر کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟ تنہائی،ادویات اورپھر موت۔۔۔۔تدفین۔۔۔قبر کے نشان تک مٹ جاتے ہیں،وہ گاڑیاں،وہ گھر،وہ پیسا وہیں کا وہیں پڑا ہوتا ہے۔۔۔۔
دوستوں کی صحبت اور محبت میں گزارے ہوئے چند دن،دنیا وی چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ساری زندگی سے زیادہ قیمتی ہوتےہیں۔ان باتوں کاعلم اس وقت ہوتاہے جب تنہائی اور ادویات کا دور آتا ہے لیکن۔۔۔بے سود۔۔۔
فیضی چالیس منٹ اس کے ساتھ بیٹھا،اس کی باتیں سنتا رہا، اور جب اس نے جانے کا فیصلہ کیا،
تو حلیمہ نے کہا ، میں تم سے پوچھنا بھول گئی۔۔۔!!
تمہاری عمر کیا ہے۔۔۔؟
فیضی نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
’’چالیس منٹ‘‘



