پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

وکلا رہنمائوں پر پولیس تشدد،لاہور بارکاآج مکمل ہڑتال کا اعلان

اے ایس پی معاذاور اہلکاروں کی جانب سے تشدد کی وجہ سے نائب صدر ماڈل ٹائون سیٹ وقاص اسلم کاہلوں،ضمیر احمد جھیڈو زخمی،پولیس کا عدالتوں میں داخلہ بند

لاہور:(سید ظہیر نقوی)نائب صدر لاہور بارماڈل ٹائون سیٹ وقاص اسلم کاہلوں اور سینئر وکیل رانا ضمیر احمد جھیڈو کو مبینہ طورپر پولیس اہلکار وں نے تشدد کرکےشدید زخمی کردیا۔

 

 

وقاص اسلم کاہلوں فائل فوٹو

تھانہ کاہنہ کے باہر وکلا نے اے ایس پی معاذ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں وکلاء کی کثیر تعداد شریک ہوئی اور نعرے بازی کی ،مظاہرے میں شریک وکلاء نے ٹائرجلا کر روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا۔

وکلاء نے قصور سے لاہور آنے والی سڑک کو رکاوٹیں لگا کر ٹریفک کے بند کر دیا،وکیل رہنما وقاص اسلم کاہلو ں بھی زخمی حالت میں احتجاج میں شامل ہوگئے ، وکیل رہنما وقاص اسلم نے کہا اے ایس پی معاز نے تشدد کا نشانہ بنایا،چوکی انڈسٹریل ایریا تھانہ کاہنہ میں اے ایس پی معاز نے پانچ دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ فسطائیت کی انتہا کی ہمارا مطالبہ ہے کہ اے ایس پی معاز کو فوری معطل کیا جائے۔

وکلا کاہنہ روڈ پر ٹائر جلا کر احتجاج کر رہے ہیں

سڑک بند ہونے سے قصور لاہور روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں،قصور سے لاہور آنے والے مسافروں کو مشکلات گاڑیوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

 

لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر مبشررحمان اور دیگر عہدیداروں کے مطابق پولیس چوکی انڈسٹریل ایریا میں اے ایس پی معاذ اور چوکی انچارج سب انسپکٹر ندیم علی کی طرف سے پولیس پارٹی کے ہمراہ نائب صدر لاہور بارماڈل ٹائون سیٹ وقاص اسلم کاہلوں اورسینئر وکیل سابق ممبر پنجاب بار کونسل رانا ضمیر احمد جھیڈو کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رانا ضمیر احمد جھیڈو

پولیس حکام نے وقاص اسلم کاہلوں اور رانا ضمیر احمد جھیڈو کو حس بے جا میں رکھا پولیس تشدد کی وجہ سے وقاص اسلم کاہلوں شدید زخمی ہو گئے ۔

وکلا پولیس گردی پر سیخ پا ہوگئے ،لاہور بار ایسوسی ایشن نے اتوار کو ہنگامی اجلاس طلب کیا واقعہ کی شدید مذمت کی گئی ۔

لاہور بار نے 24مارچ بروز پیر مکمل ہڑتا ل کا اعلان کرتے ہوئے لاہور کی تمام عدالتوں میں پولیس کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی ۔

لاہور بار کے عہدیداروں اور حاضرین اجلاس نے احکام بالا سے مطالبہ کیا کہ اختیارات کاناجائز استعمال کرنے پر پولیس افسروں کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور ملوث اہلکاروں کیخلاف فوری مقدمہ در ج کیا جائے بصورت دیگر لاہور بار راست اقدام کرنے پر مجبور ہوگی۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button