منیلا (ویب ڈیسک)ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی منظر نامہ بڑی حد تک جاری اصلاحات کی کامیابی پر منحصر ہے، اے ڈی بی نے رواں مالی سال ملکی ترقی کی شرح 2.5 فیصد جبکہ آئندہ مالی سال شرح نمو 3 رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔
منیلا میں قائم قرض دینے والے ادارے کی سالانہ فلیگ شپ رپورٹ ’ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک‘ میں کہا گیا ہے کہ 30 جون کو ختم ہونے والی مالی سال 2025 کی آخری سہ ماہی کے عبوری سہ ماہی نمو کے اعداد و شمار میں پائیدار لیکن سست بحالی کی نشاندہی کی گئی ہے کیونکہ زراعت، صنعت اور خدمات میں کارکردگی سست رہی ہے۔
پاکستان کو اب بھی کافی کمزوریوں اور ساختی تبدیلیوں کا سامنا ہے اور رواں مالی سال اس کی شرح نمو 2.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
اگرچہ جاری مالی استحکام اور اہم فصلوں کی پیداوار میں متوقع کمی کی وجہ سے زرعی آمدن میں کمی مالی سال 2025 میں سرگرمیوں کو متاثر کرے گی لیکن اصلاحاتی پروگرام کے مؤثر نفاذ سے زیادہ مستحکم میکرو اکنامک ماحول کو فروغ ملے گا اور آہستہ آہستہ ترقی کی راہ میں ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔
بجلی کی پیداوار اور گیس و پانی کی فراہمی میں بحالی بھی صنعتوں کی ممکنہ بحالی کی نشاندہی کرتی ہے، صنعت اور خدمات میں مزید مالیاتی نرمی اور جاری میکرو اکنامک استحکام سے معاشی سرگرمیوں کو فائدہ ہوگا۔
معاشی سرگرمی نجی سرمایہ کاری میں بحالی سے بھی فائدہ اٹھائے گی، جو زیادہ سے زیادہ معاشی استحکام کے تصورات کے ساتھ ساتھ حالیہ اور متوقع مستقبل کی مالیاتی نرمی اور مستحکم زرمبادلہ مارکیٹ سے مضبوط ہوگی۔
ترسیلات زر کی مضبوط آمد، کم افراط زر اور مالیاتی نرمی سے نجی کھپت اور ترقی کو سہارا ملنا چاہیے۔ اکتوبر 2024 میں شروع ہونے والے آئی ایم ایف توسیعی فنڈ سہولت کے انتظامات کے تحت معاشی اصلاحات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے جس سے میکرو اکنامک استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔
تمام صوبوں کی جانب سے زرعی ٹیکس بل 2025 کی کامیابی سے منظوری کے بعد زرعی آمدن پورے پاکستان میں قابل ٹیکس بن گئی ہے۔اصلاحاتی پروگرام کا نفاذ کئی دیگر شعبوں میں مضبوط رہا ہے جن میں عوامی قرضوں کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بند مالی استحکام، کم افراط زر کو برقرار رکھنے کے لیے کافی سخت مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھنا، توانائی کے شعبے کی افادیت میں بہتری اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد شامل ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے تخمینے کے مطابق مالی سال2025 میں اوسط افراط زر کی شرح 6 فیصد اور مالی سال 2026 میں 5.8 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ ناکافی بارش اور خشک سالی کا امکان غذائی تحفظ کو کمزور کر سکتا ہےجس سے ترقی کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔رپورٹ میں خوراک اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور عالمی تجارتی پالیسیوں میں تبدیلیوں کو معاشی منظر نامے کے لیے بیرونی طور پر لاحق بنیادی خطرہ قرار دیا گیا ہے جو عالمی شرح سود اور شرح مبادلہ کے استحکام پرمنفی اثر ڈال سکتا ہے۔
دریں اثنا، ایشیائی ترقیاتی بینک نے رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل نہ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 2.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، اس سے پہلے ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3 فیصد لگایا تھا جبکہ وفاقی حکومت نے معاشی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کر رکھا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے رواں مالی سال پاکستان میں مہنگائی کا تخمینہ مزید کم کردیا، رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی اوسط مہنگائی 6 فیصد رہنے کا امکان ہے۔



