پنجاب میں پولیس کے اعلیٰ افسران کے تبادلے کیلئے بھاگ دوڑ تو جاری ہے کیونکہ ماہ مارچ میں ہونے والے پرموشن بورڈ کے بعد اہم تبادلے متوقع ہیں ۔ اور اندر کی خبر ہے کہ پنجاب حکومت ایسے بہت سے اہم افسران کو تبدیل کرکے اپنی مرضی کے افسران کی تعیناتی چاہتی ہے ،اسی لئے تبادلوں سے خوفزدہ بہت سے افسران سنٹرل پولیس آفس اور وفاق میں افسران آئی جی پنجاب کی تعیناتی کیلئے رابطے کر رہے ہیں۔ ہمارے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پنجاب حکومت نے یہ طے کر لیا ہے کہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا تبادلہ وقت کی ضرورت ہے، اور ان کو ڈی جی ایف آئی اے یا آئی جی سندھ لگایا جا سکتا ہے، لیکن آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور متوقع دونوں فیصلوں سے ناخوش ہیں اور وہ نئی پوسٹنگ کی بجائے بیرون ملک کی رخصت لینا چاہ رہے ہیں۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پاکستان کے واحد پولیس افسر ہیں، جن سے صدر پاکستان آصف علی زرداری بھی خوش ہیں، ڈاکٹر عثمان انور جب حیدر آباد میں بطور اے ایس پی تعینات تھے، تو انہوں نے طیارہ اغوا کیس میں کالعدم تنظیم کے اغوا کاروں سے ہندی زبان میں بات کر کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، بعدازاں علم ہوا کہ ڈاکٹر عثمان انور انڈین ڈرامے شوق سے دیکھتے تھے اس لئے ہندی زبان پر بھی عبور حاصل ہے۔ اب ڈاکٹر عثمان انور نے بطور آئی جی پنجاب پولیس کیلئے انقلابی اقدامات کئے، جن میں افسران و ملازمین کی ترقیوں ، میڈیکل سے لیکر تھانوں کی تزئین و آرائش ، آرمڈ فورسز کی طرز پر سوشل میڈیا سیل، شہدا کی فیملیز کیلئے نئے عالیشان گھروں کی تعمیر اور دیگر سہولتوں کے ساتھ ،افسران کے ساتھ ساتھ ماتحتوں کی فلاح و بہبود کیلئے مثالی اقدامات کئے ۔ یہی نہیں ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس کلچر میں تبدیلی کیلئے عملی اقدامات کئے۔ کیونکہ ڈاکٹر عثمان انور اِس قدر پروفیشنل ہیں کہ سنٹرل پولیس آفس میں افسران سے ویڈیو لنک کے ذریعے میٹنگ کے دوران اکائونٹینٹ گھر بلانے والے افسر کو بھی اشارہ کر کے میسج دیتے ہیں کہ انہیں سب علم ہے اپنے معاملات کو بہتر کریں جبکہ بہتر کارکردگی کے حامل افسران سے ڈاکٹر عثمان انور شفقت سے پیش آتے اور انکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ اچھی کارکردگی کی بنیاد پر آئی جی پنجاب کی ’’گڈ بک ‘‘میں سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، سی پی او گوجرانوالہ محمد ایاز سلیم سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر، ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد ،ڈی پی او چکوال احمد محی الدین، ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر ،ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت ،ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار، ڈی پی او قصور عیسیٰ خان سکھیرا اور ڈی پی او جہلم طارق عزیز شامل ہیں ۔
ڈاکٹر عثمان انور کے بعد آئی جی پنجاب کیلئے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ مضبوط امیدوار ہیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی موٹروے راجہ رفعت مختار اور ایڈیشنل آئی سلمان چوہدری بھی آئی جی پنجاب کے امیدوار ہیں۔ سی ٹی ڈی کے روح رواں اور پنجاب سمیت بلوچستان میں دہشت گردوں کی کمر توڑنے والے سابق آئی جی رائے طاہر کو اب آئی جی ریلوے تعینات کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں تعینات ہونے والے آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے اپنی تعیناتی رکوانے کیلئے اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں لیکن انکی بطور آئی جی خیبر پختونخوا تعیناتی کا فیصلہ ہو چکا تھا، اب مارچ میں پولیس کے اعلیٰ افسران کی پرموشن کے بعد ہی اس فیصلے میں ردوبدل ممکن ہو سکتا ہے۔
حال ہی میں لاہور میں ایک باوردی پولیس اہلکار کی جانب سے بھکاری خاتون سے سر عام زیادتی کی کوشش اور ویڈیو بنانے والے شخص کو گولی مارنے کی ویڈیو نے لاہور پولیس اور عوام میں خلیج پیدا کر دی ہے۔یہ وہ واقعہ ہے جس کے شواہد موجود ہونے کی وجہ سے یہ کارروائی ہو گئی ورنہ الٹا شہری کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج ہونا تھا ۔ ڈی آئی جی آپریشن جو کہ انتہائی پروفیشنل افسر ہیں، انہیں چاہئے کہ محکمے سے ایسی کالی بھیڑیں تلاش کر کے انکے خلاف کارروائی کریں بلکہ ملازمت سے بھی برطرف کریں اس مقصد کیلئے انکے ماتحت ڈی آئی بی اور پولیس انٹیلی جنس کا مربوط نظام موجود ہے۔
پنجاب پولیس کے ایک اور ہیرو سی پی او گوجرانوالہ محمد ایاز سلیم پنجاب کے واحد پولیس افسر ہیں، جو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن ’’عوامی رابطہ مہم‘‘کے تحت کھلی کچہری کے دوران لیڈی پولیس کی موجودگی میں خواتین کے مسائل اور شکایات الگ سے سن کر فوری حل کرواتے ہیں، اسی وجہ سے خواتین کو سی پی او کے سامنے کھل کر بات کرنے کا موقع ملتا ہے ،اسی طرح مرد حضرات کو الگ سے سنا جاتا ہے ۔ محمد ایاز سلیم کے اس عمل سے اب ہر متاثرہ مردو خواتین پولیس یا کریمنلز کے خلاف شکایات لیکر پہنچ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ میں جرائم کا گراف سابق ادوار سے انتہائی کم سطح پر آگیا۔
خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ویمنز انکلیو منصوبہ شروع کیا گیاہے ، جو گوجرانوالہ پولیس کا ایک فلیگ شپ پراجیکٹ ہے۔ اس کے علاوہ پنک ویلز پراجیکٹ کا بھی آغاز کیا گیا، جس کا مقصد خواتین سے متعلق 15 کی کالز اور وومن سیفٹی ایپ کی کالز موصول ہوتے ہی پنک ویلز کرائم سین پر پہنچ کر متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور کرائم سین کو محفوظ کرنے سمیلت اپنی موجودگی میں پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی، سائیکالوجسٹ، تفتیشی افسر اور وکٹم سپورٹ آفیسر کو موقع پر بلاتی ہیں ۔
اوکاڑہ کے علاقے بصیر پور میں مویشی چوری کے مقدمے میں ملوث ملزم نے مدعی مقدمہ ملک حنیف اور اسکے بیٹے کو بصیر پور میں اپنے رشتے دار کی مدعیت میں درج مقدمہ میں پولیس سے ساز باز ہو کر پہلے نامزدپھر اشتہاری کروا یا پھر ریڈ کرواکے گرفتار کروالیالیکن جب ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت ڈی ایس پی بصیر پور کو 100فیصد میرٹ پر تفتیش کا حکم دیا تو سارا معاملہ کھل کر سامنے آگیا جس کے بعد مدعی مقدمہ اِس جھوٹے کیس سے ڈسچارج ہوگیا جبکہ اہل علاقہ نے ڈی پی او اوکاڑہ کے فوری انصاف پر جھولیاں اٹھا کر انہیں دعائیں دیں، لہٰذا بعض پولیس افسران ایسے بھی ہوتے ہیں۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



