انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

سرور فاونڈیشن کاآبادی روکنے کا منصوبہ

سپیڈبریکر، میاں حبیب

کہتے ہیں جس کی ہڈیوں میں محنت رچی بسی ہو وہ فارغ نہیں بیٹھ سکتا اسے کچھ نہ کچھ کرنے سے ہی سکون ملتا ہے ایسے افراد فارغ اوقات میں بےچین رہتے ہیں اور کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں ایسے افراد نہ صرف دماغی طور پر شارپ ہوتے ہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی چاق وچوبند رہتے ہیں اور جن لوگوں نے کچھ نہ کرنے کی قسم کھائی ہو وہ سست کام چور بہانے باز ہوتے ہیں وہ معاشرے کو آگے بڑھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں وہ نہ صرف خود کام نہیں کرتے بلکہ دوسروں کے کاموں میں بھی رکاوٹ کھڑی کر کے سکون محسوس کرتے ہیں جبکہ محنت طلب بندہ نہ صرف خود متحرک رہتا ہے معاشرے کو بھی متحرک رکھنے کی کوشش کرتا ہے ایسی ہی ایک شخصیت چوہدری محمد سرور سابق گورنر پنجاب ہیں جو اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر مصروف عمل رہتے ہیں ویسے وہ پاکستانی معاشرے میں ان فٹ ہیں لیکن وہ مایوس نہیں ہم انھیں دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے جانتے ہیں وہ جس پوزیشن میں بھی ہوں کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں ان کی ساری زندگی محنت سے عبارت ہے ان کا تعلق پیر محل ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے گاوں سے اٹھ کر اس شخص نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ان کی کامیابیوں کی ایک تاریخ ہے لیکن اس تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس کے پیچھے صرف ایک ہی فارمولا کارگر نظر آتا ہے اور وہ انتھک محنت ہے اوپر سے ان کی خوش قسمتی کہ انھیں پروین جیسی صابر شاکر محنتی اور ویژنری خاتون شریک حیات ملیں وہ بھی ایک متحرک خاتون ہیں اور دونوں میاں بیوی کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں وہ سرور فاونڈیشن کے ذریعے انسانی فلاح وبہبود کے کاموں میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں پچھلے دنوں چند صحافی دوستوں عامر خاکوانی، اشرف شریف، حسنین چوہدری، حیدر،زاہدعباس نقوی اور میاں وحید کے ہمراہ رجانہ اور چیچہ وطنی جانے کا اتفاق ہوا ویسے تو یہ وزٹ امریکہ سے آئے ہوئے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے کیمپ کا جائزہ لینا تھا جس نے پولیو سے متاثرہ بچوں جن کے ہاتھ پاوں ٹیڑھے ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ مستقل معذور ہو جاتے ہیں ان کے آپریشن کیے جا رہے تھے یہ پیدائشی معذروں کی بحالی کا قابل قدر منصوبہ ہے جس میں امریکہ میں مقیم ڈاکٹروں کی ٹیم ہر سال سرور فاونڈیشن ہسپتال آکر ان بچوں کے آپریشن کرکے انھیں مستقل معذوری سے نجات دلاتے ہیں ہم کراچی، فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے آپریشن کے لیے آئے ہوئے بچوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سرور فاونڈیشن کی کاوش ناامیدی کو امید میں بدل رہی ہے
بین الاقوامی معیار کے سرور فاونڈیشن ہسپتال رجانہ اور رائے ہسپتال چیچہ وطنی دیکھ کر دلی راحت محسوس ہوئی کہ پاکستان کے اندر ایسے ادارے بھی موجود ہیں جن پر فخر محسوس کیا جا سکتا ہے اور جن کی مثال دی جا سکتی ہے ان دونوں ہسپتالوں میں صفائی کا آئیڈیل نظام دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اگر کوئی معیاری کام کرنا چاہے تو وہ دور دراز دیہی علاقوں میں بھی کر سکتا ہے اور اگر نہ کرنا چاہے تو انٹرنیشنل شہروں کے ہسپتال بھی بیماریاں بانٹ رہے ہوتے ہیں سرور فاونڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے دونوں ہسپتال اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ہیں سرکاری ہسپتالوں کے کرتا دھرتا لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان ہسپتالوں کو چلانے کا ماڈل سٹڈی کریں بہرحال یہ دونوں ہسپتال اپنے اپنے علاقوں میں صحت کی معیاری سہولیات مہیا کر رہے ہیں ان ہسپتالوں میں علاج معالجہ کے اخراجات صرف ان مریضوں سے لیے جاتے ہیں جو صاحب حیثیت ہوں ورنہ تمام علاج فری ہے ان ہسپتالوں میں ڈینٹسٹری سے لے کر دل ،گردوں اور کینسر تک کا علاج کیا جا رہا ہے ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے سہولیات سے مزین ڈاکٹروں کو رہائش گاہیں تعمیر کرکے دی گئی ہیں علاوہ ازیں لاہور، فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ماہر ڈاکٹر بھی ہفتہ وار وزٹ کرتے ہیں ان میں کئی ایسے ڈاکٹر بھی ہیں جو بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں
چوہدری سرور نے بتایا کہ یہ ہسپتال مایوس مریضوں کی آماجگاہ ہیں انھوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں اکثر سرکاری ہسپتالوں میں جن مریضوں کے بچنے کے پانچ یا دس فیصد چانسز ہوتے ہیں ان کا علاج نہیں کیا جاتا اور لواحقین کو کہا جاتا ہے کہ ان کو گھر لے جا کر ان کی خدمت کرلیں وہ مریض اپنا آخری وقت سخت کرب اور تکلیف میں گزارتے ہیں لیکن ہم ایسے مریضوں کو ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیتے ہیں ان کے علاج پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ان میں سے کئی مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں باقیوں کی جس حد تک ممکن ہوتاہے ان کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ہسپتال کے وزٹ کے موقع پر آرتھو کے مریضوں کی تعداد دیکھ کر تجسس ہوا تو پتہ چلا کہ ان علاقوں میں 90 فیصد حادثات چنگ چی رکشوں اور موٹرسائیکلوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اکثر حادثات میں فریکچر ہو جاتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ دیہی علاقوں میں حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے
سرور فاونڈیشن کے تمام ادارے خود کار نظام کے تحت چلتے ہیں جہاں کسی کو اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں چوہدری سرور نے بتایا کہ لوکیشن بہت اہم ہوتی ہے اگر کسی نے دوکان بھی بنانی ہو تو میں انھیں بہترین لوکیشن کا مشورہ دیتا ہوں کیونکہ بہت سارے لوگوں کا کاروبار اس وجہ سے نہیں چلتا کہ وہ غلط لوکیشن پر سرمایہ کاری کر لیتے ہیں جب ہم نے رجانہ ہسپتال بنایا تو مجھے میرے رشتے داروں نے کہا کہ آپ اپنے علاقہ پیر محل میں ہسپتال بنائیں لیکن میں نے رجانہ میں بنایا کیونکہ یہاں سے ٹوبہ ٹیک سنگھ اور پیر محل دس دس کلو میٹر کے فاصلہ پر ہیں دیگر بڑے ٹاون اور دیہات بھی پانچ دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں انھوں نے بتایا کہ اب انھوں نے رجانہ موٹر وے انٹر چینج کی آئیڈیل لوکیشن پر لاہور کے ریٹس پر مہنگی ترین 50 کروڑ روپے مالیت کی زمین خرید کر وہاں عالمی معیار کی یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے چوہدری سرور کا ویژن ہے کہ اگر صحت اور تعلیم کی معیاری سہولتیں دیہی علاقوں میں مہیا کی جائیں تو آبادی کو شہروں کی طرف منتقل ہونے سے روکا جا سکتا ہے کیونکہ شہروں میں آبادی کی منتقلی بہت بڑا مسلہ ہے اسے اگر نہ روکا گیا تو شہروں میں انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہو جائیں گے ابھی سے ہی صاف آکسیجن ناپید ہو رہی ہے بےجا آبادی شہروں کا نظام تباہ کر رہی ہے انھوں نے بتایا کہ وہ جب گورنر تھے تو انھوں نے لوگوں کو دیہی علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنے کی طرف راغب کیا سرور فاونڈیشن پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے فلٹریشن پلانٹ چلا رہی ہے معیاری تعلیم کے سکول اور کالجز قائم کیے ہوئے ہے بچوں اور بچیوں کو ہنر سیکھا کر انھیں روزگار کے قابل بنایا جا رہا ہے دور دراز دیہی علاقوں میں میڈیکل اور آئی کیمپ لگا کر علاج کی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں، شعور کی آگاہی کے لیے پروگرام مرتب کیے جاتے ہیں قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور لوگوں کی امداد کے کام کیے جاتے ہیں زلزلہ، سیلاب اور کرونا میں سرور فاونڈیشن نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button