سائنسی وجوہات کچھ بھی ہوں مگر بحیثیت مسلمان حالیہ تباہی ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں،سرکش اور ظالم انسان کو جھنجھوڑ رہی ہیں، چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں! اے بنی نوع انسان موت تیرے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور تو کانوں میں ہیڈ فون لگائے دنیاوی موسیقی پر محو رقص ہے ؟غزہ میں اٹھنے والے بے تحاشہ لاشے تجھے نظر کیوں نہیں آتے؟گلاب کی طرح کھلتے چہرے بھوک کی شدت سے اتنے کملا گئے ہیں کہ ان کی شناخت مشکل ہو چکی ہے وجود کے نام پر ہڈیوں کے پنجر جا بجا بکھرے پڑے ہیں اور تو برگر اور کولڈ درنکس کے مزے لوٹ رہا ہے، رزق تیرے گھر کی باندی تو نہیں یہ تو رب کا کرم ہے، ذرا سوچ! اس کرم کی چادر تیرے سر سے چھن گئی تو چند گھنٹوں میں وہ احساس تیری رگ و جاں میں اترتا محسوس ہوگا جو آج غزہ کیلئے ناپید ہے۔ کمزور ،بے بس مگر سخت دل انسان تو نے تو پتھروں کو بھی مات کر دیا پہاڑ اس ظلم و بربریت پر اپنی جگہ قائم نہ رہ سکے اور ایک جھٹکے سے سینکڑوں وجودات کو لے کر زمین بوس ہو گئے ۔

کا شکار معصوم فلسطینی بچہ جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر جگانے کی کوشش کر رہا ہے
شدت بھوک سے مغلوب نیم مردہ اجسام تو آسمان سے بھی نہ دیکھے گئے بادل شدت غم سے پھٹا اور بونیر کوماتم کدہ بنا گیا ،غزہ میں گونجتی آہ و بکا زمین کے دل کو دہلا گئی اور یہ دہشت زلزلے میں ڈھل کر سینکڑوں جانوں کو اپنے اندر سموکر باور کرا گئی کہ موت کسی لمحے کی محتاج نہیں ہوتی۔کبھی موجیں بے قرار ہو کر انسان کو جھنجوڑتی ہیں تو کبھی بحر اپنی حدود بھول کر انسانوں کے جھنڈ کے جھنڈ بہائے لیے جا رہا ہے ، کبھی ابر باراں قیامت بن کر ٹوٹتی ہے اور روشنیوں کا شہر تاریکی میں ڈوب جاتا ہے، تو کہیں عمارتیں زمیں بوس ہو کر سینکڑوں جانوں کو نگل جاتی ہیں ، کہیں چشم حیرت گلیشیر پھٹنے کے مناظر دیکھتی ہے، تو کہیں انسان کی سر کشی موت کو آواز دے رہی ہے ۔اب انہیں موسمی تغیرات کا نام دیا جائے، درجہ حرارت کا بڑھ جانا یا بادلوں میں پانی کی بھاری بوندوں کا جمع ہو جانا کہا جائے ، درختوں کی کٹائی کہیں یا گلوبل وارمنگ یہ وجوہات نئی تو نہیں موسمی تغیرات ہمیشہ رونما ہوتے ہیں، آسماں کی وسعتیں ہوں،زمین کے اتھاہ گہرائیاں،سمندر کی تہیں ہوں یا پہاڑوں کی چٹانیں ان میں ہمہ وقت کئی کئی خطرات پنپ رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی رحمت ان کو ڈھانپ کر انسان کو ہمیشہ محفوظ رکھتی ہے ،لیکن اب پے در پہ اموات کا سلسلہ جو روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے بلا شبہ اللہ کی ناراضگی کی طرف اشارہ ہے اور انسان کیلئے بار بار کی تنبیہ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوت سماوی پکار رہی ہے کہ اے انسان باز آجا اپنی حرکات و سکنات سے لیکن بے خوف انسان نہ جانے کس زعم میں مبتلا ہے۔پہاڑوں ،آسمانوں اور زمین پر اترنے والی امانت کو انسان نےقبول کیا تو اسےظالم اور جاہل کہا گیا اور انسان نے ثابت کر دیا کہ وہ حقیقت میں ظالم بھی ہے اور جاہل بھی۔ آج جبکہ کائنات کی ہر شے مسلم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے غزہ سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں پرہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے مگر تھرڈلا انسان اپنی غفلتوں اوررنگینیوں سے کسی طور دستبردار ہونے کو تیار نہیں وہن کی بیماری میں مبتلا نفوس کو پرواہ ہی نہیں کہ وہ ایسا دسترخوان بننے کی راہ پر گامزن ہے جس پر بھوکوں کے ٹوٹ پڑنے کی وعید ہے۔ موجودہ صورتحال میں رب کا جو تقاضا ہے انسان اس سے کوسوں دور کھڑا ہے، جہاد کیلئے لبیک کہنا تو درکنار بندہ بشر تو اپنی عادات سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں۔
جہاد جو اسلام کا دوسرا نام ہے جسے زندگیوں سے نکالا جاچکا ہے ، کچھ اس سے نالاں اور کچھ ناواقف کر دیئے گئے ہیں۔دنیا اسی لئے تومسلمانوں سے خائف رہتی ہے کہ مسلم کو موت کا خوف نہیں ہوتا ، شہید ہوں یا غازی دونوں طرح کامیابی مسلم کی جھولی میں گرتی ہے مگر یہ کامیابی جہاد سے مشروط ہے ، دنیا کی محبت نے جہاد کو موت کا پروانہ سمجھ لیا ہے اگر ایسا ہوتا تو 100 سے زیادہ جنگیں لڑنے والے خالد بن ولید شہادت کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود اپنے بستر پر فوت نہ ہوتے۔
کوئی شک نہیں کہ جہاد کا حکم ریاست کی طرف سے آتا ہے مگر جب یہ جملے لوگوں کی زبانوں سے ادا ہوتے ہیں کہ ہم کیا کریں امیر وقت کی اطاعت ضروری ہے تو غزوہ تبوک میں شرعی عذر والے وہ 2 گروہ یاد آتے ہیں جو نہ جا سکے تھے۔ان میں سے ایک تو نہ جانے پر افسردہ اور دکھی تھا جبکہ دوسرا عذر پر خوش کہ اچھا ہوا نہ جانا پڑا۔اور اس وقت مسلمانوں میں اسی دوسرے گروہ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔نہ جانے یہ آیت کیوں دل میں امت مسلمہ کے دل پر اثر نہیں کرتی کہاور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کیلئے جہاد نہیں کرتے۔
میدان جنگ میں جہاد کرنا تو دور جہاد بالنفس سے بھی گئے۔ آج بھی اسرائیلی ریسٹورنٹ بھرے دکھائی دیتے ہیں،دکانیں اسرائیلی مصنوعات سے لبریز ہیں، جشن و کھیل تماشے پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہیں، پارٹیاں معمول کا حصہ ہیں، دو سال میں 57 اسلامی ممالک اسرائیلی مصنوعات کا خاتمہ کر کے یہودی معیشت کو تباہ و برباد کر سکتے تھے مگر افسوس ان کا مکمل خاتمہ ہم اپنے اپنے گھروں سے نہ کر سکے۔ اللہ ہمیں بار بار مواقع دے رہا ہے کبھی بنیان مرصوص کی صورت میں کامیاب کر کے مورال بلند کر رہا ہے تو کبھی آفات کی صورت میں جھنجوڑ رہا ہے کہ اللہ نے بندوں کی جانوں کو جہاد کے بدلے خرید لیا ہے، اب جانیں اس رب کی امانت ہیں اور ہم خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں صرف موت کے خوف سے، موت تو کسی بھی لمحے اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ، حقیقت سب کے سامنے ہے کہ پکنک پر آئے پورے خاندان کو چند منٹوں میں موت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، لگزری گاڑیوں میں بیٹھے لوگ پہاڑ کے نیچے کچلے گئے، استاد دوران لیکچر لمحے میں دل۔پکڑ کر موت کی آغوش میں چلا گیا ، سیلابی ریلے میں سالوں کی محنت سے بنائے گئے مضبوط گھر مکینوں سمیت بہہ گئے،باپ بیٹی گاڑی سمیت چشم زدن میں آنکھوں سے اوجھل ہوکر موت کی سرحد میں داخل ہوگئے، بسوں سے اتار کر سینکڑوں افراد کو گولی کا نشانہ بنا دیا گیا،یہ سب واقعات سبق اور مہلت ہیں ہم سب کیلئے کہ موت کا لمحہ آنے سے پہلے اپنی سمت کا تعین کرلیں ۔

غزہ کا بچہ بچہ ہمیں سکھا رہا ہے کہ زندگی کیسی ہونی چاہئے۔ موت تو ہر روز کئی بار انسان کو یاد کرتی ہے پھر ڈر کیسا ؟کیون نہ ہم جان اسی کیلئے وقف کردیا جس کی امانت ہے، اب ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اصل کی طرف لوٹ آئیں کیونکہ اللہ کی سنت ہے جب کوئی قوم اپنا فریضہ انجام نہیں دیتی تو وہ اس کی جگہ دوسری قوم لے آتا ہے۔وہ وقت آنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم بیدار ہوجائیں اور اپنے اپنے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر جہاد کریں۔حالات بدلیں گے اس یقین کے ساتھ بس اپنے اپنے حصے کا کام کرتے جائیں۔



