بانی پاکستان،محسن ملت اور عظیم قائد۔۔۔۔محمد علی جناح
عقیل انجم اعوان
11 ستمبر 1948ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک المیہ اور قومی غم کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بانیٔ پاکستان، محسنِ ملت اور عظیم قائد محمد علی جناح اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ شخصیت جس نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ایک قوم کو آزاد فضاؤں میں سانس لینے کا حق دیا، وہ رہنما جس نے بے سہاروں کو سہارا اور بے مقصد قوم کو منزل عطا کی، وہ روشنی جو امید کی کرن تھی، ہمیشہ کے لیے بجھ گئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم بجھے نہیں بلکہ اپنی تعلیمات، اپنی فکر اور اپنے اصولوں کے ذریعے ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔
ان کی وفات ایک عظیم قومی سانحہ تھی لیکن ان کا کردار، ان کی جدوجہد اور ان کا نصب العین آج بھی ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کسی عام سیاست دان کی زندگی نہیں تھی بلکہ ایک مسلسل جدوجہد، ایثار اور قربانی کا استعارہ تھی۔ وہ ابتدا میں بمبئی کی گلیوں میں ایک نوجوان وکیل کے طور پر جانے جاتے تھے۔ قانون میں ان کی مہارت نے انہیں عزت، شہرت اور دولت عطا کی۔ مگر یہ سب کچھ ان کے لیے کافی نہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا اصل مقام صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑی قومی ذمہ داری ہے۔
یہی احساس انہیں سیاست کی جانب کھینچ لایا۔ کانگریس کی صفوں میں شامل ہو کر انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے خواب کو حقیقت بنانے کی کوشش کی لیکن بہت جلد انہیں یہ حقیقت سمجھ میں آ گئی کہ ہندو اکثریت مسلمانوں کو محض ایک اقلیت سے زیادہ حیثیت دینے پر آمادہ نہیں۔ چنانچہ جناح نے سیاست کا رخ بدلا اور وہ مسلم قوم کے واحد اور سچے ترجمان کے طور پر سامنے آئے۔
یہ تبدیلی آسان نہ تھی۔ ان کے مخالفین نے انہیں فرقہ پرست کہا، برطانوی حکمرانوں نے انہیں شک کی نظر سے دیکھا اور ہندو رہنماؤں نے ان کے وجود کو اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا۔ لیکن جناح اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو باور کرایا کہ ان کی بقا صرف ایک آزاد وطن میں ہے جہاں وہ اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ پیغام ہی تھا جس نے ایک منتشر قوم کو یکجا کیا اور لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی آگ بھڑکا دی۔
1940ء کی قراردادِ لاہور سے لے کر 1947ء کے قیامِ پاکستان تک کا سفر دراصل جناح کے عزم اور قیادت کی داستان ہے۔ ایک طرف کانگریس کی ریشہ دوانیاں تھیں، دوسری طرف انگریز حکمرانوں کی تاخیری حربے اور تیسری طرف اپنی ہی قوم کے اندر اختلافات۔ مگر جناح نے ہر رکاوٹ کو برداشت کیا، ہر مخالفت کا مقابلہ کیا اور ایک لمحے کے لیے بھی ہمت نہ ہاری۔ وہ بیمار تھے، کمزور تھے، مگر جب بھی عوام کے سامنے آئے تو ایک فولادی شخصیت کی طرح نظر آئے۔
قائداعظم کی شخصیت میں دو پہلو سب سے نمایاں تھے: ایک ان کی اصول پسندی اور دوسرا ان کا عزم۔ وہ اپنے اصولوں پر کبھی سودے بازی نہ کرتے۔ انہوں نے سیاست کو تجارت یا اقتدار کا کھیل نہ بنایا بلکہ اسے ایک مشن کے طور پر اپنایا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ "میری زندگی کا واحد مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔” یہی مقصد ان کے ہر فیصلے میں جھلکتا تھا۔
11 ستمبر کی شام جب جناح کراچی کے گورنر جنرل ہاؤس میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ایک قیامت صغریٰ برپا ہو گئی۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر امڈ آئے، ہر آنکھ اشکبار تھی۔ وہ جانتے تھے کہ انہوں نے صرف ایک رہنما ہی نہیں بلکہ ایک باپ کھو دیا ہے۔ ان کے جنازے میں جو منظر دیکھنے کو ملا وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہندو، سکھ اور عیسائی بھی اس غم میں شریک تھے کیونکہ سب جانتے تھے کہ جناح ایک ایسی شخصیت تھے جن کا کردار سب کے لیے باعثِ احترام تھا۔
قائداعظم کی رحلت کے بعد پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست کی طرح مسائل میں گھرا ہوا تھا۔ وسائل کی کمی، لاکھوں مہاجرین کی آباد کاری، معیشت کی ناتوانی اور دشمنوں کی سازشیں، یہ سب ایسے مسائل تھے جن سے نمٹنے کے لیے جناح جیسے رہنما کی ضرورت تھی۔ مگر تقدیر نے یہ موقع نہ دیا۔ پاکستان اپنی بنیاد کے ابتدائی سال ہی میں اپنے سب سے بڑے سہارا سے محروم ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد پاکستان کو بار بار قیادت کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
آج جب ہم قائداعظم کو یاد کرتے ہیں تو یہ سوال لازمی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے ان کے خواب کو پورا کیا ہے؟ کیا وہ پاکستان جو ایک اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ہم نے قائم کیا؟ بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ ہم اس خواب سے بہت دور نکل آئے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ناانصافی، کرپشن، نااتفاقی اور ادارہ جاتی زوال نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ ہم نے قائد کے اتحاد، ایمان اور قربانی کے اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم آج بھی مسائل کے گرداب میں ہے۔
قائداعظم کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم ہو۔ وہ بار بار کہتے تھے کہ "پاکستان میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔” مگر آج ہمارا حال یہ ہے کہ طاقتور کے لیے قانون کچھ اور ہے اور کمزور کے لیے کچھ اور۔ وہ دیانتداری کے پیکر تھے، لیکن آج بدعنوانی ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ وہ قومی اتحاد کے علمبردار تھے، لیکن آج ہم لسانی، مذہبی اور صوبائی اختلافات میں بٹے ہوئے ہیں۔
یہ دن ہمیں محض ماضی کی یاد دہانی کے لیے نہیں بلکہ اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے بھی آتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے اپنے قائد کے اصولوں کو اپنایا تو پاکستان ترقی کرے گا، ورنہ ہم مزید بحرانوں میں گھر جائیں گے۔ قائداعظم کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ محنت، اصول پسندی اور عزم ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قائداعظم نے اپنے آخری ایام میں بیماری کے باوجود قوم کے مسائل کے حل کے لیے دن رات کام کیا۔ وہ جانتے تھے کہ وقت کم ہے، مگر انہوں نے اپنی توانائی کا آخری قطرہ بھی پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی یہی قربانی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ یہ وطن کسی قیمت پر معمولی نعمت نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے جس کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔
11 ستمبر ہمیں ایک طرف غمگین کرتا ہے تو دوسری طرف جگاتا بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک شخص اگر سچے عزم اور ایمان کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو پوری دنیا کی تاریخ بدل سکتا ہے۔ جناح نے یہ کر دکھایا۔ اب یہ ہماری باری ہے کہ ہم ان کے خواب کو حقیقت کا روپ دیں۔ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں جہاں انصاف ہو، امن ہو، ترقی ہو اور جہاں ہر شخص عزت اور وقار کے ساتھ جی سکے۔
قائداعظم محمد علی جناح صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ وہ ایک نظریہ، ایک تحریک اور ایک خواب کا نام ہیں۔ وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی رحلت کو جتنے برس گزر جائیں، ان کا نام اور ان کی خدمات کبھی مٹ نہیں سکتیں۔ وہ ہماری تاریخ کا وہ امر چراغ ہیں جو کبھی بجھ نہیں سکتا۔



