میری یہ بات ریکارڈ پر رہے گی،یہ نہ صرف میری دعویٰ ہے بلکہ یقین ہے،آنیوالے دور میں فرقہ واریت ختم ہوجائے گی،کیسے ۔۔۔؟ آنیوالی نسلیں یہ نہیں دیکھیں گی، کون سنی،کون شیعہ،کون وہابی،کون دیو بندی،صرف ایک چیزدیکھیں گی، کردار۔۔۔اسی طرح ’’ سیاسی بت ‘‘ بھی ٹوٹ جائینگے،شخصیت پرستی بھی دم توڑ جائیگی،صرف یہی دیکھا جائے گا،کردار۔۔۔یہ سوشل میڈیا کا جدید دور ہے، ’’ معاشرتی علوم ‘‘ کا علم نہیں چلے گا،کوئی خبر،کوئی غبن،کوئی معلومات خفیہ نہیں رکھی جاسکے گی۔ یہ بات درست،پاکستانی تاریخ میں تقریباً آدھی مدت آمریت اور آدھی مدت جمہوریت رہی ہے،تمام کے تمام تر الزامات فوج پر لگے،تمام کی تمام تر گالیاں فوج کو پڑیں، صرف فوج کو ہی کیوں ؟۔۔۔ہم ایک منٹ کیلئے ذرا آئین،قانون،غلط ،ٹھیک،اخلاقیات کو ایک طرف رکھتے ہیں،ذرا اس بات کا جائزہ لیتے ہیں آدمی مدت میں آمروں نے کیا کچھ کیا اور اتنی ہی مدت میں جمہوریت پسندوں نے کیا کارنامے سرانجام دیئے۔
ملکی ترقی کیلئے ڈیمزسب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں،پاکستان میں واسک ڈیم،منگلا ڈیم،سملی ڈیم،راول ڈیم،حب ڈیم،تربیلا ڈیم،خان پور ڈیم جنرل ایوب کے دورمیں تعمیر ہوئے،جمہوریت پسندوں نے کتنے ڈیمز بنائے۔۔۔۔؟ معاشرتی علوم میں بھی نہیں ملتے۔ایوب دور میں پہلی آٸل ریفاٸینری قاٸم کی گئی تھی،نادرن سوئی گیس کمپنی شروع ہوئی،جس کی وجہ سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انڈسٹری شروع ہوئی،پاکستان ٹیلی وژن کا آغاز ہوا،کیمیائی کھاد،نائیلون اور دھاگا بنانے والی انڈسٹری تیزی سے ترقی کرنے لگی،بے روزگاری کی شرح صرف تین فیصد تھی،پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط تھا،اس بات کا اندازہ آپ اس مثال سے لگا سکتے ہیں،پاکستان نے اس وقت جرمنی کو 120 ملین ڈچ مارک قرضہ دیا تھا۔۔۔ ایک اور اہم بات،پیپلز پارٹی دعویٰ کرتی ہے ذوالفقار بھٹو نے پاکستان کو پہلا آئین دیا،یہ بات سرا سرغلط، بھٹو والے آئین سےپہلے 1962 کا آئین تھا۔بلدیاتی نظام متعارف کرایا گیا، ملکی مصنوعات کو یورپ ، ایشیائی تجارتی مارکیٹوں تک ایکسپورٹ کیا،ا نفراسٹریکچر کو مضبوط کیا ، سڑکوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں کا جال بچھایا گیا، نصاب تعلیم کا نیا نظام رائج ہوا،زرعی اصلاعات کی گئیں، سالانہ جی این پی گروتھ 15فیصد تک تھی جو بھارت کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ تھی۔جنرل ایوب دور کے یہ چند ایک کام ہیں۔۔۔۔آگے چلتے ہیں۔۔۔
جنرل ایوب کے دور میں ترقی پانیوالی انڈسٹری کوتباہ کرتے ہوئے تمام انڈسٹری کو قومی تحویل میں لے لیا گیا،بھٹو نےسرمایہ داروں کا ایسا اعتماد ختم کیا جو آج تک بحال نہیں ہوسکا،اسی سبب پاکستان کے سرمایہ دار پیسہ ملک سے باہر لے جاتے ہیں،خدشہ ہی رہتا ہے،نہ جانے کب حکومت انکی انڈسٹری قومی تحویل میں لے،لے۔۔۔بھٹو کا یہ بڑا کارنامہ ہے اس نے پاکستان اسٹیل ملزقائم کی،لیکن اس کی کیا صورتحال ہے،سٹیل مل کبھی بھی جمہوری دور میں منافع نہیں کما سکی،صرف ایک مثال پڑھیں،پرویز مشرف کے دور میں سٹیل ملز10ارب سالانہ منافع کما رہی تھی،ایک اور اعلیٰ شخصیت آئی تو مل200ارب خسارے میں چلی گئی،پھر میاں صاحب تشریف لائے اور مل کا خسارہ 460ارب ہوگیا۔مزے کی بات سنیں،شریف خاندان سٹیل ملز چلانے کا ماہر ہے،لیکن ان کے کسی بھی دور میں سٹیل مل منافع میں نہیں گئی۔۔۔وجہ ۔۔۔ ؟ اگر ملکی سٹیل مل منافع میں چلی جاتی تو انکی اپنی اتفاق سٹیل مل کا کیا بنتا ۔۔۔ ؟ ضیاءالحق کے دور میں سب سے بڑا اہم ترین کام ،ایٹم بم تیار ہونا،ہاں ایٹمی پلانٹ میں بھٹو کا بھی بڑا کردار ہے،ابتدا ایوب دور میں ہوئی تھی۔ بھٹو دورکے ستائے تاجروں کا اعتماد بحال کیا گیا،اس وجہ سے پاکستان کی شرح نمو6فیصد سے زائد ہوگئی،یہ ذکر بھی اہم،گیارہ سال حکومت کرنے والے آرمی چیف کا جب انتقال ہوا ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا،ذاتی گھر تک نہیں تھا،ضیا خاندان کافی عرصہ چوہدری شجاعت کے گھر میں قیام پزیر رہا۔ مہنگائی اور جرائم کنٹرول میں رہے۔ ایٹمی دھماکے بھی آرمی چیف جنرل جہانگیرکرامت نے کرائے،نواز شریف کا کریڈٹ لینا غلط ہے،یہ ٹھیک،نواز شریف اس وقت وزیراعظم تھے،فیصلہ کس نے کیا،ڈاکٹرعبدالقدیر کا انٹرویو ریکارڈ پر ہے،جس میں انہوں نے بتایا تھا نواز شریف کو اس وقت اطلاع دی گئی تھی جب دھماکے کرنےکیلئے تمام تر انتظامات مکمل تھے،انہیں پیغام دیا گیا کہ آجاؤ اور ساتھ تصویریں اتروالو۔۔۔پاکستان میں موبائل انڈسٹری اورنجی چینلز پرویز مشرف لیکر آئے،ریسکیو1122 ایک زبردست ادارہ پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرایا گیا،اس کا کریڈٹ پرویز الہٰی لیتے ہیں،ہاں،پرویز الہٰی وزیراعلیٰ تھے،لیکن اس وقت تمام کام پرویز مشرف کی ہدایات پرہی ہورہے تھے،پنجاب میں سڑکیں بنانے کا ریکارڈ قائم ہوا،جتنی سڑکیں پاکستان کے قیام سے 2002 تک تعمیر ہوئی تھی،اتنی سڑکیں پانچ سال میں تعمیر ہوئیں،معاشی صورتحال بہتر تھی،شرح نمو6فیصد سے زائد تھی۔پاکستان میں شرح نمو کسی بھی جمہوری دور میں6 فیصد سے زائد نہیں ہوئی،عمران خان کے دور میں6اعشاریہ ایک ہوئی تھی،جب کورونا کے دور میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بے پناہ آرڈر ملے۔ یہ میں نے مختصر سا جائزہ پیش کیا ہے،یہ سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔۔۔ہمارے ہاں ایک بیانیہ چلتا ہے،بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔۔۔۔ملک میں جمہوریت ہونی چاہیے،میں جمہوریت کا حامی۔۔۔۔ لیکن کونسی جمہوریت۔۔۔؟یہ جو پاکستان میں چل رہی ہے ،کیا یہ جمہوریت ہے ۔۔۔؟ میرا ذاتی خیال ہے،یہ جو جمہورہت ہے یہ آمریت سے بھی بدتر ہے،مسلسل دو خاندانوں کا باری باری اقتدار،دونوں خاندانوں پر کرپشن کے ہمالیہ جتنے الزامات،جائیدادیں کئی براعظموں تک پھیل چکیں،یہ کونسی جمہوریت ہے جہاں بولنے کی بھی اجازت نہیں،عدلیہ کا جوحال ہے،سب کے سامنے ہے،معاشی حالات بدترین،مہنگائی عروج پر ہے،گندم،کپاس کی پیداواربہت نیچے چلی گئی،مینوفیکچرنگ منفی پر جاچکی،سرمایہ دھڑا دھڑ بیرون ملک منتقل ہورہا۔۔۔سیاست توخدمت کا نام ہے لیکن ہمارے ہاں سیاست ایک بہترین بزنس ہے،پارلیمانی جمہوریت تو بری طرح ناکام ہوچکی،یورپ بھی جمہوریت کے علاوہ کوئی اور طرز حکمرانی ڈھونڈ رہا،کیونکہ جمہوری نظام مافیاز کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے،یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد صرف ریکارڈ درست کرنا تھا،کیونکہ معاشرتی علوم میں تومریم بھی جمہوریت کی علمبردار لکھی ہوئی ہے۔۔۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



