انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

تبدیلی کی افواہیں کیوں۔۔۔؟

(سپیڈبریکر، میاں حبیب )

وطن عزیز میں ہر وقت کوئی نہ کوئی کچھڑی پکتی رہتی ہے شاید ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں کچھ لوگوں کی نفسیات ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت اپنے سر پر کوئی نہ کوئی چیز سوار رکھتے ہیں پاکستانی قوم کی بھی مجموعی عادت سی ہو گئی ہے کہ ہم ہر وقت کسی نہ کسی مسئلے میں الجھے رہتے ہیں کل تک ہمیں ملٹی پل خوف گھیرے ہوئے تھے یہاں تک ہمیں اپنی بقا کا بھی خطرہ محسوس ہو رہا تھا لیکن معرکہ حق بنیان المرصوص کی کامیابی نے ہمیں نئی زندگی دی۔

پاک بھارت جنگ نے قوم کو یکجا کر دیا نئی امیدوں نے جنم لیا پاکستان دنیا میں قابل قبول ریاست کے طور پر ابھرا افواج پاکستان نے ناقابل یقین کارناموں کی بدولت قوم کے دل موہ لیے پاکستان پر دنیا کے دروازے کھلنے لگے ہمارا ازلی دشمن بھارت خود اپنے گرداب میں پھنس کر تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔

پاکستان کو اللہ نے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں جبکہ بھارت کو بریکیں لگ گئی ہیں ہمیں ان حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن نہ جانے کیوں تبدیلی کی افواہیں زور پکڑ رہی ہیں چونکہ پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی ہر وقت عروج پر رہتی ہر کوئی دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں ہر وقت تیار رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں نہ سیاست مستحکم ہو پا رہی ہے اور نہ ہی جمہوریت پروان چڑھ رہی ہے بلکہ جمہوریت کو تو چوبیس گھنٹے خطرات لاحق رہتے ہیں یہ ایسی دوشیزہ ہے جو ہر کسی کے ساتھ ہر وقت بھاگنے کے لیے تیار رہتی ہے ۔

پہلے تو فیلڈ مارشل کے بارے میں منظم افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ صدر مملکت بن رہے ہیں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وردی سمیت صدر منتخب کرنے کی راہ نکالی جا رہی ہے چونکہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست فاش سے دوچار کیا تھا تو فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مقبولیت میں اضافہ ہوا دنیا ان کے کردار کی معترف ہوئی ۔

امریکی صدر نے اڑھائی ماہ میں ان سے دواہم ملاقاتیں کیں پاکستان کے لیے آسانیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں معیشت کی بہتری کے لیے بھی انھوں نے کردار ادا کیا تو یہ افواہیں تیز ہو گئیں کہ شاید وہ ٹیک اوور کرنے کی طرف جا رہے ہیں لیکن آئی ایس پی آر کی جانب سے واضح طور پر اس کی تردید کی گئی جس سے افواہوں میں کچھ کمی ضرور ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین دوریوں کی خبریں گردش کرنے لگیں۔

ہمارے ایک دوست کالم نگار نے حال ہی میں برسلز میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے جو گفتگو کی اس میں شاید ایک تاثر یہ بھی تھا کہ موصوف نے اپنے سوالوں کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ فیلڈ مارشل کے ارادے کیا ہیں بظاہر تو انھوں نے زیر گردش تمام افواہوں کی تردید کی ہے اور حکومت نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن اس سے قبل بزنس کمیونٹی کے ایک اہم وفد نے فیلڈ مارشل سے آڑھائی تین گھنٹے کی ملاقات کی انھوں نے فیلڈ مارشل کو اپنے مسائل بتا کر اپنا معاملہ بھی حل کروا لیا اور حکومت نے بھی فوری طور ایف بی آر کے شتر بے مہار اختیارات کو نکیل ڈالنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کر دیں۔

فیلڈ مارشل سے ملاقات کرنے والے کچھ دوستوں کو ہم نے بھی کریدنے کی کوشش کی کہ فیلڈ مارشل کے عزائم کیا ہیں ملاقات کرنے والے دوستوں نے بتایا کہ وہ پاکستان کے معاشی حالات کی بہتری کے لیے بہت سنجیدہ ہیں لیکن مختلف سوالات کی روشنی میں جو محسوس ہوا وہ یہ تھا کہ وہ حکومت کے بعض اقدامات سے مطمئن نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کو اپنے حصے کا کام زیادہ بہتر طریقے سے کرنا چاہیے۔

حکومت کو معاشی معاملات میں بہتری کے لیے برق رفتاری سے آگے بڑھنا چاہیے سیاسی حالات کے استحکام میں کردار ادا کرنا چاہیے ان ہی محسوسات کے باعث شاید تبدیلی کی افواہوں نے جنم لیا لیکن میرے خیال میں اگر اصلاح کے پہلو سے دیکھا جائے تو پاکستان کے تاجر پیشہ افراد کو اعتماد میں لینا حکومت کا کام ہے ۔

معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔سیاسی حالات کے استحکام کے لیے اقدامات کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے اقدامات کرنا لوگوں کو اعتماد میں لینا بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے بدقسمتی سے اس وقت جو تاثر قائم ہے یا بنا دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو کرنا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ نے کرنا ہے سیاسی حکومت کو اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے اور انتظامی وسیاسی اقدامات کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہنا چاہیے یہی ملک وقوم کے لیے بہتر ہے حکومت کو اپنے استحکام کے ساتھ عوام کے استحکام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے بیوروکریسی اور انتظامیہ کو بھی اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button