سنجیدگی کا یہ عالم ہے بلاول بھٹو آگاہی مہم کیلئے وفد کےسربراہ بنا دیئے گئے ،جیسے فضل الرحمٰن کے بارے میں سید علی گیلانی نے کہا تھا۔۔
نجم سیٹھی کو پھلجھڑی چھوڑنے سے پہلے جاتی امرا میں فائربریگیڈ بھیج دینے چاہیے تھے،دو دن ہوگئے آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔۔
سیاستدان جنگی حکمت عملی نہیں بناتے سیاسی سپورٹ دیتے ہیں،بچہ بچہ جانتا جنگ کی حکمت عملی کس نے بنائی اور کون بناتاہے،شہباز شریف بے چارے روز قسمیں اٹھا اٹھاکریقین دلارہے ہیں حکمت عملی سپہ سالار نے بنائی۔شہباز شریف ایسا کیوں کررہے ۔۔۔؟
آپکو طالبعلم اکرم کی کہانی پڑھنا پڑے گی، جسے ٹیچرنے فیل کردیا اوروہ شکایت لیکر پرنسپل کے پاس چلا گیا، کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ،پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا،موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔
اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔پرنسپل صاحب نے کہا ہو سکتا ہے یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے۔
استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا،جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں،ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئی الگ موضوع دے کے دیکھتے۔
استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا،کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے،جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے، آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف اور رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراؤں میں جو بدھو رہتے ہیں ان کو تو کمپیوٹر کی الف ب کا نہیں پتا، لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں، اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے، اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے،لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے،زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔
پرنسپل نے یہ سن کر کہا پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ یہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھیں جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ، طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے،ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا میرے پاس ٹویوٹا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھامیں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ سڑک عبور کرتے ہیں اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے، اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے، یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے، اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے، لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی۔
جناب عالی
میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ،میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ،جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویے پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے،مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔ اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔
طالب علم کی کہانی شہبازشریف سے ملتی جلتی ہے،جیسے طالبعلم اونٹ کی کہانی لکھنے سے باز نہیں آسکتا،ایسے ہی شہبازباز نہیں آسکتے،شہباز شریف جان بوجھ کر ایسانہیں کرتے،انکی عادت ہے۔
وارث شاہ نہ عادتاں جاندیاں نیں
بھانویں کٹیے پوریاں پوریاں جی۔
(آدمی کو خواہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے‘ فطرت اس کی بدل نہیں سکتی)
جنگ ہوئی،اللہ تعالیٰ نے عزت رکھ لی،اب نئی بات سنو،حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہےعالمی برادری کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنے کیلئے بلاول بھٹو کی سربراہی میں وفد یورپ کا دورہ کرے گا،حسب معمول حنا ربانی بھی ساتھ ہونگی،اور ساتھ ن لیگ کے خرم دستگیر بھی ساتھ ہوں گے۔۔۔حکومت کی اس حرکت پرمرحوم کشمیری رہنما سید علی گیلانی یادآگئے،ایک بار انہوں نے بڑے غم زدہ لہجے میں کہا تھا پاکستان مسئلہ کشمیر کے ساتھ کتنا مخلص ہے،سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے،فضل الرحمٰن کو کشمیر کمیٹی کاچیئرمین بنایا ہوا ہے۔ اور باقی رہے نجم سیٹھی صاحب،ان کا دعویٰ ہےکپتان جون میں رہا ہوجائیں گے، اب سیٹھی صاحب جانیں اور ان کا دعویٰ جانے۔۔۔ہمیں کیا،رہائی ہوتی یا نہیں،بہرحال سیٹھی صاحب نے شریف خاندان اور انکے چیلے چمچوں کو ’’ تتے توے‘‘ پر بٹھا دیا ہے۔



