پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکاروبار

جب انکم ٹیکس نافذ نہیں کر سکتے تو سپر ٹیکس کیسےکر سکتے ہیں ؟ سپریم کورٹ

کیاحکومت کی پالیسی ہے زیادہ امیروں سے ٹیکس نہ لو:آئینی بنچ، کوئی وجہ ہوگی 30، 40اور50کروڑ والوں پر سُپرٹیکس نافذ کردیااِ س سے اوپروالوں پر نہیں لگایا:جسٹس حسن اظہر

اسلام آباد:(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سُپرٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پر لاہور، سندھ اور اسلا م آباد ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں پارلیمنٹ آئین کے اندررہ کرہی ٹیکس کانفاذ کرسکتی ہے۔

جسٹس سید حسن اظہررضوی نے ریمارکس دیئے جب انکم ٹیکس نافذ نہیں کر سکتے تو سپر ٹیکس کیسے نافذ کر سکتے ہیں، کیا حکومت نے کوئی درجہ بندی کی کہ 2ارب ارب روپے کمانے والوں سے کتناسُپر ٹیکس لینا ہے یاحکومت کی پالیسی ہے کہ زیادہ امیروں سے ٹیکس نہ لو، کوئی وجہ ہوگی کہ 30کروڑ، 40کروڑاور50کروڑ والوں پر سُپرٹیکس نافذ کردیااِ س سے اوپروالوں پر نہیں لگایا، آج کل تو ہر ماہ ٹیکس دہندگان کو نوٹس آ رہے ہیں کہ ایڈوانس ٹیکس ادائیگی کریں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے ہیں ایڈوانس ٹیکس میں سپر ٹیکس کیسے لے سکتے ہیں، ایڈوانس ٹیکس کے لیے حساب کتاب کیسے کریں گے۔ایف بی آر کی وکیل اسما حامد نے دلائل مکمل کرلیے، ایف بی آر کے دوسرے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے دلائل کاآغاز کردیا۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بینچ نے سُپرٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پر لاہور، سندھ اور اسلا م آباد ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائر 2044درخواستوں کی سماعت کی۔

جسٹس سید حسن اظہررضوی کاکہنا تھا ایک مثال لے لیں کہ ابھی فنڈ پر 100 روپے ٹیکس لگتا ہے،25 سال بعد یہ 100روپے بڑھتے بڑھتے 550 روپے ہو جائیں گے، مطلب یہ کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جو فوائد ملتے ہیں وہ نہیں ملیں گے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامررحمان کاکہنا تھا سیکنڈ شیڈول میں پروویڈنٹ فنڈ پر سپر ٹیکس سمیت ہر ٹیکس پر چھوٹ ہوتی ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل یہ تو آپ محترمہ کو راستہ دکھا رہے ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر کاکہنا تھا کہ جن کی آمدن 30کروڑ روپے سے کم ہے ان پر سُپر ٹیکس نہیں لگتا۔اسماحامد کاکہنا تھا کہ جن پر 2022میں 10فیصد سُپرٹیکس عائدکیا گیا تھا اُن پر 2023میں بھی 10فیصد سُپرٹیکس ہی عائد کیا گیا۔

جسٹس سید حسن اظہررضوی کاکہنا تھا کہ مالی فوائد توسہہ ماہی بنیادوں پر دیئے جاتے ہیں، بینک توماہانہ بنیادوں پر بھی منافع دیتے ہیں، ٹیکس تواِس میں کاٹ لئے جاتے ہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کاکہنا تھا کہ اگر مدعاعلیہان نے کسی چیز کوچیلنج نہیں کیا توکیاوہ آج اسے چیلنج نہیں کرسکتے۔جسٹس محمدعلی مظہر کااسماحامد سے کہنا تھا آپ اپنا تحریری جواب بھی جمع کروادیں اور اگر کوئی نقطہ رہ گیا ہے تواُس کاجواب مدعاعلیہان کے دلائل کے بعد جواب الجواب میں دے دیں۔

ایف بی آرکے دوسرے وکیل حافظ احسان نے اپنے دلائل میں کہا اسماحامد کے دلائل کی حمایت کرتے ہیں، کراچی کے 200کے قریب درخواست گزاروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیااور فوجی فرٹیلائزر کیس کا فائدہ حاصل کیا،سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ ٹیکس کے نفاذ کے معاملہ پر قانون سازی کرسکتی ہے کہ نہیں۔ بینچ نے سماعت آج تک ملتوی کردی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button