دہشتگردی کیخلاف آپریشن: ترکیہ تعاون پر تیار: امن کیلئے اقوام عالم کو حکمت عملی بنانا ہوگی، شہباز: اردوان نے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کر دی
وزیر اعظم کا دورہ ترکیہ، مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے، توانائی، کان کنی، معدنیات اور آئی ٹی میں تعاون پر اتفاق، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
انقرہ، اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) پاکستان اور ترکیہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کی مذمت کی ہے جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے ہر قسم کی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انقرہ میں ترکیہ کے صدر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہے، ہر قسم کی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں دفاعی شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں جبکہ عالمی امور پر دونوں ممالک میں ہم آہنگی ہے۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ دونوں ممالک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں اور غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان باہمی رابطے مضبوط دوستی کی علامت ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ پاکستان نے غزہ میں ہونے والی بربریت کی بھرپور انداز میں مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر سے ایک بار پھر ملاقات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اردوان کی قیادت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے ترقی کی منازل طے کیں۔ شہباز شریف نے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کرنے پر میزبان صدر کا شکریہ ادا کیا جبکہ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن میں ترکیہ کی حمایت بھی مانگی۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں جاری دہشتگردی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے پر عائد کی اور ان کے خاتمے میں ترکیہ سے تعاون کی درخواست کی۔ شہباز شریف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کیلئے تعاون بہت ضروری ہے۔ امن کیلئے اقوام عالم کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بنانا ہوگی، مشرق وسطیٰ اور غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں بے گناہ بچوں، خواتین اور مردوں کی شہادتیں ہورہی ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان ایک دور اندیش اور وژنری لیڈر ہیں جن کی قیادت میں ترکیہ اور اس کے عوام ترقی کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2010ء کے سیلاب میں پاکستان کا دورہ کر کے متاثرین سے یکجہتی کرنے پر ترکیہ کے صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترکیہ کے صدر نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب میں ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، انسداد دہشتگردی کیلئے ترکیہ کے تعاون کے مشکور ہیں، دونوں ملکوں نے توانائی، کان کنی ، معدنیات اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں پچاس ہزار معصوم جانوں کے ضیاع کی شدید مذمت اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر پر ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شمالی قبرص کے معاملے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر غزہ کے لوگوں کو فوری مدد فراہم کی جائے اور مسئلہ فلسطین کو مستقل بنیادوں پر حل کرتے ہوئے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کیا جائے کیونکہ یہ آخری اور واحد حل ہے۔ قبل ازیں انقرہ پہنچنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ جس میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے خاص طور پر مشترکہ منصوبوں اور دو طرفہ سرمایہ کاری کے ذریعے اقتصادی تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین توانائی، کان کنی، دفاع، زرعی پیداوار کے مشترکہ منصوبوں، تجارت و عوامی تبادلوں کے فروغ، علاقائی اور دو طرفہ روابط میں اضافے، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے تعاون کے مواقع اجاگر کئے۔ بات چیت کے دوران، دونوں رہنمائوں نے 13فروری 2025ء کو اسلام آباد میں منعقدہ 7ویں اعلیٰ سطحی سٹریٹجک کوآپریشن کونسل (HLSCC)کے فیصلوں کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنمائوں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کثیر جہتی دوطرفہ تعاون کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور قومی مفاد کے امور پر ایک دوسرے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ رہنمائوں نے غزہ میں انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثرہ آبادی کو انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔ صدر اردوان نے فلسطین کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت اور انسانی امداد کو سراہا۔ رہنمائوں نے خطے میں امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید شامل تھے۔ صدر اردوان نے وزیراعظم اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ جبکہ ترکیہ جانے سے قبل اسلام آباد میں وزیر اعظم سے انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران مزدوروں کے حقوق اور فلاح و بہبود سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہباز شریف نے پاکستان میں جمہوری اقدار کی تعریف کرتے ہوئے ملک میں مزدوروں اور کارکنوں کی بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کی عالمی سطح پر افرادی قوت کے حقوق کیلئے کوششیں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مسائل کے حل کیلئے پاکستان اور اس جیسے دیگر ممالک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی خصوصی مالی معاونت درکار ہوگی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر پاکستان میں مزدوروں اور کارکنوں کی حقوق کیلئے کام کر رہا ہے، حکومت ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ اور ورکر ویلفیئر فنڈ کا دائرہ کار بڑھا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ملازمین، کارکنوں اور افرادی قوت ان کے فوائد سے مستفید ہوسکیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی سطح پر نیشنل ووکیشنل ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور صوبائی سطح پر ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے کئی تربیتی پروگرام منعقد کروا رہے ہیں تاکہ ان کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارت دستیاب ہو۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم سے آزاد جموں و کشمیر کے وفد کی ملاقات ہوئی اور وفاقی حکومت کے آزاد کشمیر کیلئے جاری ترقیاتی پروگرام پر گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم سے چین سے تعلق رکھنے والی سپیس ٹیکنالوجی کمپنی ’’ گلیکسی سپیس‘‘ کے وفد نے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سپیس ٹیکنالوجی شعبے کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔ چین ہمارا انتہائی قابل اعتماد دوست اور سٹریٹجک شراکت دار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین کے ساتھ سپیس ٹیکنالوجی، سپیس سٹیلائیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن، سٹیلائیٹ انٹر نیٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم سے جمہوریہ روانڈا کے خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون کے وزیر اولیویئے جین پیٹرک ڈوہنجیریہے نے بھی ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے روانڈا کے ساتھ مختلف شعبوں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی تبادلوں میں باہمی طور پر مفید تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے روانڈا کو اسلام آباد میں اپنا مشن کھولنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ بزنس ٹو بزنس روابط سے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔



